نیویارک اُردو|رائے و تجزیہ
18 اکتوبر:وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے
پاکستان کے اَن حل شدہ سیاسی قتل
فائلیں جو کبھی کھلی ہی نہیں
18 اکتوبر2007ء کی شب کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالی قافلے پر کارساز کے مقام پر دو خودکش دھماکے ہوئے۔ تقریباً دو سو افراد جان سے گئے اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے، اگرچہ مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں فرق ہے اور ہلاکتیں تقریباً139سے200کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ بینظیر محفوظ رہیں۔ انیس برس بیت گئے، مگر چار تحقیقاتی ٹریبونلز اور کمیٹیاں بن کر بھی کسی ٹھوس پیش رفت تک نہ پہنچ سکیں۔ کسی ملزم کو سزا نہ ہوئی۔ القاعدہ سے منسوب قاری سیف اللہ اختر کو2008ء میں ثبوت نہ ہونے کے باعث رہا کر دیا گیا۔ بینظیر نے خود کہا تھا کہ جیمرز کام نہیں کر رہے تھے اور راستے کے کچھ حصوں میں سٹریٹ لائٹس بند تھیں، اور انہوں نے مشرف کو لکھے گئے خط میں اپنے خدشات کے تحت چند نام بھی بتائے تھے۔ کارساز نے وہی دستور دہرایا جو ہماری تاریخ میں بار بار دہرایا گیا:تحقیقات بے شمار، احتساب ندارد۔
01 — لیاقت علی خان،1951ء
یہ روایت کارساز سے بہت پرانی ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم16اکتوبر1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں جلسے سے خطاب کے دوران گولی کا نشانہ بنے، وہی باغ جو آج لیاقت باغ کہلاتا ہے۔ قاتل سید اکبر کو پولیس نے موقع پر ہی ڈھیر کر دیا، یوں سچ تک پہنچنے کا سب سے سیدھا راستہ بند ہو گیا۔ اس کے بعد تین تحقیقات ہوئیں:پولیس کی تفتیش، جسٹس محمد منیر اور جسٹس اختر حسین پر مشتمل عدالتی کمیشن، اور برطانیہ کے سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیق۔ تاہم ایک مبصر کے بقول کمیشن کی رپورٹ کبھی مکمل شائع نہ ہوئی، اور شہادتوں کے ضیاع اور متضاد بیانات نے اس سانحے کو ہمیشہ کے لیے معمہ بنا دیا۔
نظریات دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک کے مطابق اکبر افغان پشتون قوم پرست تھا جس نے اپنے طور پر یہ قدم اٹھایا، اور افغان حکومت نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا۔ دوسرا گروہ اسے بیرونی طاقتوں یا اندرونی عناصر کی سازش سمجھتا ہے، مگر یہ محض قیاس آرائی ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔2025ء میں قاتل کے ایک عزیز نے سرکاری بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی۔ یوں ملک کے پہلے وزیراعظم کے قتل کو پچھتر برس گزر گئے اور سرکاری سطح پر یہ معمہ اب بھی حل طلب ہے۔
02 — ضیاء الحق،1988ء
اگست1988ء کے فضائی حادثے میں صدر ضیاء الحق اور اعلیٰ جرنیلوں کی ہلاکت ان بڑے سوالات میں شامل ہے جن کا جواب آج تک نہیں ملا۔ سرکاری تحقیق میں مبینہ طور پر تخریب کاری کا امکان ظاہر کیا گیا، مگر کسی کو کٹہرے میں نہ لایا گیا۔ اسے لیاقت علی خان اور بینظیر کے مقدمات کے ساتھ اسی تسلسل کی کڑی گردانا جاتا ہے جس میں قومی رہنماؤں کی ہلاکتیں بے نتیجہ رہیں۔
03 — مرتضیٰ بھٹو،1996ء
بینظیر کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو20ستمبر1996ء کو کلفٹن میں اپنی رہائش گاہ کے قریب پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں اپنے ساتھی عاشق جتوئی اور پانچ دیگر کارکنوں سمیت مارے گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب ان کی اپنی بہن ملک کی وزیراعظم تھیں۔ ایف آئی آر سات ہفتے بعد درج ہوئی، اور وہ بھی ان کی بیوہ غنویٰ بھٹو کی درخواست پر ہائیکورٹ کے حکم کے نتیجے میں۔1997ء میں ایک ٹریبونل نے رپورٹ دی کہ یہ ہلاکتیں ماورائے عدالت تھیں اور ان کے لیے اعلیٰ سیاسی سطح سے منظوری درکار رہی ہوگی۔
بینظیر کے شوہر آصف علی زرداری ملزمان میں شامل تھے۔ انہوں نے الزام سے انکار کیا، اور ان کے وکلا نے دلیل دی کہ دونوں خاندانوں کے تعلقات خوشگوار تھے اور مرتضیٰ نے کبھی ان پر الزام نہیں لگایا۔ مقدمہ اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا جب223گواہوں میں سے صرف سترہ کے بیانات ہو سکے، جس کی ایک وجہ مرکزی ملزم کی عدالت میں پیشی نہ ہونا تھی۔ بالآخر سندھ ہائیکورٹ نے نظرثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے زرداری کو بری کر دیا۔ یوں بھٹو خاندان کا یہ المیہ بھی ایسے مقدمے پر منتج ہوا جو کبھی صحیح معنوں میں چلا ہی نہیں۔
04 — بینظیر بھٹو،2007ء
کارساز کے دو ماہ بعد27دسمبر2007ء کو بینظیر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کے بعد قتل کر دی گئیں، یعنی اسی مقام پر جہاں لیاقت علی خان گولی کا نشانہ بنے تھے۔2010ء میں اقوام متحدہ کے کمیشن نے واقعے کے بعد کے اقدامات پر سخت تنقید کی۔ اس کے مطابق پوسٹ مارٹم کبھی نہیں ہوا، آئی ایس آئی نے متوازی تحقیقات کیں، اور واقعے کے بعد کی ناکامیاں زیادہ تر دانستہ تھیں۔
مقدمے کا فیصلہ2017ء میں ملا جلا رہا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پانچ ملزمان کو بری کیا، مشرف کو مفرور قرار دیا، اور دو پولیس افسران کو سترہ سترہ سال قید کی سزا سنائی۔ ان افسران کا مؤقف تھا کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ آصف زرداری نے اپیل دائر کی جس میں بری ہونے والے پانچ ملزمان کو سزائے موت دینے اور مشرف کو قانون کے مطابق سزا دینے کی استدعا کی گئی۔ اپیلیں زیر سماعت ہی تھیں کہ5فروری2023ء کو مشرف چل بسے۔ مجھے اپیلوں کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ملا، اس لیے بظاہر یہ مقدمہ اب بھی ادھورا ہے۔
فائلیں بند کیوں رہتی ہیں؟
ان تمام واقعات میں ایک ہی نقش بار بار ابھرتا ہے:حملہ آور مارا جاتا ہے یا شہادتیں ابتدا ہی میں ضائع ہو جاتی ہیں؛ کئی تحقیقات کا حکم ملتا ہے مگر ان کے نتائج دبا دیے جاتے ہیں یا نظرانداز ہو جاتے ہیں؛ خفیہ ادارے اور سیاست دان ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں؛ اور یہ سوال کہ فائدہ کس کو پہنچا، کبھی عدالت کے سامنے جواب نہیں پاتا۔ حتیٰ کہ جب مقتول کی اپنی جماعت اقتدار میں رہی، جیسے سندھ میں پیپلز پارٹی، تب بھی معاملہ آگے نہ بڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ہر سانحے کے بعد وہی سوال دہراتے ہیں:صرف یہ نہیں کہ ٹریگر کس نے دبایا، بلکہ یہ کہ ایسا ہونے کی اجازت کس نے دی۔
