• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » اداریہ⁦:⁩اسرائیل، جدید جمہوریت
اداریہ

اداریہ⁦:⁩اسرائیل، جدید جمہوریت

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 30, 2026Updated:اکتوبر 30, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
اداریہ

اسرائیل⁦:⁩ایک جدید جمہوریت، انتخابات، عرب اور مسلمان

اسرائیلی سیاست، پارلیمانی جمہوریت اور عرب و مسلم شہریوں کی انتخابی و سماجی شرکت کا ایک جائزہ
حسن مجتبیٰ

اداریہ
حسن مجتبیٰ
مدیر اعلیٰ، نیو یارک اُردو

اگر امریکہ کو دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت کہا جاتا ہے، اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، تو میں اسرائیل کو دنیا کی جدید جمہوریت کہوں گا۔ کیونکہ اسرائیل کے اندر، اسرائیلی سیاست اور سماج میں، پارلیمان یعنی کنیسیٹ میں اسرائیلی جمہوریت مضبوط، مثالی اور پنپنے والی ہے۔

جنگ ہو، دہشت گردی، قدرتی آفات یا انسانوں کی پیدا کردہ آفات، لیکن اسرائیل میں انتخابات کا انعقاد وقت پر اور منصفانہ و غیر جانب دارانہ ہوتا ہے۔ پھر چاہے کوئی بھی پارٹی کنیسیٹ⁦(⁩پارلیمان⁦)⁩میں اکثریت حاصل کرکے حکومت تشکیل دے۔ اسرائیل جیسے قدیم تہذیب اور جدید جمہوریت کے حامل، ترقی یافتہ اور ترقی پسند تمدن میں، پھر وہ لیکوڈ پارٹی ہو کہ لیبر پارٹی، عرب مسلم یا عرب عیسائی جماعتیں اور ان بڑی یا چھوٹی پارٹیوں کے اتحادی، وزیر اعظم سمیت سب پارلیمان اور عدلیہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔

اسرائیل میں بیس فی صد مسلمان آباد ہیں، پھر وہ فلسطینی ہوں، دیگر النسل ہوں یا بدوی۔ شاید اسرائیل سے باہر رہنے والے مسلمانوں اور دیگر عوام کو پتہ نہ ہو کہ اسرائیل کے اسپتالوں اور دیگر صحت کے شعبوں میں پچاس فی صد ڈاکٹر اور نرسیں عرب النسل ہیں۔ یہودی ہوں کہ عرب یا فلسطینی، یہ سب اسرائیلی شہری ہیں۔ اسرائیلی فوج میں بھی اچھی خاصی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ اسرائیل ایک وسیع المشرب، کثیرالعقیدہ، کثیرالثقافت، کثیرالنسل اور مختلف نظریات رکھنے والی ریاست ہے۔

اسرائیلی انتخابات اور عرب جماعتوں کی نمائندگی

اسی جمہوری اور روادار اسرائیل کا عکس حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات سے بھی ابھرتا ہے یا اظہر من الشمس ہے، جبکہ مسلمانوں کی اسرائیل میں دو اہم جماعتیں انیس نشستیں جیت کر آئی ہیں۔ ان جماعتوں میں سے بارہ نشستیں بائیں بازو اور لبرل رجحانات پر مشتمل تین جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ نے جیتی ہیں، جس میں حدش، تعال اور بلد شامل ہیں۔ اس انتخابی اتحاد میں مسلم اور غیر مسلم عرب دونوں شامل ہیں۔ دوسرا اتحاد منصور عباس کی رام پارٹی کا ہے، جس نے سات نشستیں حاصل کی ہیں۔ منصور عباس اور ان کی پارٹی پہلے سے ہی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت میں بھی شامل رہی ہے۔ منصور عباس کی پارٹی کا منشور اور سیاست اسرائیل کے مقامی مسائل کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

عربوں اور فلسطینیوں، مسلم و غیر مسلم کے علاوہ تیسری بڑی اقلیتی آبادی دروزوں کی بھی ہے۔ یہ نسلی گروہ اسرائیل کی سیاست، سماج اور انتخابات میں اپنی بھرپور شمولیت سے سرگرم رہتے آئے ہیں۔ لیکن ان کی جیت پر اسرائیل سے باہر، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور اس میں بھی پیارے پاکستان میں شادیانے اب بجائے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ خبر وہاں بڑی دیر سے پہنچی ہے۔ جبکہ اسرائیل میں یہودی ہوں کہ عرب، ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے پہلے ہی دن سے شریک ہوتے آئے ہیں۔

چلو، یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ اسرائیل سے باہر مسلم دنیا میں اور خاص طور پر پیارے پاکستان میں اسرائیلی مسلمانوں یا عرب جماعتوں کی جیت پر شادیانے بجنا اس بات کا غماز ہے کہ اگر اسرائیلی انتخابات اور ان کے نتائج قانونی ہیں تو ریاست اسرائیل بھی لاریب قانونی ہے۔ اور اسی طرح عوامی سطح پر ایک دوسرے کو سمجھنے اور ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔

فی الحال اسرائیل میں یہودی ہوں کہ عرب مسلمان، مسیحی، صوفی منش دروز یا بہائی، سب دنیا میں اسرائیل کی جدید جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

حسن مجتبیٰ
مدیر اعلیٰ — نیو یارک اُردو
اسرائیل، اسرائیلی انتخابات، عرب مسلمان، حسن مجتبیٰ، اسرائیلی جمہوریت، کنیسیٹ، منصور عباس، دروز، مشرق وسطیٰ، عرب سیاست حسن مجتبیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleامریکہ، ایران پھر بڑی جنگ کے دہانے پر
Next Article اسرائیلی انتخابات میں غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

مندائین⁦-⁩قدیم ترین مذہب کے آخری لوگ اور ان کی شاعرہ

نومبر 3, 2026
مضمون/کالم

عالیہ شاہ کو موت کی دھمکیاں

نومبر 2, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.