نظامی گنجوی کے آذر بائیجان میں حجاب کی برطرفی:ایک خوش آئند قدم
تحریر: حسن مجتبیٰ | چیف ایڈیٹر، نیو یارک اُردو
آذربائیجان کی حکومت نے ملک کے تعلیمی اداروں میں طالبات اور استانیوں کے لیے حجاب پر پابندی کے اطلاق کا حکم دیا ہے۔ آذربائیجانی حکومت کی کابینہ کے اس فیصلے کے موجب، تعلیمی اداروں میں سیکولر طرزِ تعلیم کے اصولوں پر کاربند ہونا ہے۔ باکو میں حکومت نے ماہِ رواں اکتوبر اور گزشتہ ماہ ستمبر میں یہ فیصلے کیے، جس پر قدامت پسند حلقوں کی طرف سے ملک کے اندر اور ملک کے باہر، ترکیہ کی حکومت نے ایک ہنگامہ بپا کیا ہوا ہے، بلکہ ہنگامے بپا کیے ہوئے ہیں۔ آذربائیجان کی تاریخ میں احتجاج کے نام پر اس کی گلیوں میں اس طرح کے ہنگامے شاذ و نادر ہی ہوئے ہیں اور اب تک سینتیس بلوائی گرفتار ہو چکے ہیں۔
’’تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو‘‘ کے مصداق، یہ ملک آذربائیجان اگرچہ مسلمان اکثریت کا ملک ہے، لیکن سابقہ سوویت یونین سے آزادی کے بعد اس کی اٹھان اور اڑان سیکولر نظام پر رہی ہے، جہاں یہودی، مسلمان اور مسیحی ایک ساتھ محبت و اخوت سے رہتے آ رہے ہیں۔ مغربی ایشیا کی اس رہنما نیشن کی جانب سے کلاس روم میں طالبات اور استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی اس کے سیکولر آدرشوں کی غماز ہے۔
آذربائیجان کے اہلِ اقتدار و پالیسی ساز افراد اور اداروں کا یہ ماننا ہے کہ حجاب یا حجابی کلچر دراصل وسطی ایشیا یا مغربی ایشیا میں اسلام کے نام پر عرب ثقافت، یا ہزار سالہ وسطی و مغربی ایشیائی تہذیب کو عربیانے کی کوشش ہے۔ یہ اس وسطی ایشیائی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ عقیدے کا مسئلہ نہیں، اپنے اطوار و آداب بچانے کی سعی ہے۔
نہ فقط کیسپین کے اس پار جنوبی قفقاز میں واقع آذربائیجان، بلکہ تاجکستان نے بھی امسال جون کے مہینے میں عوامی مقامات پر حجاب، عبایا اور اس طرح کی اشیا کو اجنبی یا غیر ملکی پہناوے قرار دے کر پابندی عائد کی ہے۔ یہ قانون تاجکستان کی پارلیمان سے منظور ہوا ہے، جبکہ تاجکستان کی اٹھانوے فی صد آبادی مسلمان ہے۔
وسطی ایشیا ہو کہ مغربی ایشیا، یا برصغیر(ہندو پاک، جسے ’’جنوبی ایشیا‘‘ کا نوآبادیاتی صیغہ دیا گیا)، وہاں حجاب یا برقعہ بہت بعد کی بات ہے۔ پاکستان کے پنجاب ہو کہ سندھ، یا بھارت کا پنجاب اور دیگر علاقے، وہاں عورتیں کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی رہی ہیں۔ یہ حجاب تو اسمگل شدہ ثقافت ہے، بدیسی بھی۔
اور دوسری طرف، آذربائیجان کی جانب سے تعلیمی اداروں کے کلاس روموں میں طالبات اور استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کے اطلاق پر ترکیہ کا سفارتی و غیر سفارتی ہنگامہ دوغلے پن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ترکیہ کا سفارتی، سیاسی و سماجی دوغلا پن ہے کہ پہلے ترکیہ، جو کسی زمانے میں سیکولر ریاست تھی، اب بھی کتابوں میں سیکولر ریاست ہی کہلاتی ہے، جہاں کسی زمانے میں حجاب پر پابندی تھی، جس کے خلاف خودکشیاں ہونے لگیں۔ اس موضوع پر ترکیہ کے عظیم ناول نگار اورحان پاموک کے ناول ’’دی سنو‘‘ سمیت کئی بڑے فکشن نگاروں کی تحریروں میں حجاب پر پابندیوں کے حوالے سے کئی کہانیاں موجود ہیں۔ لیکن ترکیہ کی ملاں نما حکومت، جو کہ ایران کی بی ٹیم ہی ہے، اپنے قدامت پسند یا سیکولر دشمن آبادی کے وسیع لیکن تنگ نظر حلقوں کو خوش کرنے کی خاطر اب آذربائیجان میں حجاب پر حالیہ پابندیوں کی مخالفت کر رہی ہے۔
ہم آذربائیجان کے تعلیمی اداروں کے کلاس روموں میں استانیوں اور طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور تاجکستان کے عوامی مقامات پر حجاب سے متعلق پابندیوں کا بھی، جہاں نظامی گنجوی، عمادالدین نسیمی اور خورشید بانو ناتوان جیسے عظیم شاعر ہوں۔
