صحافی عالیہ شاہ کو موت کی دھمکیاں:آزادیِ اظہار اور سلامتی کا سوال
عالیہ شاہ ایک معروف صحافی، لکھاری اور یوٹیوبر ہیں جو کیلیفورنیا میں رہتی ہیں۔ عالیہ شاہ اپنے خیالات، سوچ بچار اور ان کے اظہار، سامیت دشمنی اور یہود دشمنی کے خلاف مؤقف، نیز اسرائیل دوست نظریات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ اپنے یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات کے بے لاگ اور جرأت مندانہ اظہار، نیز مہمانوں سے اختلاف اور اتفاق کے باعث وہ مثبت و منفی تبصرے وصول کرتی رہتی ہیں۔ ایک سچے لکھاری، صحافی، یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے لیے اس سے بڑی میراث اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس کی آواز لوگوں کو سوچنے، اختلاف کرنے اور مکالمے پر آمادہ کرے۔
لیکن یہ بات انتہائی تشویش کا باعث بن جاتی ہے جب محض اپنے پروگراموں میں اپنے خیالات اور سچ بیان کرنے کے نتیجے میں عالیہ شاہ کو موت کی دھمکیاں ملنے لگیں اور ان کی زندگی کو لاحق خطرات بڑھ جائیں۔
یہی کچھ حالیہ دنوں میں عالیہ شاہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ انہیں اپنے یوٹیوب چینل ’’بریکنگ دی بیریئر‘‘ پر اسرائیل میں حالیہ انتخابات اور اس سے قبل سامیت دشمنی یا یہود دشمنی کے خلاف پروگرام کرنے پر پاکستان سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے سنگین نوعیت کی موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ یہ انتہائی گمبھیر اور تشویشناک صورتحال ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسی نوعیت کی دھمکیاں پاکستان میں ہمارے ساتھی صحافی اور دوست امتیاز میر کو بھی دی گئی تھیں، جنہیں بدقسمتی سے پاکستان میں قتل کردیا گیا۔ مغلظات کا تو کوئی شمار ہی نہیں؛ یہ ایسے انتہا پسند اور دہشت پسند افراد یا گروہوں کا خاصہ ہے۔
کہ بحرِ علم و آگہی میں دوڑا دیے ظلمات کے گھوڑے ہم نے۔
’’کون تمہارا باپ ہے جس نے بچپن میں تمہارے ساتھ ریپ کیا اور تمہیں حاملہ کیا؟‘‘ ایسے جملے اس آن لائن بدزبانی کے نمونے ہیں۔ یا پھر ’’کافر رنڈی‘‘ جیسے توہین آمیز الفاظ۔
لیکن جب موت کی دھمکیاں اس زبان میں ملیں:
’’تمہارے جیسی ہندوؤں کی طوائف کے لیے سزائے موت ہونی چاہیے۔‘‘
اور پھر ایکس پر ایسی دھمکی کو ہزاروں لائیکس بھی ملیں تو معاملے کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کی موت کی دھمکیاں ایران کی طالبہ نجمہ امینی کو بھی دی گئی تھیں۔
’’اسرائیلی ایجنٹ، چند شیکل پر فروخت شدہ صحافی‘‘، ’’صیہونی فضلہ‘‘ اور ’’یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے‘‘۔ اس طرح کی گوبر افشانی تو عالیہ اور ہم جیسے لوگوں کے لیے اس راہِ وفا میں جھولی میں سمٹے ہوئے انگاروں کا سفر ہے۔ یہ الفاظ ان لوگوں کی جانب سے بھی اچھالے جاتے رہے ہیں جن کے لیے کبھی اولادِ ابراہیم کے درمیان نفرت کے بجائے محبت اور ہم آہنگی کا گلستان بننا ہے۔
لیکن عالیہ شاہ کو دی جانے والی موت کی دھمکیاں اور نفرت انگیز پوسٹس محض سوشل میڈیا کی بدزبانی کا معاملہ نہیں۔ ان کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور نیشنل سائبر کرائم سے متعلقہ حکام تک معاملہ پہنچانا اور ان سے تحقیقات کا مطالبہ ضروری ہے۔
ہم نے سنا اور دیکھا ہے کہ یورپ میں بھی اس طرح کی دھمکیاں پاکستان کے سیاسی منحرفین اور جلاوطن افراد، بالخصوص وقاص گورایہ اور ان کے ساتھیوں کو دی گئی تھیں۔ ان کے خلاف حملے کی سازش کا بھی انکشاف ہوا، اور اس گھناؤنی سازش میں ملوث افراد کے خلاف لندن میں مقدمہ چلا اور انہیں سزائیں بھی ہوئیں۔
لیکن اب ایک اور پاکستانی سیاسی منحرف، جلاوطن صحافی، لکھاری اور یوٹیوبر عالیہ شاہ کو امریکہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے قتل کی دھمکیاں ملنا ایک ایسا معاملہ ہے جو فوری اور شفاف تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔ امریکی حکام کو ان دھمکیوں کے ذرائع، ان کے پیچھے موجود افراد اور ممکنہ خطرات کا تعین کرنا چاہیے۔ ذمہ داروں کو امریکی نظامِ انصاف کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے اور عالیہ شاہ اور ان کے اہلِ خانہ کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
آزادیِ اظہار کا حق کسی سے اختلاف کرنے کا حق ضرور دیتا ہے، لیکن کسی کی جان لینے کی دھمکی دینے کا حق ہرگز نہیں۔ صحافت کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، گولی، گالی اور قتل کی دھمکی سے نہیں۔ عالیہ شاہ کی سلامتی محض ایک صحافی کی سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ آزاد صحافت، انسانی وقار اور اختلافِ رائے کے بنیادی حق کا امتحان بھی ہے۔
