گلگت بلتستان کے معدنی ذخائر سے روزانہ15ارب روپے کا سونا چوری ہونے کا انکشاف
گلگت بلتستان قدرتی حسن، وسیع آبی ذخائر، گلیشیئرز، معدنی دولت اور پن بجلی کی غیرمعمولی صلاحیت رکھنے والا خطہ ہے۔ اس کے باوجود مقامی آبادی کو ان وسائل سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آزر نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خطے کے معدنی ذخائر سے روزانہ15ارب روپے مالیت کا سونا غیرقانونی طور پر نکالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں ایکسکیویٹرز معدنیات نکالنے میں مصروف ہیں، جبکہ مقامی آبادی اور حکومت کو اس سرگرمی سے مناسب مالی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
یہ دعویٰ قدرتی وسائل کے انتظام، غیرقانونی کان کنی کی روک تھام، شفاف نگرانی اور مقامی لوگوں کے حقوق سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ اس رقم کی آزادانہ تصدیق اور تفصیلی شواہد سامنے آنا ضروری ہے، لیکن بنیادی مسئلہ واضح ہے:اگر کسی خطے کے قدرتی وسائل سے بڑی معاشی سرگرمی جنم لے رہی ہو تو اس کے فوائد مقامی آبادی، خطے کی ترقی اور قومی معیشت تک شفاف انداز میں پہنچنے چاہییں۔

قدرتی دولت موجود، مگر مقامی فائدہ کہاں ہے؟
وزیراعلیٰ کے مطابق گلگت بلتستان سونے، چاندی، پلاٹینم گروپ کی دھاتوں، قیمتی جواہرات اور نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر رکھتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والے حقیقی فوائد اب تک مقامی آبادی تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ سکے۔ ان کے نزدیک غیرقانونی کان کنی کو روکنے اور معدنی وسائل کے تحفظ کے لیے موجودہ قانونی خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
معدنی دولت کسی خطے کے لیے روزگار، مقامی صنعت، ٹرانسپورٹ، فنی تربیت اور کاروباری مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن اگر کان کنی غیرقانونی طریقے سے ہو، آمدنی کا ریکارڈ شفاف نہ ہو یا خام مال مقامی قدر میں اضافے کے بغیر باہر منتقل ہوجائے تو مقامی آبادی کو اس دولت کا محدود حصہ ہی ملتا ہے۔ اس کے برعکس شفاف لائسنسنگ، قابلِ اعتماد نگرانی، ماحولیاتی ضوابط اور مقامی لوگوں کی شمولیت وسائل کو پائیدار ترقی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
امجد حسین آزر کے مطابق ان کی حکومت نے معدنی وسائل کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور مقامی مفادات کے تحفظ کے لیے منصوبہ بندی اور پالیسی تیار کی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی شفاف اور یکساں پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی کان کنی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور خام معدنی مواد کی منتقلی پر مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان:پاکستان کا آبی خزانہ
وزیراعلیٰ نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا واٹر ٹاور قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ہزاروں گلیشیئرز اور پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق پن بجلی کے منصوبوں پر توجہ دی جائے تو ملک کے لیے سستی بجلی پیدا کرنے اور صنعتی شعبے کو سہارا دینے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے خطے میں تقریباً50ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش کا دعویٰ بھی کیا۔
پاکستان کی معیشت کو درپیش توانائی کے مسائل میں بجلی کی قیمت، فراہمی کا تسلسل اور صنعتوں کے پیداواری اخراجات اہم عوامل ہیں۔ پن بجلی، مناسب منصوبہ بندی اور ماحول دوست توانائی کے منصوبے اس بحث کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کے لیے صرف قدرتی صلاحیت کافی نہیں؛ فزیبلٹی اسٹڈیز، مالیاتی منصوبہ بندی، ترسیلی نظام، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے حقوق کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے مطابق خطے میں پن بجلی پیدا کرنے کی ممکنہ گنجائش۔ اس صلاحیت کو عملی پیداوار میں بدلنے کے لیے منصوبوں کی فنی، مالی اور ماحولیاتی جانچ ضروری ہے۔
امجد حسین آزر نے دیامر بھاشا ڈیم کو ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اس کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے تعاون کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگی بجلی کے متبادل کے طور پر مقامی پن بجلی کی صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور ملکی ضروریات پوری ہونے کے بعد بجلی کی برآمد سے زرمبادلہ حاصل کرنے کے امکانات بھی زیرِ غور لائے جاسکتے ہیں۔

زیرِ التوا منصوبے اور بجلی کی مقامی ضرورت
وزیراعلیٰ نے ہنزل کے20میگاواٹ اور نلتر کے16میگاواٹ پاور منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق54میگاواٹ کے عطا آباد پاور منصوبے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل خطے میں بجلی کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، بشرطیکہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ ترسیل اور تقسیم کا نظام بھی مؤثر بنایا جائے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا توانائی کے لحاظ سے اہم خطے ہیں، لیکن واپڈا کا دفتر گلگت بلتستان میں نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ایسے انتظامی معاملات توانائی کے منصوبوں اور مقامی ضروریات کے درمیان رابطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حکومتوں کو منصوبوں کی پیش رفت، اخراجات، تاخیر کی وجوہات اور متوقع تکمیل کے بارے میں باقاعدہ عوامی معلومات فراہم کرنی چاہییں۔
سستی بجلی صرف صنعتوں کے لیے فائدہ مند نہیں؛ یہ چھوٹے کاروبار، گھریلو صارفین، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں اور سیاحت سے وابستہ کاروباروں کے اخراجات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے توانائی منصوبوں کی کامیابی کا پیمانہ محض میگاواٹ کی تعداد نہیں، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ بجلی کتنی قابلِ اعتماد ہے، اس کی قیمت کیا ہے اور مقامی لوگوں کو اس سے کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔
سیاحت کا بے پناہ امکان، مگر بنیادی سہولتوں کی کمی
گلگت بلتستان جغرافیائی، دفاعی اور سیاحتی اعتبار سے منفرد اہمیت رکھتا ہے۔ بلند پہاڑ، گلیشیئرز، جھیلیں، وادیاں اور قدرتی مناظر اسے مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔ وزیراعلیٰ امجد حسین آزر کا کہنا تھا کہ خطے میں سوئٹزرلینڈ سے بھی زیادہ سیاحتی صلاحیت موجود ہے، لیکن سیاحت کے فروغ کے لیے ضروری انفرا اسٹرکچر ابھی ناکافی ہے۔
انہوں نے سڑکوں، بجلی اور موبائل فون سگنلز میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ رابطوں کی کمزوری سیاحوں اور مقامی کاروباروں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان میں نئے ہوائی اڈوں کے قیام پر بھی توجہ دینی چاہیے، جبکہ چلاس ایئرپورٹ کو فعال بنانے کے لیے کام جاری ہے۔

سیاحت کو پائیدار صنعت بنانے کے لیے صرف خوب صورت مناظر کافی نہیں ہوتے۔ محفوظ سڑکیں، قابلِ اعتماد مواصلات، صحت اور ہنگامی امداد کی سہولتیں، صاف ستھرا ماحول، تربیت یافتہ مقامی رہنما اور معیاری رہائش بھی ضروری ہیں۔ اگر مقامی آبادی کو سیاحتی کاروبار میں شراکت، روزگار اور کاروبار کے مواقع ملیں تو اس صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی علاقے میں زیادہ دیر تک گردش کر سکتی ہے۔
سیاحت کی منصوبہ بندی میں ماحول کا تحفظ بھی بنیادی شرط ہونا چاہیے۔ بے قابو تعمیرات، فضلے کا ناقص انتظام اور قدرتی مقامات پر حد سے زیادہ دباؤ اسی خوب صورتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جو سیاحوں کو یہاں کھینچتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی برادریوں کی مشاورت اور قدرتی وسائل کی حفاظت کو شامل کرنا ضروری ہے۔
معدنی سرمایہ کاری:خوش آمدید، مگر عوامی مفاد مقدم
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چین میں متعدد کمپنیاں شراکت داری کے تحت کان کنی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور گلگت بلتستان کی حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری میں خطے کی ترقی اور مقامی آبادی کی خوش حالی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسی سرمایہ کاری قابلِ قبول نہیں جس میں کمپنیوں کو فائدہ پہنچے لیکن مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا نہ ہوں۔
غیرملکی سرمایہ کاری جدید ٹیکنالوجی، فنی مہارت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے واضح ہوں، لائسنسنگ کا عمل شفاف ہو، ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے اور مقامی ملازمتوں و تربیت کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ معدنیات سے متعلق آمدنی، رائلٹی اور دیگر مالی ادائیگیوں کی تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب ہوں تو اعتماد بھی بڑھ سکتا ہے۔
مقامی آبادی کو ترقیاتی عمل سے باہر رکھنے کے بجائے منصوبہ بندی، نگرانی اور فوائد کی تقسیم میں شریک کرنا چاہیے۔ کان کنی کے باعث زمین، پانی، چراگاہوں یا مقامی ماحول پر پڑنے والے اثرات کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ قدرتی دولت سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر تعلیم، صحت، فنی تربیت، سڑکوں اور صاف پانی پر خرچ ہو تو اس کے فوائد کئی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت بھی ضروری
ایک سوال کے جواب میں امجد حسین آزر نے کہا کہ صرف مضبوط دفاع کسی ملک کی ترقی کے لیے کافی نہیں؛ مضبوط دفاع کے ساتھ مستحکم معیشت بھی ضروری ہے۔ یہ نکتہ پاکستان کی وسیع تر معاشی بحث سے جڑا ہوا ہے، جہاں توانائی کی قیمت، صنعتی مسابقت، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی سہولتوں کی بہتری ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔
گلگت بلتستان جیسے وسائل سے مالا مال خطے کی ترقی کو قومی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا چاہیے۔ اگر معدنیات کی نگرانی مؤثر ہو، پن بجلی کے منصوبے ذمہ داری سے مکمل ہوں اور سیاحت کے لیے بنیادی سہولتیں بہتر بنائی جائیں تو یہ شعبے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم ہر منصوبے کے نتائج کو واضح اہداف، مالی شفافیت اور عوامی جواب دہی کے ذریعے جانچنا بھی ضروری ہوگا۔
تعلیم، فنی تربیت اور صحت میں سرمایہ کاری
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں دو یونیورسٹیاں ہیں اور کوشش ہے کہ اگلے سال سے میڈیکل کالج کام شروع کردے۔ انہوں نے ٹیکنیکل کالج کی کارکردگی بہتر بنانے اور500بستروں کے اسپتالوں کی تعمیر کا بھی ذکر کیا۔
قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو انسانی ترقی سے جوڑنا طویل مدتی خوش حالی کے لیے اہم ہے۔ معیاری تعلیم اور فنی تربیت مقامی نوجوانوں کو کان کنی، توانائی، تعمیرات، سیاحت، ماحولیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بہتر روزگار کے لیے تیار کر سکتی ہے۔ اسی طرح صحت کی سہولتوں میں سرمایہ کاری سے دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
اصل کامیابی:وسائل سے عوامی خوش حالی تک
گلگت بلتستان کے معدنی ذخائر، آبی وسائل اور سیاحتی امکانات پاکستان کے لیے اہم معاشی مواقع ہیں۔ مگر ان مواقع کو حقیقی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے محض قدرتی دولت یا بڑے منصوبوں کے اعلانات کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ غیرقانونی کان کنی کی روک تھام، معدنی پیداوار اور آمدنی کے شفاف اعداد و شمار، مقامی آبادی کے حقوق اور ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
اسی طرح پن بجلی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی، بہتر سڑکوں، مواصلاتی نظام، ہوائی رابطوں، صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری کو مربوط حکمتِ عملی کا حصہ بنانا چاہیے۔ وفاقی اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے درمیان واضح ذمہ داریوں اور باقاعدہ عوامی نگرانی سے منصوبوں کی پیش رفت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے روزانہ15ارب روپے کے سونے کی مبینہ غیرقانونی نکاسی کا دعویٰ مزید شفاف تحقیقات اور قابلِ تصدیق معلومات کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر اس نوعیت کی غیرقانونی سرگرمیاں ہو رہی ہیں تو ان کا سدباب قانون کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ سرمایہ کاری اور جائز کان کنی کو واضح ضابطوں کے تحت فروغ دیا جائے۔ گلگت بلتستان کی قدرتی دولت کا اصل معیار صرف اس کی مالی قدر نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس سے مقامی لوگوں کی زندگی کتنی بہتر ہوتی ہے اور پاکستان کی معیشت کو کتنا پائیدار فائدہ پہنچتا ہے۔
