• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » عبدالسید نے القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت پر امریکی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا
امریکہ

عبدالسید نے القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت پر امریکی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 28, 2026Updated:اکتوبر 28, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
امریکی سیاست⁦|⁩دہشت گردی کے خلاف کارروائی

عبدالسید نے ایمن الظواہری کے خلاف امریکی ڈرون حملے کو ’’پریشان کن‘‘ قرار دیا تھا

2022 کی ایک تحریر میں عبدالسید نے القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش سے جوڑا تھا۔ الظواہری نائن الیون سمیت متعدد مہلک حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار کے لیے معروف تھا۔

امریکی سیاسی شخصیت عبدالسید نے اگست⁦2022⁩میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ ان کے مطابق، صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس کارروائی کو افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

امریکی اخبار واشنگٹن فری بیکن کی⁦27⁩اکتوبر⁦2026⁩کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، عبدالسید نے یہ مؤقف امریکی جریدے دی نیو ریپبلک میں⁦5⁩اگست⁦2022⁩کو شائع ہونے والے اپنے مضمون میں پیش کیا تھا۔ مضمون کا عنوان تھا: ’’بیرونِ ملک طاقت کا مظاہرہ صرف دہشت گردوں کو مارنے کا نام نہیں، بلکہ آمرانہ حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہونے کا بھی معاملہ ہے۔‘‘

الظواہری اگست⁦2022⁩میں کابل میں امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ وہ القاعدہ کا سربراہ اور اسامہ بن لادن کے بعد تنظیم کا اہم ترین رہنما تھا۔ امریکہ اسے⁦11⁩ستمبر⁦2001⁩کے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے والوں میں شمار کرتا تھا۔

عبدالسید نے کارروائی کو ’’پریشان کن‘‘ کیوں کہا؟

اپنے مضمون میں عبدالسید نے لکھا تھا کہ بائیڈن اس حملے کو امریکہ کے اندر اپنی سیاسی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک اور امریکی صدر کو ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے بیانیے کے ذریعے اپنی کمزور ہوتی سیاسی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کرتے دیکھنا پریشان کن تھا۔

’’یہ پریشان کن ہے کہ ایک اور امریکی صدر اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے موضوعات کو دوبارہ استعمال کر رہا ہے۔‘‘
عبدالسید کے⁦2022⁩کے مضمون میں بیان کردہ مؤقف کا اردو ترجمہ۔

عبدالسید نے دلیل دی تھی کہ الظواہری کے خلاف کارروائی کا ایک مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی مشکلات سے توجہ ہٹانا تھا۔ اگست⁦2021⁩میں امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد بائیڈن انتظامیہ کو اندرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عبدالسید کے نزدیک ڈرون حملے سے یہ پیغام بھی دیا جا رہا تھا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں بھی امریکہ دہشت گردی کے مشتبہ اہداف کے خلاف براہِ راست کارروائی کرسکتا ہے۔ انہوں نے اسے بائیڈن انتظامیہ کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند اقدام قرار دیا۔

’’سیاسی پردہ‘‘ قرار دینے کا مؤقف

عبدالسید نے اپنی تحریر میں الظواہری کی ہلاکت کو بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک ’’fig leaf‘‘ قرار دیا تھا۔ اس انگریزی محاورے سے مراد ایسا ظاہری جواز یا پردہ ہے جو کسی کمزوری یا ناکامی کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جائے۔

ان کے مطابق، یہ کارروائی انتظامیہ کو یہ ظاہر کرنے کا موقع دے رہی تھی کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے باوجود امریکہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عبدالسید نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کارروائی سے ڈیموکریٹک پارٹی کو⁦2022⁩کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سیاسی تناظر: الظواہری کے خلاف کارروائی اگست⁦2022⁩میں ہوئی، جب افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں پر بحث جاری تھی۔ عبدالسید نے اسی تناظر میں حملے کے سیاسی مقاصد پر سوال اٹھایا تھا؛ یہ ان کا تجزیہ تھا، کارروائی کے مقصد سے متعلق کوئی ثابت شدہ سرکاری نتیجہ نہیں۔

الظواہری اور نائن الیون حملے

ایمن الظواہری کئی برس تک اسامہ بن لادن کے اہم ساتھیوں میں شامل رہا اور⁦2011⁩میں بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کا سربراہ بن گیا۔ دہشت گردی کے محققین اور امریکی حکام اسے تنظیم کی نظریاتی سمت اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرنے والا رہنما قرار دیتے رہے ہیں۔

11 ستمبر⁦2001⁩کے حملوں میں نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور پنسلوانیا میں تقریباً تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے الظواہری کی ہلاکت کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ نائن الیون کی منصوبہ بندی میں گہرائی سے ملوث تھا اور ان حملوں کے ذمہ دار اہم افراد میں شامل تھا۔

واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ میں صحافی لارنس رائٹ کی⁦2002⁩میں دی نیویارکر میں شائع ہونے والی تحریر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ رائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے لکھا تھا کہ الظواہری⁦1993⁩میں صومالیہ میں امریکی فوجیوں پر حملے،⁦1998⁩میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں،⁦2000⁩میں یمن کے قریب امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر حملے اور نائن الیون کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی سے منسلک تھا۔

رائٹ کی کتاب The Looming Tower، جو نائن الیون حملوں کے پس منظر اور القاعدہ کے عروج پر مبنی ہے، بعد میں پلٹزر انعام کی مستحق قرار پائی۔

سلیمانی اور انور العولقی کی ہلاکتوں پر بھی اعتراضات

واشنگٹن فری بیکن کے مطابق، الظواہری کے خلاف کارروائی پر عبدالسید کی تنقید ان کا پہلا ایسا بیان نہیں تھا جس میں انہوں نے کسی معروف عسکریت پسند یا دہشت گرد رہنما کو ہلاک کرنے کے امریکی اقدام پر اعتراض کیا ہو۔

رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عبدالسید نے خبردار کیا تھا کہ ’’پاگل کتے کو لات نہیں مارنی چاہیے۔‘‘ یہ جملہ فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج سے متعلق ان کے انتباہ کے طور پر نقل کیا گیا۔

اسی طرح، دسمبر⁦2011⁩میں ہفنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عبدالسید نے انور العولقی کو ڈرون حملے میں ہلاک کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ قرار دیا تھا۔ العولقی امریکی شہری تھا اور یمن میں موجود تھا؛ امریکی حکام اسے امریکہ کے خلاف دہشت گردانہ سازشوں سے منسلک قرار دیتے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مارچ⁦2026⁩میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی کے تناظر میں عبدالسید کی ایک ریکارڈنگ سامنے آئی، جس میں انہوں نے کہا کہ ڈیئربورن میں بہت سے لوگ اس دن اداس ہیں۔ یہ بیان بھی ان کے سیاسی مؤقف پر ہونے والی بحث کا حصہ بنا۔

عاصم غفور کے معاملے پر بھی حمایت

عبدالسید کے⁦2022⁩کے مضمون میں عاصم غفور کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ غفور اس وقت متحدہ عرب امارات میں منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے الزامات کے تحت قید تھے۔ عبدالسید نے ان الزامات کو مبینہ طور پر من گھڑت قرار دیتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ سے ان کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے بعد میں غفور کو رہا کردیا، تاہم ان کی سزا منسوخ نہیں کی گئی۔

واشنگٹن فری بیکن نے غفور کے ماضی میں گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کے ترجمان ہونے کا بھی ذکر کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اکتوبر⁦2002⁩میں اس فاؤنڈیشن کے بارے میں کہا تھا کہ اس کے القاعدہ، اسامہ بن لادن اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے روابط اور انہیں مدد فراہم کرنے کے شواہد موجود تھے۔ فاؤنڈیشن کو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات کے تناظر میں بند کردیا گیا تھا۔

رپورٹ میں غفور کے کیئر انٹرنیشنل نامی ادارے سے سابقہ تعلق اور اس ادارے کے رہنماؤں کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان الزامات، متعلقہ مقدمات اور افراد کے کردار کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے؛ کسی ادارے یا شخص کے ساتھ سابقہ وابستگی بذاتِ خود کسی دوسرے شخص کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں کرتی۔

مسلم برادرہڈ سے مبینہ روابط پر سوالات

واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کے مطابق، عبدالسید کو مسلم برادرہڈ اور اسلامی انتہا پسندی سے متعلق مبینہ روابط کے بارے میں بھی سوالات کا سامنا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ عبدالسید کسی تنظیم سے وابستگی کی تردید کرتے ہیں، لیکن انہوں نے⁦2012⁩میں ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں مصر میں اقتدار حاصل کرنے والی تنظیم سے میڈیا اور پولیس کو ’’پاک‘‘ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں ان کی والدہ کے ایک ایسے فلاحی ادارے سے تعلق کا بھی ذکر کیا گیا جسے بعد میں القاعدہ سے مبینہ روابط کے باعث بند کردیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق، تحقیقات کے دوران ایف بی آئی نے ان کے گھر کی تلاشی بھی لی۔ اس کے علاوہ، عبدالسید کی بہن کی ایکس پوسٹس کا حوالہ دیا گیا جن میں خاندان کے مسلم برادرہڈ کے ساتھ دیرینہ روابط کا ذکر تھا۔

یہ دعوے رپورٹ میں بیان کردہ الزامات اور تعلقات سے متعلق سوالات ہیں۔ انہیں کسی فرد کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، جب تک متعلقہ شواہد اور قانونی نتائج اس کی تائید نہ کریں۔

امریکی دہشت گردی پالیسی پر بحث

الظواہری کے خلاف کارروائی پر عبدالسید کی تنقید ایک وسیع تر سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے⁦:⁩کیا دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں صرف قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت کی جاتی ہیں، یا ان کے سیاسی فوائد بھی ہوتے ہیں؟

امریکی حکومت نے الظواہری کی ہلاکت کو نائن الیون اور دیگر حملوں کے متاثرین کے لیے انصاف کی اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ اس کے برعکس، عبدالسید نے کارروائی کے وقت اور اس کے سیاسی استعمال پر اعتراض کیا۔ دونوں مؤقفوں کے درمیان اختلاف اس بحث کو نمایاں کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سلامتی، قانونی جواز، خارجہ پالیسی اور داخلی سیاست کو کس طرح متوازن رکھا جائے۔

الظواہری القاعدہ کا سربراہ تھا اور اسے متعدد مہلک حملوں کی منصوبہ بندی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اس کے خلاف کارروائی پر سیاسی تنقید اور اس کے کردار سے متعلق تاریخی شواہد دو الگ موضوعات ہیں۔ امریکی سیاست میں اس واقعے کی بحث کو سمجھنے کے لیے ان دونوں میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

عبدالسید، ایمن الظواہری، القاعدہ، نائن الیون، امریکی ڈرون حملہ، افغانستان، دہشت گردی، امریکی سیاست، مسلم برادرہڈ، جو بائیڈن
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleچرچ حملے کے بعد اردن کے جنوبی شام میں فضائی حملے
Next Article شہزادی ریما کا حوثیوں کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
امریکہ

امریکی وسط مدتی انتخابات

نومبر 3, 2026
امریکہ

مشی گان سے سینیٹ امیدوار مائیکل جوزف راجرز کی حمایت

نومبر 3, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.