"`html
شہزادی ریما کی حوثیوں کے خلاف عالمی کارروائی کی اپیل، علاقائی سلامتی کو خطرات سے خبردار
سعودی سفیر نے نیویارک ٹائمز میں اپنے مضمون میں حوثی تحریک کے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے، اسلحے کی اسمگلنگ روکنے اور باب المندب کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔
امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے حوثی تحریک کی سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گروہ کے عسکری اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔
منگل کے روز امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک رائے پر مبنی مضمون میں شہزادی ریما نے حوثیوں کے خلاف اسی نوعیت کے بین الاقوامی عزم پر زور دیا جس کے ذریعے، ان کے بقول، ماضی میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں۔
شہزادی ریما نے حوثی تحریک کو ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کی قیادت نے برسوں کے دوران اپنا عسکری نیٹ ورک مضبوط کیا، امن معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور جنگ بندیوں سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ اسلحہ جمع کیا۔ یہ الزامات ان کے مضمون میں پیش کیے گئے مؤقف کا حصہ ہیں۔
سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
شہزادی ریما کے مطابق، حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے تقریباً دو دہائیوں کے دوران ایران کی حمایت سے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ مارچ2016سے حوثیوں نے سعودی عرب کی سمت ایک ہزار سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔
سعودی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ حوثیوں کا خطرہ صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق، باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی عالمی تجارت کے لیے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے، کیونکہ ان کے مضمون کے مطابق دنیا کی تقریباً10فیصد تجارت اس اہم بحری راستے سے گزرتی ہے۔
تیل کی قیمتوں اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات
شہزادی ریما نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ اسی ماہ سعودی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے باعث تیل کی قیمتیں100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔ ان کے مطابق، حوثیوں کی سرگرمیوں اور بحری راستوں کو درپیش خطرات کے اثرات علاقائی حدود سے باہر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
توانائی کی منڈیوں پر کسی مخصوص حملے کے اثرات کا تعین کرتے وقت دیگر عوامل، عالمی طلب و رسد اور جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ شہزادی ریما نے اپنے مضمون میں حوثیوں کی کارروائیوں کو ان خدشات کے اہم اسباب میں شمار کیا۔
یمن کی حکومت کی حمایت اور فوجی کارروائیاں
سعودی عرب نے2015سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔ سعودی عرب یمن کے بڑے انسانی امدادی عطیہ دہندگان میں بھی شامل ہے۔
شہزادی ریما کے مضمون کے مطابق، یمنی حکومتی فورسز بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، الجوف اور مأرب میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جنہیں سعودی فضائی معاونت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے دوران حوثیوں کے لیے بھیجے جانے والے750ٹن سے زیادہ اسلحے کو قبضے میں لیا گیا۔
یہ دعوے سعودی سفیر کے مضمون میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ یمنی حکام یا دیگر معتبر ذرائع کی اطلاعات کا جائزہ ضروری ہوگا۔
حوثیوں کی جنگی معیشت ختم کرنے کا مطالبہ
شہزادی ریما نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف کارروائی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ان کے مالیاتی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مبینہ بھتہ خوری کے نیٹ ورکس، فرنٹ کمپنیوں اور مالی وسائل کے دیگر ذرائع کو ختم کرنے پر زور دیا۔
ان کے مطابق، سعودی عرب نے اپنے مالیاتی نظام کو حوثیوں اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پابندیوں کے نفاذ میں تعاون کر رہی ہے اور یمن کی حکومت کی جانب سے اسلحے اور رقوم ضبط کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔
سعودی سفیر نے دیگر ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ حوثیوں کی مالی معاونت کے ذرائع بند کریں، سمندری راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ روکیں اور یمنی حکومت کو اپنی سلامتی اور سیاسی ترجیحات کے حصول کے لیے درکار مدد فراہم کریں۔
حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل
شہزادی ریما نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں کہا کہ امریکہ پہلے ہی یہ اقدام کرچکا ہے اور دوسرے ممالک کو بھی اسی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔
دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی قانونی حیثیت اور اس کے نتائج ہر ملک کے قوانین اور متعلقہ سرکاری فیصلوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلوں سے پابندیوں، مالیاتی لین دین اور تنظیم سے وابستہ افراد یا اداروں کے خلاف قانونی اقدامات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
شہزادی ریما نے حوثیوں پر بچوں کی نظریاتی تربیت اور انہیں جنگ میں استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان کے مطابق، دس سال کی عمر کے بچوں سمیت طلبہ کو ایسے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے جن میں ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کا مفہوم شامل ہے، جبکہ ہزاروں بچوں کو لڑائی میں بھیجا گیا۔
بچوں کو مسلح تنازعات میں بھرتی کرنا اور استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ تاہم مضمون میں بیان کردہ مخصوص تعداد اور واقعات کی تصدیق کے لیے آزاد شواہد اور معتبر نگرانی کرنے والے اداروں کی رپورٹس اہم ہوں گی۔
داعش سے موازنہ اور عالمی اتحاد کی اپیل
شہزادی ریما نے حوثی تحریک کا موازنہ داعش سے کیا، خصوصاً اس دور سے جب داعش نے عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا اور نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق، عالمی برادری کو حوثیوں کے خطرے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے استدلال کیا کہ حوثیوں کو شکست دینے کے لیے یمن کی قیادت میں، بین الاقوامی حمایت سے چلنے والی مہم درکار ہوگی، جس کی مثال انہوں نے داعش کے خلاف قائم کیے گئے اتحاد سے دی۔
اس مؤقف کے تحت شہزادی ریما نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کی مالی معاونت روکیں، سمندر کے راستے اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کریں اور یمن کی حکومت کو مزید مؤثر مدد فراہم کریں۔
سیاسی حل کے لیے مسلح مہم کا خاتمہ ضروری قرار
شہزادی ریما کے مطابق، یمن میں پائیدار سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے حوثیوں کی مسلح مہم کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے خیال میں، جب تک اس گروہ کے عسکری وسائل، مالیاتی ذرائع اور بیرونی معاونت کے نیٹ ورکس پر قابو نہیں پایا جاتا، امن کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔
تاہم یمن کے تنازعے کا سیاسی حل صرف عسکری دباؤ پر منحصر نہیں ہوگا۔ پائیدار تصفیے کے لیے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات، شہریوں کا تحفظ، انسانی امداد کی رسائی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان رابطہ کاری بھی اہم عوامل ہیں۔
شہزادی ریما کا مضمون سعودی عرب کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ حوثیوں کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وسیع بین الاقوامی تعاون درکار ہے۔ اس کے ساتھ، یمن میں دیرپا امن کے امکانات کا جائزہ لیتے وقت عسکری اقدامات کے علاوہ سفارتی اور انسانی پہلوؤں کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔
