اسرائیل:ایک جدید جمہوریت، انتخابات، عرب اور مسلمان
اگر امریکہ کو دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت کہا جاتا ہے، اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، تو میں اسرائیل کو دنیا کی جدید جمہوریت کہوں گا۔ کیونکہ اسرائیل کے اندر، اسرائیلی سیاست اور سماج میں، پارلیمان یعنی کنیسیٹ میں اسرائیلی جمہوریت مضبوط، مثالی اور پنپنے والی ہے۔
جنگ ہو، دہشت گردی، قدرتی آفات یا انسانوں کی پیدا کردہ آفات، لیکن اسرائیل میں انتخابات کا انعقاد وقت پر اور منصفانہ و غیر جانب دارانہ ہوتا ہے۔ پھر چاہے کوئی بھی پارٹی کنیسیٹ(پارلیمان)میں اکثریت حاصل کرکے حکومت تشکیل دے۔ اسرائیل جیسے قدیم تہذیب اور جدید جمہوریت کے حامل، ترقی یافتہ اور ترقی پسند تمدن میں، پھر وہ لیکوڈ پارٹی ہو کہ لیبر پارٹی، عرب مسلم یا عرب عیسائی جماعتیں اور ان بڑی یا چھوٹی پارٹیوں کے اتحادی، وزیر اعظم سمیت سب پارلیمان اور عدلیہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔
اسرائیل میں بیس فی صد مسلمان آباد ہیں، پھر وہ فلسطینی ہوں، دیگر النسل ہوں یا بدوی۔ شاید اسرائیل سے باہر رہنے والے مسلمانوں اور دیگر عوام کو پتہ نہ ہو کہ اسرائیل کے اسپتالوں اور دیگر صحت کے شعبوں میں پچاس فی صد ڈاکٹر اور نرسیں عرب النسل ہیں۔ یہودی ہوں کہ عرب یا فلسطینی، یہ سب اسرائیلی شہری ہیں۔ اسرائیلی فوج میں بھی اچھی خاصی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ اسرائیل ایک وسیع المشرب، کثیرالعقیدہ، کثیرالثقافت، کثیرالنسل اور مختلف نظریات رکھنے والی ریاست ہے۔
اسرائیلی انتخابات اور عرب جماعتوں کی نمائندگی
اسی جمہوری اور روادار اسرائیل کا عکس حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات سے بھی ابھرتا ہے یا اظہر من الشمس ہے، جبکہ مسلمانوں کی اسرائیل میں دو اہم جماعتیں انیس نشستیں جیت کر آئی ہیں۔ ان جماعتوں میں سے بارہ نشستیں بائیں بازو اور لبرل رجحانات پر مشتمل تین جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ نے جیتی ہیں، جس میں حدش، تعال اور بلد شامل ہیں۔ اس انتخابی اتحاد میں مسلم اور غیر مسلم عرب دونوں شامل ہیں۔ دوسرا اتحاد منصور عباس کی رام پارٹی کا ہے، جس نے سات نشستیں حاصل کی ہیں۔ منصور عباس اور ان کی پارٹی پہلے سے ہی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت میں بھی شامل رہی ہے۔ منصور عباس کی پارٹی کا منشور اور سیاست اسرائیل کے مقامی مسائل کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
عربوں اور فلسطینیوں، مسلم و غیر مسلم کے علاوہ تیسری بڑی اقلیتی آبادی دروزوں کی بھی ہے۔ یہ نسلی گروہ اسرائیل کی سیاست، سماج اور انتخابات میں اپنی بھرپور شمولیت سے سرگرم رہتے آئے ہیں۔ لیکن ان کی جیت پر اسرائیل سے باہر، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور اس میں بھی پیارے پاکستان میں شادیانے اب بجائے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ خبر وہاں بڑی دیر سے پہنچی ہے۔ جبکہ اسرائیل میں یہودی ہوں کہ عرب، ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے پہلے ہی دن سے شریک ہوتے آئے ہیں۔
چلو، یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ اسرائیل سے باہر مسلم دنیا میں اور خاص طور پر پیارے پاکستان میں اسرائیلی مسلمانوں یا عرب جماعتوں کی جیت پر شادیانے بجنا اس بات کا غماز ہے کہ اگر اسرائیلی انتخابات اور ان کے نتائج قانونی ہیں تو ریاست اسرائیل بھی لاریب قانونی ہے۔ اور اسی طرح عوامی سطح پر ایک دوسرے کو سمجھنے اور ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔
