چرچ حملے کے بعد اردن کے جنوبی شام میں فضائی حملے، دمشق سے اختلافات
اردن کا دعویٰ ہے کہ کارروائی میں داعش کے20سے زائد جنگجو مارے گئے، جبکہ شامی حکام نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دیتے ہوئے فضائی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اردن کی شاہی فضائیہ نے26اکتوبر2026کی شام جنوبی شام میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اردن میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر مہلک حملے کے چند روز بعد کی گئی، تاہم فضائی حملوں کے نتائج اور دمشق کے ساتھ رابطہ کاری پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف سامنے آگیا۔
اردنی فوج کے مطابق، فضائی کارروائی کا ہدف جنوبی شام میں مسلح گروہوں کے ٹھکانے اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ مقامات تھے۔ اردن نے ان گروہوں کو اپنے ملک میں چرچ پر ہونے والے حملے سے منسلک قرار دیا۔ شامی حکام نے اس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حملے پیشگی اطلاع یا باقاعدہ رابطہ کاری کے بغیر کیے گئے۔
کرک میں چرچ پر حملہ:نو افراد ہلاک
یہ کارروائی23اکتوبر کو اردن کے صوبے کرک کے گاؤں حمود، جسے بعض رپورٹس میں حمّود بھی لکھا گیا ہے، میں واقع سینٹ جارج چرچ پر فائرنگ کے بعد سامنے آئی۔ اطلاعات کے مطابق، مسلح حملہ آوروں نے ایک جنازے کی تقریب کے دوران فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور کم از کم34زخمی ہوگئے۔
اردن میں عبادت گاہوں پر اس نوعیت کے حملے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔ ملک میں مسیحی آبادی ایک چھوٹی اقلیت ہے، اس لیے چرچ پر حملے نے ملک بھر میں صدمے اور تشویش کو جنم دیا۔ واقعے کے بعد اردن میں سوگ کا اعلان کیا گیا، جبکہ شاہ عبداللہ دوم نے سکیورٹی اداروں کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
حملے کی تحقیقات کے دوران حکام نے کہا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور گرفتاریوں کے باوجود تحقیقات کا دائرہ بند نہیں کیا گیا۔
تین مشتبہ افراد گرفتار
اردن کے ڈائریکٹر برائے پبلک سکیورٹی میجر جنرل عبیداللہ المعایطہ کے مطابق، حکام نے حملے سے مبینہ تعلق رکھنے والے تین افراد کو گرفتار کیا۔ ان کی شناخت دو بھائیوں، حازہ زیدان محمد اور مشعل زیدان محمد، اور ان کے بہنوئی احمد سامی حسین کے طور پر بتائی گئی۔
رپورٹس کے مطابق، تینوں اردنی شہری اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی روز کی تلاش کے بعد سکیورٹی فورسز نے انہیں کرک کے علاقے الجدیدہ میں ایک متروک مکان سے تلاش کیا۔ حکام کے مطابق، گرفتاری کے دوران مزاحمت اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں مشتبہ افراد زخمی ہوئے اور بعدازاں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
اردنی حکام نے مشتبہ افراد کے نظریات کو انتہا پسندانہ اور تکفیری قرار دیا۔ بعض رپورٹس میں داعش، جسے آئی ایس آئی ایس، آئی ایس آئی ایل یا داعش کہا جاتا ہے، کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا ذکر بھی آیا۔ تاہم گرفتاری کے وقت اردنی حکام نے کہا تھا کہ انہیں کسی بیرونی نیٹ ورک سے واضح تعلق کے شواہد نہیں ملے تھے اور بظاہر مشتبہ افراد نے آزادانہ طور پر کارروائی کی تھی۔
جنوبی شام میں اردن کی فضائی کارروائی
اردنی مسلح افواج کے مطابق، فضائی حملوں میں جنوبی شام میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے کہا کہ لڑاکا طیاروں نے ان مقامات پر موجود پوزیشنوں، گاڑیوں اور سازوسامان کو تباہ کیا، جبکہ متعدد جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔
منگل کو اردن کے وزیر برائے سرکاری ابلاغ محمد المومنی نے کہا کہ ابتدائی نتائج کے مطابق داعش کے20سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے اور اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ تباہ کردیا گیا۔ ان کے مطابق، اہداف کا انتخاب انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تاکہ ممکنہ حد تک ایسے مقامات سے گریز کیا جائے جہاں شہریوں کی موجودگی معلوم تھی۔
المومنی نے شہری ہلاکتوں کے امکان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ تاہم اردن کے دعووں کے برعکس، شامی امدادی اداروں اور صحت کے حکام نے حملوں کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی۔
شامی حکام کا مؤقف:شہری ہلاکتیں اور خودمختاری کی خلاف ورزی
شامی سول ڈیفنس، جسے وائٹ ہیلمٹس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور صحت کے حکام کے مطابق، پیر کی شام درعا اور سویدا صوبوں کے دیہی علاقوں میں کم از کم چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق، حملوں کے بعد سات افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں تین بچے، ایک خاتون اور مرد شامل تھے۔
درعا کے گاؤں الطائی میں ایک خیمے پر حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد — ایک مرد، ایک خاتون اور تین بچے — ہلاک ہوئے۔ حکام نے دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی۔ ان اطلاعات کے مطابق، حملوں کے انسانی نتائج اردن کے بیان کردہ فوجی اہداف سے متعلق دعووں سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
شام کی حکومت اور وزارتِ خارجہ نے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی فضائی حدود اور قومی خودمختاری کی ناقابلِ قبول خلاف ورزی قرار دیا۔ شامی حکام کا کہنا تھا کہ کارروائی سے پہلے نہ مناسب اطلاع دی گئی اور نہ ہی ان کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔
دمشق نے واقعات کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی و فیلڈ سطح پر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
اردن اور شام کے بیانات میں تضاد
| موضوع | اردن کا مؤقف | شام کا مؤقف |
|---|---|---|
| فضائی کارروائی کا ہدف | مسلح گروہوں اور داعش سے وابستہ ٹھکانے | متعدد مقامات پر حملے، جن میں شہری نقصان ہوا |
| ہلاکتوں کی تعداد | ابتدائی دعوے کے مطابق20سے زائد داعش جنگجو ہلاک | سات لاشیں برآمد ہونے کی اطلاع، جن میں بچے اور خاتون شامل تھے |
| رابطہ کاری | اردنی فوج نے کہا کہ کارروائی دمشق کے ساتھ رابطہ کاری میں کی گئی | شامی حکام نے پیشگی رابطے یا اطلاع دینے کی تردید کی |
| خودمختاری | اردن نے کارروائی کو دہشت گردی کے خطرے کے خلاف دفاعی اقدام قرار دیا | شام نے اسے اپنی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کہا |
ان متضاد بیانات کے باعث کارروائی کے اصل نتائج، شہری نقصان اور دونوں حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری کی نوعیت پر سوالات اٹھے ہیں۔ ہلاکتوں سے متعلق دونوں جانب کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کے بغیر کسی ایک بیان کو حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نصیب سرحدی گزرگاہ بند
فضائی حملوں کے بعد شام نے نصیب سرحدی گزرگاہ بند کردی۔ یہ اردن اور شام کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔ شامی حکام نے بندش کی وجہ درعا میں زمینی صورتِ حال کو قرار دیا۔
سرحدی گزرگاہ کی بندش نے سکیورٹی کارروائی کے اثرات کو فوجی معاملات سے آگے بڑھا دیا، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، نقل و حمل اور سرحدی رابطوں کے لیے اس راستے کی اہمیت ہے۔
مشترکہ کمیٹی بنانے کا اشارہ
اردن نے بعدازاں اشارہ دیا کہ وہ شام کے ساتھ ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے گا تاکہ حالیہ واقعے پر بات چیت کی جا سکے اور دہشت گردی کے خلاف رابطہ کاری کا طریقۂ کار بہتر بنایا جا سکے۔ اردن نے شامی خودمختاری کے احترام کا مؤقف بھی دہرایا۔
تاہم، دمشق کی جانب سے فضائی حملوں پر سخت اعتراض اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اگر یہ اختلافات حل نہ ہوئے تو سرحدی سکیورٹی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
خطے کے لیے وسیع تر اثرات
اردن کی یہ کارروائی حالیہ عرصے میں شامی سرزمین کے اندر اس کی نسبتاً براہِ راست فوجی مداخلت کی نمایاں مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔ عمان نے اسے اپنے ملک میں ہونے والے مہلک حملے کے جواب اور مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدام کے طور پر پیش کیا۔
دوسری جانب، شہری ہلاکتوں کی اطلاعات اور شامی حکومت کی جانب سے خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام اس کارروائی کو ایک وسیع تر سفارتی مسئلہ بنا سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ریاستی خودمختاری کے احترام کے درمیان توازن دونوں حکومتوں کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔
فی الحال چرچ حملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ جنوبی شام میں فضائی کارروائی کے انسانی اور سفارتی نتائج پر بھی اختلاف برقرار ہے۔ آئندہ مشترکہ تحقیقات اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری ہی یہ واضح کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ واقعے کے بعد سرحدی سکیورٹی کا تعاون کس سمت آگے بڑھے گا۔
