مہنگائی، ذہنی صحت اور ترقی کا فریب
جب بنیادی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد ہی زندگی بن جائے تو ترقی کے دعووں کو انسانی سکون اور معیارِ زندگی کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
مہنگائی صرف بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا معاشرتی بحران بنتی جا رہی ہے جو انسان کی ذہنی صحت، خاندانی تعلقات، سماجی زندگی اور مستقبل سے وابستہ امیدوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ جب ایک عام آدمی کی آمدنی کا بیشتر حصہ گھر کا کرایہ، بجلی و گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو جائے تو زندگی محض گزارے کا نام بن جاتی ہے۔ انسان زندہ رہنے کی کوشش تو کرتا ہے، لیکن زندگی کو محسوس کرنے، اپنے لیے وقت نکالنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کی گنجائش مسلسل کم ہوتی جاتی ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ذہنی صحت پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں اس مسئلے کو صرف انفرادی پریشانی یا نفسیاتی کمزوری کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی جڑیں معاشی ناہمواری، بنیادی سہولیات تک عدم رسائی، روزگار کے غیر یقینی حالات اور ہمارے شہروں کے غیر متوازن طرزِ ترقی میں پیوست ہیں۔
ایک وقت تھا جب اچھی تنخواہ کو نسبتاً بہتر زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، لیکن آج ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ماہانہ کمانے والے بہت سے افراد بھی اپنے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ گھر کا کرایہ، راشن، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس، انٹرنیٹ، بچوں کی فیس اور والدین کی ادویات جیسے اخراجات مل کر آمدنی کا بڑا حصہ نگل جاتے ہیں۔ اگر گھر میں کوئی اچانک بیماری، تعلیمی خرچ یا دوسری ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو پورا بجٹ درہم برہم ہو سکتا ہے۔
مسئلہ صرف کم آمدنی کا نہیں، بلکہ آمدنی اور ضروری اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا ہے کیونکہ آمدنی کے حساب سے اخراجات کہیں زیادہ ہیں۔ جب انسان مسلسل حساب لگاتا رہے کہ اس ماہ کون سا بل ادا کرے، کس ضرورت کو مؤخر کرے اور کس خواہش کو قربان کرے تو اس کی ذہنی توانائی بھی اسی جدوجہد میں صرف ہونے لگتی ہے۔
مالی دباؤ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ ملازمت کرتا ہے، اضافی کام کرتا ہے، اپنی خواہشات محدود کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے یہ احساس رہتا ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے بجائے ایک ہی جگہ کھڑا ہے۔
جب زندگی مسلسل اخراجات کا حساب لگانے میں گزرنے لگے تو ذہنی توانائی بھی اسی جدوجہد میں صرف ہونے لگتی ہے۔
اور اگر ایک مقررہ تنخواہ پر زندگی گزارنے والے شخص کے لیے حالات اتنے مشکل ہیں تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کی صورتِ حال کا اندازہ لگانا کتنا دشوار ہوگا، جس کی آمدنی کام ملنے سے مشروط ہے۔ جس دن کام نہ ملے، اس دن گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ یہ سوال کسی معاشی رپورٹ کے اعدادوشمار سے کہیں بڑھ کر انسانی زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
بنیادی سہولیات بھی اب ایک مہنگی خریداری
کسی بھی معاشرے میں ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی اور ان تک منصفانہ رسائی یقینی بنانا شامل ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بجلی، پانی، گیس، تعلیم، صحت اور حتیٰ کہ انٹرنیٹ تک قابلِ اعتماد رسائی بھی بہت سے گھرانوں کے لیے ایک مستقل مالی مسئلہ بن چکی ہے۔
بجلی کا بل ادا کرنے کے باوجود لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا، پانی کے لیے ٹینکر خریدنا، گیس کی عدم دستیابی میں متبادل ایندھن پر خرچ کرنا، معیاری تعلیم کے لیے نجی اسکولوں کا رخ کرنا اور علاج کے لیے نجی اسپتالوں پر انحصار کرنا، یہ سب اخراجات عام آدمی کی آمدنی پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بنیادی سہولیات کتنی مہنگی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کی عدم دستیابی کا متبادل خریدنے کی ذمہ داری ریاست کے بجائے عوام پر آن پڑی ہے!
یوں بنیادی سہولیات تک رسائی بھی اس ملک میں طبقاتی فرق کو مزید گہرا کرتی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو بہتر پانی، تعلیم، علاج اور رہائش خرید سکتے ہیں، دوسری طرف وہ خاندان ہیں جو انہی ضروریات میں سے کسی ایک کو پورا کرنے کے لیے دوسری ضرورت قربان کرتے ہیں۔
جب زندگی کی تقریباً ہر بنیادی ضرورت کے ساتھ ایک مالی قیمت اور اس قیمت کو ادا کرنے کی مستقل فکر جڑ جائے تو ذہنی سکون ایک عام انسانی حق کے بجائے ایک ایسی آسائش بن جاتا ہے جو ہر کسی کو میسر نہیں۔
ملینیل نسل:ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی زندگی
اس صورتِ حال کا ایک نمایاں پہلو ملینیل نسل کی زندگی ہے، یعنی وہ افراد جو عموماً1981سے1996کے درمیان پیدا ہوئے۔ یہ نسل تعلیم مکمل کرنے، روزگار حاصل کرنے، گھر بنانے، شادی کرنے، بچوں کی پرورش اور والدین کی ذمہ داریاں نبھانے جیسے متعدد مراحل سے گزر رہی ہے۔
اس نسل کے بہت سے افراد ایک ایسے تضاد کا سامنا کر رہے ہیں جس میں ان سے معاشی طور پر مستحکم ہونے کی توقع تو کی جاتی ہے، لیکن استحکام حاصل کرنے کے لیے درکار مواقع اور وسائل ہر ایک کو یکساں طور پر میسر نہیں۔
ملازمت ہونے کے باوجود بچت نہ کر پانا، کئی برس کام کرنے کے بعد بھی اپنے گھر کی ملکیت سے محروم رہنا، مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کر سکنا اور والدین کی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرنا ایک مسلسل ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
اس کے ساتھ سماجی توقعات بھی موجود ہیں۔ معاشرہ کامیابی کو اکثر اچھی ملازمت، ذاتی گھر، گاڑی، شادی اور مالی آسودگی سے جوڑتا ہے، جو کہ قطعی طور پر کامیابی کی واحد وصف نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اپنی تمام تر محنت کے باوجود ان پیمانوں پر پورا نہیں اتر پاتا تو اسے صرف معاشی مشکلات ہی نہیں بلکہ سماجی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کسی ایک نسل تک محدود نہیں۔ ملینیل نسل کے ساتھ جنریشن زی، کم آمدنی والے گھرانے، خواتین، بے روزگار نوجوان اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد بھی مختلف انداز میں اس دباؤ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر طبقے کے پاس اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے وسائل یکساں نہیں۔
سندھ کی دیہی آبادی اور شہروں کی طرف ہجرت
سندھ کے تناظر میں اس مسئلے کی ایک اور اہم وجہ ہے:دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی۔
سندھ کے بہت سے خاندان بہتر تعلیم، علاج، روزگار، ٹرانسپورٹ اور دوسری سہولیات کی امید میں اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری مراکز کا رخ کرتے رہے ہیں۔ اس نقل مکانی کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی اور معاشی مواقع کی تلاش ان میں اہم ہیں۔
لوگ اپنے آبائی علاقوں سے صرف مکان تبدیل نہیں کرتے۔ وہ اپنے مانوس ماحول، رشتوں کے قریب رہنے کی سہولت، زمین سے تعلق، مقامی ثقافت اور زندگی کے اس طریقے سے بھی دور ہو جاتے ہیں جس میں ان کی شناخت تشکیل پاتی ہے۔
شہر پہنچ کر انہیں امید ہوتی ہے کہ بچوں کو بہتر تعلیم ملے گی، اسپتال قریب ہوگا، روزگار کے مواقع زیادہ ہوں گے اور زندگی نسبتاً آسان ہو جائے گی۔ لیکن بہت سے خاندانوں کے لیے شہری زندگی ایک نئی جدوجہد بن جاتی ہے۔ مہنگے کرائے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، آلودگی، ٹریفک، پانی کی قلت اور روزگار کے غیر یقینی حالات ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اگر اس نقل مکانی کے نتیجے میں طرزِ زندگی میں بہتری بھی نہ آئے اور گاؤں کی زندگی کے ساتھ روابط کمزور پڑ جائیں تو اس کا اثر فرد کی ذہنی کیفیت اور خاندان کے مجموعی سکون پر پڑ سکتا ہے۔
اگر لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کریں، لیکن شہروں میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم رہیں، تو اس ترقی کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟
ترقی یافتہ شہر، مگر سانس لینے کے لیے صاف ہوا بھی نہیں!
ہماری ترقی کے تصور میں اکثر بلند عمارتیں، نئی سڑکیں، بڑے تجارتی مراکز، مہنگے رہائشی منصوبے اور جدید طرزِ زندگی نمایاں ہوتے ہیں۔ لیکن ترقی کا اصل پیمانہ صرف تعمیرات اور ظاہری خوب صورتی نہیں ہونا چاہیے۔
ایک ایسا شہر جہاں رہائش عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو، پانی کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑے، ہوا آلودہ ہو، سفر میں کئی گھنٹے صرف ہوں اور بنیادی ضروریات کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑے، وہاں ترقی کے دعووں کا انسانی زندگی کے معیار کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہے۔
صاف ہوا اور محفوظ ماحول محض قدرتی وسائل نہیں، بلکہ انسانی صحت اور سکون سے جڑے بنیادی عوامل ہیں۔ شور، ٹریفک، فضائی آلودگی، سبز جگہوں کی کمی اور روزانہ طویل سفر انسان کی تھکن اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ جب انسان کو آرام، ورزش، فطرت سے قربت اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع کم ملیں تو زندگی کا توازن متاثر ہوتا ہے۔
شہر میں رہنے والے بہت سے افراد کی زندگی گھر سے دفتر، دفتر سے گھر اور پھر اگلے دن اسی معمول کو دہرانے تک محدود ہو جاتی ہے۔ اس دوران تفریح، مطالعے، دوستوں سے ملاقات، ثقافتی سرگرمیوں اور ذاتی دلچسپیوں کے لیے وقت اور وسائل کم پڑ جاتے ہیں۔
یہ وہ پہلو ہے جس پر ہمارے ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شہری ترقی کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ شہر کتنا پھیل گیا، بلکہ یہ بھی کہ اس میں رہنے والے انسان کتنی بہتر، صحت مند اور باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔
جنریشن زی اور اپنی جڑوں کی طرف واپسی
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف گزشتہ نسلوں کے بہت سے خاندان بہتر سہولیات کی تلاش میں دیہات سے شہروں کی طرف آئے، تو دوسری طرف آج جنریشن زی کے نوجوان دیہی زندگی، فطرت، مقامی ثقافت اور اپنے آبائی علاقوں کی طرف نئی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس رجحان کو ہر نوجوان یا پوری نسل کی اجتماعی واپسی قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن فطرت کے قریب رہنے، سادہ زندگی اختیار کرنے، مقامی ثقافت کو سمجھنے اور غیر ضروری صارفیت سے فاصلے کی خواہش کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا پر دیہی زندگی، کھیتوں، دریاؤں، پہاڑوں، گاؤں کے گھروں اور مقامی ثقافت کی طرف بڑھتی ہوئی دلچسپی ایک ایسے طرزِ زندگی کی تلاش کی عکاسی کرتی ہے جس میں انسان صرف کمانے اور خرچ کرنے والی مشین نہ بن جائے۔
سندھ کے تناظر میں یہ سوال خاص اہمیت رکھتا ہے کہ گاؤں کی زندگی میں موجود وہ سماجی تعلقات، ثقافتی وابستگی اور فطرت سے قربت ہمیں ایسا سکون دے سکتے ہیں جو جدید شہری زندگی میں اب مشکل دکھائی دیتا ہے۔
میں یہاں دیہی زندگی کو بالکل رومانوی انداز میں پیش نہیں کر رہا۔ بہت سے دیہی علاقوں میں صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، خواتین کے مواقع، روزگار اور ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل موجود ہیں۔
اصل ضرورت دیہات اور شہروں کے درمیان انتخاب کو مجبوری بنانے کے بجائے دونوں جگہوں پر باوقار زندگی کے مواقع پیدا کرنے کی ہے۔
ہمیں کس قسم کی ترقی چاہیے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے اپنے تصور پر دوبارہ غور کریں۔ ایسی ترقی جس میں عمارتیں تو بلند ہوں، لیکن عام آدمی کی زندگی مشکل ہو؛ سڑکیں تو کشادہ ہوں، مگر سفر میں سکون نہ ہو؛ شہروں کی آبادی بڑھتی جائے، مگر صاف پانی اور ہوا میسر نہ ہو؛ اور آمدنی بڑھنے کے باوجود بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل رہے، تو اس کمرشل ترقی کے انسانی نتائج کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
ریاستی اداروں اور حکومتوں کو بنیادی سہولیات کی قابلِ اعتماد فراہمی، سرکاری تعلیم و صحت کے معیار، صاف پانی، فضائی آلودگی میں کمی، عوامی ٹرانسپورٹ اور روزگار کے بہتر مواقع کو ترجیح دینی چاہیے۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں سہولیات اور معاشی مواقع کی بہتری بھی ضروری ہے تاکہ نقل مکانی مجبوری کے بجائے ایک حقیقی انتخاب بن سکے۔
اسی طرح ذہنی صحت کی خدمات کو قابلِ رسائی اور کم خرچ بنانے، کام کی جگہوں پر صحت مند ماحول پیدا کرنے اور مالی دباؤ کے بارے میں سماجی سطح پر آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم ایسی زندگی چاہتے ہیں جس میں انسان ترقی کے لیے مسلسل دوڑتا رہے، یا ایسی جو انسان کو جینے، سوچنے، رشتے نبھانے، فطرت سے جڑنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کا موقع بھی دے؟
بالآخر سوال یہ نہیں کہ ہم جدید زندگی سے پیچھے جانا چاہتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ایسی زندگی چاہتے ہیں جس میں انسان ترقی کے لیے مسلسل دوڑتا رہے، یا ایسی جو انسان کو جینے، سوچنے، رشتے نبھانے، فطرت سے جڑنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کا موقع بھی دے؟
سندھ کے گاؤں ہوں یا کراچی جیسے بڑے شہر، ہر انسان کو صاف پانی، صاف ہوا، معیاری تعلیم، مناسب علاج، روزگار اور باوقار زندگی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ کسی شخص کو صرف بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے اپنی جڑوں سے محروم نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی شہر میں رہنے کی قیمت اپنی ذہنی صحت اور زندگی کے سکون سے ادا کرنی چاہیے۔
شاید اب ہمیں ترقی کی رفتار سے زیادہ زندگی کے معیار پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر انسان کے پاس کمانے کے لیے روزگار تو ہو، مگر سکون سے جینے کے لیے وقت، وسائل اور ماحول نہ ہو، تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم آخر کس منزل کی طرف جا رہے ہیں۔
