مندائین — قدیم ترین مذہب کے آخری لوگ اور ان کی شاعرہ
اس قدیم ترین لیکن اب مرتے ہوئے مذہب کی آخری شاعرہ لامیا عباس عمارہ کا تعلق عراق کے اس قدیم ترین مذہب کے ماننے والے مندائی یا مندائین لوگوں سے ہے، جن کی دنیا میں آبادی بمشکل ایک لاکھ ہوگی اور جو اب عراق میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں ناپید اور خطرے میں گھری ہوئی انسانی مخلوق بنے ہوئے ہیں۔
مندائینز سوسائٹی آف امریکہ نے شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا: ’انہیں قتل کیا جا رہا ہے، ان کی عورتوں کو ریپ کیا جا رہا ہے، حاملہ عورتوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں، معذور بچوں کو بھی مارا جا رہا ہے اور باقی جو مندائین بچ گئے ہیں انہیں زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے۔‘
آگ کا گولہ اور کشتۂ خون بنے ہوئے عراق سے ہزاروں میل پرے کیلیفورنیا کے چھوٹے سے شہر لامیسا میں، میں نے اس عراقی جلاوطن شاعرہ کو ڈھونڈ نکالا۔ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں خاموشی اور اسے توڑتی ہوئی پرندوں کی چہچہاہٹ بھی ایسی کہ اچھا خاصا آدمی بھی شاعر بن جائے۔ لیکن اب میڈیا والوں نے اس کا گھر دیکھ لیا ہے!
’اہلاً وسہلاً یا حبیبی!‘ اس نے اپنے اپارٹمنٹ میں بڑی پرتپاکی سے میری آؤ بھگت عربی میں کی اور پھر عراقی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھ سے چائے، پانی یا کافی کا پوچھا۔
لامیا عباس عمارہ
پھر اس نے کہا ’ہم شاعر لوگ ہیں ہمیں ٹیکنالوجی سے کیا!‘
ایک قدیمی لیکن لکڑی کے خوبصورت صندوق، تصاویر، کتابوں اور کئی سووینئرز اور اعزازات سے سجے اپنے لیونگ روم(ڈرائنگ روم)سے وہ کہیں ہزاروں میل اور ہزاروں سال دور جا پہنچی۔
’میرا تعلق عراق کی اقلیت سے ہے۔ ہم مندائین لوگ عیسائیت اور یہودیت سے بھی بہت پہلے کے ہیں۔‘
آدم کی تعلیمات سے شروع ہونے والا عقیدہ
عراق، اہواز(آج کے ایران)یا خوزستان میں بسنے والے مندائین لوگوں کی تاریخ عراقی شاعرہ سال سنہ ستر عیسوی سے بتاتی ہیں۔ پھر کہتی ہیں ’ہمارا عقیدہ آدم کی تعلیمات سے شروع ہوا۔ ہم جان دی بیپٹسٹ کے ماننے والے ہیں۔‘
لامیا عمارہ کہتی ہیں ’جان دی بیپٹسٹ نے عیسیٰ کو بپتسمہ دیا تھا۔ ہم عیسائی بھی نہیں اور نہ یہودی ہیں۔ لیکن ہم خود کو عیسائیوں اور یہودیوں کے کزنز کہتے ہیں۔ ہم عراق میں سمیریوں سے بھی بہت پہلے کے ہیں لیکن ہم سمیریوں کے دنوں میں قدیم عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ مل کر رہ رہے تھے۔‘
بہتے پانیوں پر بپتسمہ لیے ہوئے ان لوگوں کو صبغتی یعنی غسال بھی کہا گیا ہے کہ پانی فرات اور دجلہ ندیوں کی زیریں بستیوں میں بسنے والے ان لوگوں کے عقیدے کا لازمی جز ٹھہرا۔ ان کے لیے کئی ایک کا خیال ہے کہ یہ طوفانِ نوح سے بچ جانے والے لوگ ہیں۔ مندائینز ’ایک خدا کو ماننے والے‘ یا ’مونوتھیسٹ‘ لوگوں میں سب سے قدیم ترین مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہودی اور زرتشتی مذاہب سے بھی قدیم مندائین مذہب قبل مسیح کا سب سے پرانا مذہب ہے۔ کبھی یہ لوگ کروڑوں میں تھے، اب ہزاروں میں بھی مشکل سے ملیں گے۔
’مانڈہ‘ لفظ کا مطلب ہے ’علم‘۔ عربی بولنے والی اس عراقی شاعرہ نے کہا جس نے قدیم مندائین زبان اپنی قدیمی کتاب پڑھنے کے لیے سیکھی۔
مجھے نہ جانے بے محل و موقع سندھی کا لفظ ’مانڈہ‘ کیوں یاد آیا جو جادوگروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ’کہیں یہ سندھی والا ’مانڈہ‘ بھی مندائین سے تو نہیں آیا؟ میسوپوٹیمیا، دجلہ فرات کی وادیوں سے سندھ کی وادی میں تو نہیں پہنچا؟‘ میں نے سوچا۔ یہی ’مانڈے ونجھلیاں مندرا‘ کرتے تھے۔
’میں جب آج سے پچیس سال قبل یہاں امریکہ آئی تو سان ڈیاگو یونیورسٹی کی لائبریری میں مندائینز کے بارے میں چھپے یا غیر مطبوعہ مواد کا معلوم کیا۔ ہمارے اپنے مذہب کی کتابیں اور فرمودات مندائین زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ لیکن قرآن میں بھی مندائین کا ذکر صابئین کے طور پر کیا گیا ہے۔‘
ایک بکھرتی ہوئی قوم:دنیا بھر میں مندائین
مندائین سوسائٹی آف امریکہ کے مطابق، دنیا میں مندائین مبلغوں یا روحانی پیشواؤں کی تعداد صرف پندرہ سولہ تک ہے اور ان میں بھی چار سے پانچ عراق میں ہیں۔
مندائین برادری:آبادی اور جغرافیائی پھیلاؤ
دنیا بھر میں اندازاً آبادی
1990 تک عراق میں آبادی
حالیہ برسوں میں عراق سے نقل مکانی
دنیا بھر میں روحانی پیشوا
انیس سو نوے تک مندائینز کی تعداد عراق میں ساٹھ ہزار تھی جو اب وہاں سے نقل مکانی کرکے شام، اردن، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ اور کینیڈا چلے گئے ہیں۔ مندائینز سوسائٹی آف امریکہ کے مطابق، گزشتہ سالوں میں عراق سے بارہ ہزار مندائین لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔ کوئی پانچ ہزار کے قریب مندائین لوگ ایران میں اور چھ سات ہزار کے قریب اردن اور شام میں آباد ہیں۔
لامیا عباس عمارہ
عمارہ نے بتایا کہ ’مندائین جنوبی عراق اور اکثر بغداد سمیت بڑے شہروں میں آباد تھے اور ان میں زیادہ تر لوہار، سونار، ڈاکٹر، انجینئر، شاعر اور دانشور تھے۔ انہیں قتل کیا جاتا ہے کہ وہ ذہین، محنتی اور اس وجہ سے پیسے والے ہیں۔ ہر مذہب نے عراق پر قبضے کے بعد مندائینز کو قتل کیا ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا۔
مسلمان خلافتی عہد میں تو مندائین کے لیے دو ہی راستے تھے، قتل ہونا یا پھر قبولِ اسلام۔ مندائین سوسائٹی آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق، اسلام کے تقریباً ہر امام نے بھی مندائینوں کے قتل کے فتوے دیے۔
بادشاہوں کے عراق سے جلاوطنی تک
عمارہ کے والد بھی ایک سیکولر دانشور تھے جبکہ ان کی ماں قدامت پسند خاتون تھیں۔
’میں گزرے ہوئے وقت میں لمحہ بہ لمحہ تاریخ میں رہ رہی ہوں‘، لامیا عمارہ نے کہا اور پھر وہ اپنے عراق کے دنوں کی یادوں میں کھو گئیں۔
’میں بادشاہوں کے زمانے کی ہوں۔ بادشاہ فیصل، المعروف فیصل اول، فیصل ثانی تو مجھے یاد ہے۔ عبدالکریم قاسم کے زمانے میں عراق چھوڑ چکی تھی، صدام حسین کی حکومت سے بھی پہلے۔‘
اس نے اپنا ملک چھوڑنے کی وجہ ’سیاست‘ بتائی۔ اس نے کہا کہ سیاست نے کردار بنائے اور متعین کیے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا ’سیاسی جبر میرے ملک چھوڑنے کی کئی وجوہات میں سے صرف ایک تھا۔‘
لامیا عمارہ کی ابتدائی یادوں میں شاہی عراق کی جھلکیاں۔
سیاسی حالات کے دوران عراق سے روانگی۔
ایران عراق جنگ اور ایک نسل کے مستقبل پر جنگ کے اثرات۔
کیلیفورنیا میں قیام اور اپنے قدیم مذہب کی تاریخ و ادب کی تلاش۔
’صدام حسین نے تین ہزار عراقی نوجوانوں کو ایران عراق جنگ کے ایندھن میں دھکیلا‘، اس نے کہا۔
محبت، شاعری اور سماجی بغاوت
اپنے بچپن اور نوجوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے اس نے کہا سکول میں لڑکیاں ’مجھے تم سے محبت ہے‘ یا ’آئی لو یو‘ جیسے الفاظ نہیں لکھ سکتی تھیں۔ ’میں سر پر ابائی یا دوپٹہ لے کر سکول جاتی تھی۔ جب میری شاعری کا پہلا مجموعہ چھپا تو ایک ہنگامہ مچ گیا۔ میری شاعری محبت اور سیکسچوئلٹی کے بارے میں تھی۔‘
’الواعد الاخیر‘، ’ارمغان اشتر‘، ’ہنسی‘، ’اگر نجومی بتائے‘ تو ان کے اب تک آنے والے شعری مجموعے ہیں جنہوں نے لامیا عباس عمارہ کو عرب دنیا سمیت بین الاقوامی شہرت بخشی ہے۔
ان کی شاعری عربی میں ہے جس کے انگریزی سمیت کئی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مجھے انگریزی ترجمے میں اپنی نظم بھی سنائی جو انہوں نے اپنے کالج کے دنوں کی ہم جماعت اور ایرانی شاعرہ فروزاندہ مہراد کے نام کی تھی۔
ایران عراق جنگ کے دنوں میں لکھی گئی عمارہ کی تیس سال قبل کی یہ نظم آج بھی عراق سمیت کسی بھی محاذِ جنگ اور اس پر جاتے ہوئے بچوں اور دنیا کی کسی بھی ماں پر صادق اترتی ہے۔
ایک عراقی شاعرہ کی جنگ کے خلاف لکھی گئی نظم آج بھی دنیا کے ہر محاذِ جنگ پر اپنے بچوں کو رخصت کرنے والی ماں کے دکھ کی ترجمان محسوس ہوتی ہے۔
بغداد:شہروں کی دلہن سے شہروں کی بیوہ تک
اس کا بغداد جو کبھی، اس نے کہا، ’عروس البلاد‘ یا شہروں کی دلہن کہلاتا تھا، آج دنیا میں شہروں کی بیوہ بنی ہوئی ہے۔
لامیا عباس عمارہ
پھر اس نے کہا ’ہم لوگ بچ جائیں گے کیونکہ ہم جنگجو نہیں، امن پسند ہیں۔ ہماری معاف کرنے، بھول جانے کی طاقت اور قدیم کتابوں نے اب تک ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔‘
