عبدالسید نے ایمن الظواہری کے خلاف امریکی ڈرون حملے کو ’’پریشان کن‘‘ قرار دیا تھا
2022 کی ایک تحریر میں عبدالسید نے القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش سے جوڑا تھا۔ الظواہری نائن الیون سمیت متعدد مہلک حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار کے لیے معروف تھا۔
امریکی سیاسی شخصیت عبدالسید نے اگست2022میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ ان کے مطابق، صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس کارروائی کو افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
امریکی اخبار واشنگٹن فری بیکن کی27اکتوبر2026کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، عبدالسید نے یہ مؤقف امریکی جریدے دی نیو ریپبلک میں5اگست2022کو شائع ہونے والے اپنے مضمون میں پیش کیا تھا۔ مضمون کا عنوان تھا: ’’بیرونِ ملک طاقت کا مظاہرہ صرف دہشت گردوں کو مارنے کا نام نہیں، بلکہ آمرانہ حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہونے کا بھی معاملہ ہے۔‘‘
الظواہری اگست2022میں کابل میں امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ وہ القاعدہ کا سربراہ اور اسامہ بن لادن کے بعد تنظیم کا اہم ترین رہنما تھا۔ امریکہ اسے11ستمبر2001کے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے والوں میں شمار کرتا تھا۔
عبدالسید نے کارروائی کو ’’پریشان کن‘‘ کیوں کہا؟
اپنے مضمون میں عبدالسید نے لکھا تھا کہ بائیڈن اس حملے کو امریکہ کے اندر اپنی سیاسی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک اور امریکی صدر کو ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے بیانیے کے ذریعے اپنی کمزور ہوتی سیاسی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کرتے دیکھنا پریشان کن تھا۔
’’یہ پریشان کن ہے کہ ایک اور امریکی صدر اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے موضوعات کو دوبارہ استعمال کر رہا ہے۔‘‘
عبدالسید کے2022کے مضمون میں بیان کردہ مؤقف کا اردو ترجمہ۔
عبدالسید نے دلیل دی تھی کہ الظواہری کے خلاف کارروائی کا ایک مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی مشکلات سے توجہ ہٹانا تھا۔ اگست2021میں امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد بائیڈن انتظامیہ کو اندرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
عبدالسید کے نزدیک ڈرون حملے سے یہ پیغام بھی دیا جا رہا تھا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں بھی امریکہ دہشت گردی کے مشتبہ اہداف کے خلاف براہِ راست کارروائی کرسکتا ہے۔ انہوں نے اسے بائیڈن انتظامیہ کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند اقدام قرار دیا۔
’’سیاسی پردہ‘‘ قرار دینے کا مؤقف
عبدالسید نے اپنی تحریر میں الظواہری کی ہلاکت کو بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک ’’fig leaf‘‘ قرار دیا تھا۔ اس انگریزی محاورے سے مراد ایسا ظاہری جواز یا پردہ ہے جو کسی کمزوری یا ناکامی کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
ان کے مطابق، یہ کارروائی انتظامیہ کو یہ ظاہر کرنے کا موقع دے رہی تھی کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے باوجود امریکہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عبدالسید نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کارروائی سے ڈیموکریٹک پارٹی کو2022کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
الظواہری اور نائن الیون حملے
ایمن الظواہری کئی برس تک اسامہ بن لادن کے اہم ساتھیوں میں شامل رہا اور2011میں بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کا سربراہ بن گیا۔ دہشت گردی کے محققین اور امریکی حکام اسے تنظیم کی نظریاتی سمت اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرنے والا رہنما قرار دیتے رہے ہیں۔
11 ستمبر2001کے حملوں میں نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور پنسلوانیا میں تقریباً تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے الظواہری کی ہلاکت کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ نائن الیون کی منصوبہ بندی میں گہرائی سے ملوث تھا اور ان حملوں کے ذمہ دار اہم افراد میں شامل تھا۔
واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ میں صحافی لارنس رائٹ کی2002میں دی نیویارکر میں شائع ہونے والی تحریر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ رائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے لکھا تھا کہ الظواہری1993میں صومالیہ میں امریکی فوجیوں پر حملے،1998میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں،2000میں یمن کے قریب امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر حملے اور نائن الیون کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی سے منسلک تھا۔
رائٹ کی کتاب The Looming Tower، جو نائن الیون حملوں کے پس منظر اور القاعدہ کے عروج پر مبنی ہے، بعد میں پلٹزر انعام کی مستحق قرار پائی۔
سلیمانی اور انور العولقی کی ہلاکتوں پر بھی اعتراضات
واشنگٹن فری بیکن کے مطابق، الظواہری کے خلاف کارروائی پر عبدالسید کی تنقید ان کا پہلا ایسا بیان نہیں تھا جس میں انہوں نے کسی معروف عسکریت پسند یا دہشت گرد رہنما کو ہلاک کرنے کے امریکی اقدام پر اعتراض کیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عبدالسید نے خبردار کیا تھا کہ ’’پاگل کتے کو لات نہیں مارنی چاہیے۔‘‘ یہ جملہ فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج سے متعلق ان کے انتباہ کے طور پر نقل کیا گیا۔
اسی طرح، دسمبر2011میں ہفنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عبدالسید نے انور العولقی کو ڈرون حملے میں ہلاک کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ قرار دیا تھا۔ العولقی امریکی شہری تھا اور یمن میں موجود تھا؛ امریکی حکام اسے امریکہ کے خلاف دہشت گردانہ سازشوں سے منسلک قرار دیتے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مارچ2026میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی کے تناظر میں عبدالسید کی ایک ریکارڈنگ سامنے آئی، جس میں انہوں نے کہا کہ ڈیئربورن میں بہت سے لوگ اس دن اداس ہیں۔ یہ بیان بھی ان کے سیاسی مؤقف پر ہونے والی بحث کا حصہ بنا۔
عاصم غفور کے معاملے پر بھی حمایت
عبدالسید کے2022کے مضمون میں عاصم غفور کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ غفور اس وقت متحدہ عرب امارات میں منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے الزامات کے تحت قید تھے۔ عبدالسید نے ان الزامات کو مبینہ طور پر من گھڑت قرار دیتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ سے ان کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے بعد میں غفور کو رہا کردیا، تاہم ان کی سزا منسوخ نہیں کی گئی۔
واشنگٹن فری بیکن نے غفور کے ماضی میں گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کے ترجمان ہونے کا بھی ذکر کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اکتوبر2002میں اس فاؤنڈیشن کے بارے میں کہا تھا کہ اس کے القاعدہ، اسامہ بن لادن اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے روابط اور انہیں مدد فراہم کرنے کے شواہد موجود تھے۔ فاؤنڈیشن کو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات کے تناظر میں بند کردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں غفور کے کیئر انٹرنیشنل نامی ادارے سے سابقہ تعلق اور اس ادارے کے رہنماؤں کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان الزامات، متعلقہ مقدمات اور افراد کے کردار کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے؛ کسی ادارے یا شخص کے ساتھ سابقہ وابستگی بذاتِ خود کسی دوسرے شخص کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں کرتی۔
مسلم برادرہڈ سے مبینہ روابط پر سوالات
واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کے مطابق، عبدالسید کو مسلم برادرہڈ اور اسلامی انتہا پسندی سے متعلق مبینہ روابط کے بارے میں بھی سوالات کا سامنا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ عبدالسید کسی تنظیم سے وابستگی کی تردید کرتے ہیں، لیکن انہوں نے2012میں ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں مصر میں اقتدار حاصل کرنے والی تنظیم سے میڈیا اور پولیس کو ’’پاک‘‘ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں ان کی والدہ کے ایک ایسے فلاحی ادارے سے تعلق کا بھی ذکر کیا گیا جسے بعد میں القاعدہ سے مبینہ روابط کے باعث بند کردیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق، تحقیقات کے دوران ایف بی آئی نے ان کے گھر کی تلاشی بھی لی۔ اس کے علاوہ، عبدالسید کی بہن کی ایکس پوسٹس کا حوالہ دیا گیا جن میں خاندان کے مسلم برادرہڈ کے ساتھ دیرینہ روابط کا ذکر تھا۔
یہ دعوے رپورٹ میں بیان کردہ الزامات اور تعلقات سے متعلق سوالات ہیں۔ انہیں کسی فرد کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، جب تک متعلقہ شواہد اور قانونی نتائج اس کی تائید نہ کریں۔
امریکی دہشت گردی پالیسی پر بحث
الظواہری کے خلاف کارروائی پر عبدالسید کی تنقید ایک وسیع تر سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے:کیا دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں صرف قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت کی جاتی ہیں، یا ان کے سیاسی فوائد بھی ہوتے ہیں؟
امریکی حکومت نے الظواہری کی ہلاکت کو نائن الیون اور دیگر حملوں کے متاثرین کے لیے انصاف کی اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ اس کے برعکس، عبدالسید نے کارروائی کے وقت اور اس کے سیاسی استعمال پر اعتراض کیا۔ دونوں مؤقفوں کے درمیان اختلاف اس بحث کو نمایاں کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سلامتی، قانونی جواز، خارجہ پالیسی اور داخلی سیاست کو کس طرح متوازن رکھا جائے۔
الظواہری القاعدہ کا سربراہ تھا اور اسے متعدد مہلک حملوں کی منصوبہ بندی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اس کے خلاف کارروائی پر سیاسی تنقید اور اس کے کردار سے متعلق تاریخی شواہد دو الگ موضوعات ہیں۔ امریکی سیاست میں اس واقعے کی بحث کو سمجھنے کے لیے ان دونوں میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
