• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » آذر بائیجان میں حجاب کی برطرفی
اداریہ

آذر بائیجان میں حجاب کی برطرفی

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 18, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
اداریہ

نظامی گنجوی کے آذر بائیجان میں حجاب کی برطرفی⁦:⁩ایک خوش آئند قدم

تحریر: حسن مجتبیٰ | چیف ایڈیٹر، نیو یارک اُردو

آذربائیجان کی حکومت نے ملک کے تعلیمی اداروں میں طالبات اور استانیوں کے لیے حجاب پر پابندی کے اطلاق کا حکم دیا ہے۔ آذربائیجانی حکومت کی کابینہ کے اس فیصلے کے موجب، تعلیمی اداروں میں سیکولر طرزِ تعلیم کے اصولوں پر کاربند ہونا ہے۔ باکو میں حکومت نے ماہِ رواں اکتوبر اور گزشتہ ماہ ستمبر میں یہ فیصلے کیے، جس پر قدامت پسند حلقوں کی طرف سے ملک کے اندر اور ملک کے باہر، ترکیہ کی حکومت نے ایک ہنگامہ بپا کیا ہوا ہے، بلکہ ہنگامے بپا کیے ہوئے ہیں۔ آذربائیجان کی تاریخ میں احتجاج کے نام پر اس کی گلیوں میں اس طرح کے ہنگامے شاذ و نادر ہی ہوئے ہیں اور اب تک سینتیس بلوائی گرفتار ہو چکے ہیں۔

’’تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو‘‘ کے مصداق، یہ ملک آذربائیجان اگرچہ مسلمان اکثریت کا ملک ہے، لیکن سابقہ سوویت یونین سے آزادی کے بعد اس کی اٹھان اور اڑان سیکولر نظام پر رہی ہے، جہاں یہودی، مسلمان اور مسیحی ایک ساتھ محبت و اخوت سے رہتے آ رہے ہیں۔ مغربی ایشیا کی اس رہنما نیشن کی جانب سے کلاس روم میں طالبات اور استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی اس کے سیکولر آدرشوں کی غماز ہے۔

آذربائیجان کے اہلِ اقتدار و پالیسی ساز افراد اور اداروں کا یہ ماننا ہے کہ حجاب یا حجابی کلچر دراصل وسطی ایشیا یا مغربی ایشیا میں اسلام کے نام پر عرب ثقافت، یا ہزار سالہ وسطی و مغربی ایشیائی تہذیب کو عربیانے کی کوشش ہے۔ یہ اس وسطی ایشیائی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ عقیدے کا مسئلہ نہیں، اپنے اطوار و آداب بچانے کی سعی ہے۔

نہ فقط کیسپین کے اس پار جنوبی قفقاز میں واقع آذربائیجان، بلکہ تاجکستان نے بھی امسال جون کے مہینے میں عوامی مقامات پر حجاب، عبایا اور اس طرح کی اشیا کو اجنبی یا غیر ملکی پہناوے قرار دے کر پابندی عائد کی ہے۔ یہ قانون تاجکستان کی پارلیمان سے منظور ہوا ہے، جبکہ تاجکستان کی اٹھانوے فی صد آبادی مسلمان ہے۔

وسطی ایشیا ہو کہ مغربی ایشیا، یا برصغیر⁦(⁩ہندو پاک، جسے ’’جنوبی ایشیا‘‘ کا نوآبادیاتی صیغہ دیا گیا⁦)⁩، وہاں حجاب یا برقعہ بہت بعد کی بات ہے۔ پاکستان کے پنجاب ہو کہ سندھ، یا بھارت کا پنجاب اور دیگر علاقے، وہاں عورتیں کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی رہی ہیں۔ یہ حجاب تو اسمگل شدہ ثقافت ہے، بدیسی بھی۔

اور دوسری طرف، آذربائیجان کی جانب سے تعلیمی اداروں کے کلاس روموں میں طالبات اور استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کے اطلاق پر ترکیہ کا سفارتی و غیر سفارتی ہنگامہ دوغلے پن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ترکیہ کا سفارتی، سیاسی و سماجی دوغلا پن ہے کہ پہلے ترکیہ، جو کسی زمانے میں سیکولر ریاست تھی، اب بھی کتابوں میں سیکولر ریاست ہی کہلاتی ہے، جہاں کسی زمانے میں حجاب پر پابندی تھی، جس کے خلاف خودکشیاں ہونے لگیں۔ اس موضوع پر ترکیہ کے عظیم ناول نگار اورحان پاموک کے ناول ’’دی سنو‘‘ سمیت کئی بڑے فکشن نگاروں کی تحریروں میں حجاب پر پابندیوں کے حوالے سے کئی کہانیاں موجود ہیں۔ لیکن ترکیہ کی ملاں نما حکومت، جو کہ ایران کی بی ٹیم ہی ہے، اپنے قدامت پسند یا سیکولر دشمن آبادی کے وسیع لیکن تنگ نظر حلقوں کو خوش کرنے کی خاطر اب آذربائیجان میں حجاب پر حالیہ پابندیوں کی مخالفت کر رہی ہے۔

ہم آذربائیجان کے تعلیمی اداروں کے کلاس روموں میں استانیوں اور طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور تاجکستان کے عوامی مقامات پر حجاب سے متعلق پابندیوں کا بھی، جہاں نظامی گنجوی، عمادالدین نسیمی اور خورشید بانو ناتوان جیسے عظیم شاعر ہوں۔

حسن مجتبیٰ، مدیر اعلیٰ نیو یارک اُردو

تحریر

حسن مجتبیٰ

مدیر اعلیٰ — نیو یارک اُردو

NY Urdu | نیو یارک اُردو

آذربائیجان، نظامی گنجوی، حسن مجتبیٰ، حجاب، سیکولرازم، تاجکستان، ترکیہ، وسطی ایشیا، مغربی ایشیا، نیو یارک اردو حسن مجتبیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleپڑھائی کا کمرہ منبر نہیں ہوتا
Next Article سعودی عرب میں امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.