افریقہ|امریکی خارجہ پالیسی
صومالی لینڈ کو ٹرمپ کے بیان سے امریکی شناخت کی امید، بندرگاہ اور ہوائی اڈے تک رسائی کی پیشکش
خودمختاری کے دعوے دار علاقے کی قیادت واشنگٹن سے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے سرگرم؛ صومالیہ کی حکومت بدستور علیحدگی کی مخالفت کر رہی ہے۔
ہرگیسا اور واشنگٹن — صومالی لینڈ کے حکام اور شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو امریکا کی جانب سے اس خوداعلان کردہ جمہوریہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کی ممکنہ راہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو1991ء سے صومالیہ سے الگ ہو کر عملاً اپنے معاملات چلا رہی ہے۔
ٹرمپ کے12اکتوبر کے بیان کا ہرگیسا میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا اور اسے امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ قرار دیا گیا۔ صومالی لینڈ کی اپنی حکومت، کرنسی، سکیورٹی فورسز اور باقاعدہ انتخابات ہیں، جبکہ اس کی قیادت طویل عرصے سے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صومالی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں نسبتاً استحکام، جمہوری طرزِ حکمرانی کا ریکارڈ اور باب المندب آبنائے کے قریب اس کا تزویراتی محلِ وقوع اسے صومالیہ میں جاری بدامنی اور عدم تحفظ سے ممتاز بناتے ہیں۔
امریکی حمایت کے لیے بندرگاہ، معدنی وسائل اور دیگر پیشکشیں
صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمان محمد عبداللہ، جنہیں عرفِ عام میں ’’ایرو‘‘ کہا جاتا ہے، نے حالیہ دوروں کے دوران واشنگٹن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم سفارت کاری کی ہے اور اس مقصد کے لیے متعدد عملی مراعات پیش کی ہیں۔ ان میں بربرا کی گہرے پانی کی بندرگاہ تک ترجیحی رسائی، معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے امکانات اور مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اس پیشکش کے حامی اسے ایک ایسی عملی شراکت داری کے طور پر پیش کرتے ہیں جو قرنِ افریقہ اور بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستے میں امریکی اثرورسوخ کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ صومالی لینڈ کا جغرافیائی محلِ وقوع عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے اس کی قیادت اپنی تزویراتی حیثیت کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم دلیل کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
صومالی لینڈ کا مؤقف اور علاقائی شراکت دار
ممتاز شخصیات، جن میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ایڈنا عدن اسماعیل بھی شامل ہیں، اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ صومالی لینڈ کو صومالیہ میں جاری عدم استحکام اور الشباب کے خطرے کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صومالی لینڈ کا اپنا سیاسی اور انتظامی تجربہ ہے، جو اسے خطے کے دوسرے حصوں سے مختلف بناتا ہے۔
صومالی لینڈ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ساتھ اپنے روابط کو بھی اپنی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے دسمبر2025ء میں صومالی لینڈ کو تسلیم کیا تھا۔ صومالی لینڈ کے حامی ان تعلقات کو اس بات کی دلیل سمجھتے ہیں کہ یہ علاقہ امریکا کے اہم اتحادیوں کے ساتھ تعاون اور علاقائی شراکت داری کے لیے تیار ہے۔
اب تک امریکا کی جانب سے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ افریقی یونین کے خدشات بھی ایک اہم رکاوٹ ہیں، کیونکہ تنظیم کو اندیشہ ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے براعظم کے دوسرے علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
تین دہائیوں کی خودحکمرانی کو سفارتی دلیل بنانے کی کوشش
فی الحال صومالی لینڈ ٹرمپ کے بیان کو ایک سفارتی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس کے حکام واشنگٹن میں رابطے تیز کر رہے ہیں اور اس بات کو اجاگر کر رہے ہیں کہ یہ علاقہ گزشتہ تین دہائیوں سے اپنے انتظامی معاملات چلا رہا ہے، اقتدار کی پُرامن منتقلی کا تجربہ رکھتا ہے اور دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کے قریب واقع ہے۔
تاہم امریکی شناخت کے حصول کی کوشش کے سامنے سفارتی اور علاقائی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ ایک طرف صومالی لینڈ اپنی خودحکمرانی اور تزویراتی اہمیت کو تسلیم کیے جانے کی دلیل بنا رہا ہے، تو دوسری طرف صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور افریقی یونین کے خدشات اس معاملے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کے بیان کو فی الحال ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ امریکی پالیسی میں کسی باضابطہ تبدیلی کے طور پر۔
