محبت کی قیمت موت کیوں؟
محبت، تعلق اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کسی انسان کی بنیادی آزادیوں میں شامل ہے۔ لیکن دنیا کے مختلف معاشروں میں آج بھی لوگوں کو ایسے رشتوں اور انتخاب کی قیمت اپنی جان دے کر چکانا پڑتی ہے۔ کبھی اس تشدد کو غیرت کا نام دیا جاتا ہے، کبھی اخلاقیات کا، اور کبھی خاندان کی عزت کا۔ نام جو بھی ہو، کسی انسان کو محبت یا ذاتی انتخاب کی وجہ سے قتل کرنا ظلم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
محبت اور اخلاقیات کے نام پر سزائے موت
سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل کے الزام میں عدالتی سزا کے بعد سزائے موت دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی قونصل خانے کو پھانسی سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا۔ اس واقعے کے بارے میں ایک دوسرے شخص کے ماتھے پر بوسہ دینے کی افواہ بھی گردش کرتی رہی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ایسے معاملات میں شفافیت، منصفانہ عدالتی کارروائی اور متعلقہ سفارتی حکام کو بروقت اطلاع دینا بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب کسی شخص کی زندگی داؤ پر لگی ہو تو الزامات، شواہد، عدالتی فیصلے اور قانونی عمل کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
جب خاندان کی عزت انسانی زندگی سے بڑی بنا دی جائے
غیرت کے نام پر قتل اس تصور کی ایک ہولناک مثال ہے کہ کسی فرد کی زندگی اور آزادی پر خاندان یا معاشرے کا اختیار اس کی اپنی مرضی سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کے بلوچستان میں ایک جوڑے کو صحرا میں قتل کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اس مسئلے پر شدید تشویش پیدا ہوئی۔ لوئر دیر میں بھی ایک انیس سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ہمسائے سے بات کرنے کے بعد اس کے چچاؤں اور کزنز نے قتل کر دیا۔
ایران کے شہر مرند سے متعلق ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک خاتون کو اس کے شوہر نے بچوں کے سامنے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ ان واقعات کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں ضروری ہے، لیکن یہ الزامات ایک مشترکہ مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں:عورتوں اور دوسرے کمزور افراد کی زندگیوں پر جبر اور کنٹرول۔
یہ تشدد کسی حقیقی عزت کا تحفظ نہیں کرتا۔ اس کے پیچھے اکثر اختیار جتانے، اپنی مرضی مسلط کرنے اور فرد کی آزادی کو ختم کرنے کی سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ محبت یا شادی کے انتخاب کو جرم بنا دینا کسی خاندان یا معاشرے کو باعزت نہیں بناتا۔
اعداد و شمار کے پیچھے انسانی زندگیاں
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(HRCP)سے منسوب رپورٹ کے مطابق2025میں غیرت کے نام پر کم از کم470قتل رپورٹ ہوئے، جبکہ ایسے مقدمات میں سزا کی شرح ایک فیصد سے بھی کم بتائی گئی۔ اشاعت سے پہلے ان اعداد و شمار اور سزا کی شرح کی اصل رپورٹ سے تصدیق کی جانی چاہیے۔
ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک ایسی زندگی ہوتی ہے جسے تشدد نے ختم کر دیا۔ جب ملزمان کو سزا نہیں ملتی یا مقدمات کو خاندان کے دباؤ اور سمجھوتوں کے ذریعے کمزور کر دیا جاتا ہے تو انصاف کا نظام متاثرین کو تحفظ دینے میں ناکام رہتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ بعض حالات میں قتل کو قابلِ معافی سمجھا جا سکتا ہے۔
مذہب نہیں، جبر اور اختیار کی سوچ مسئلہ ہے
غیرت کے نام پر تشدد کو کسی مذہب یا پوری برادری کی فطرت قرار دینا درست نہیں۔ مختلف مسلم معاشروں میں علما، وکلا، صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور خاندان کے افراد اس ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور متاثرین کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی فرد کو دوسرے انسان کی زندگی، آزادی اور مستقبل پر ملکیت جتانے کا حق حاصل ہے؟ جواب واضح طور پر نفی میں ہے۔
پاکستان میں وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد حکام کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ریاستی اداروں کو ایسے واقعات میں فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ تاہم گرفتاری کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ تفتیش شفاف ہو، مقدمہ قانون کے مطابق چلایا جائے اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
قانون اور ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے، قانون میں موجود ان خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے جن کے ذریعے قتل کے بعض مقدمات میں مقتول کے رشتہ داروں کی معافی یا سمجھوتے کی بنیاد پر ملزمان سزا سے بچ سکتے ہیں یا ان کی سزا کم ہو سکتی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کو قتل ہی سمجھا جانا چاہیے، اور محرکات کو تفتیش اور عدالتی ریکارڈ میں واضح طور پر درج کیا جانا چاہیے۔
دوسرا، سزائے موت دینے والی تمام ریاستوں کو شفافیت یقینی بنانی چاہیے۔ الزامات اور شواہد، عدالتی کارروائی اور سزا پر عمل درآمد کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہوں، جبکہ متاثرہ شخص کے اہلِ خانہ اور متعلقہ حکومت یا سفارتی مشن کو بروقت اطلاع دی جائے۔
تیسرا، ان لوگوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں، قانونی مدد اور مالی معاونت فراہم کی جانی چاہیے جنہیں اپنے خاندان یا برادری کی جانب سے تشدد کا خطرہ ہو۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے؛ ریاست کو اس آزادی کے عملی تحفظ کے لیے وسائل اور مؤثر نظام بھی فراہم کرنا ہوں گے۔
چوتھا، پولیس، عدلیہ اور مقامی انتظامیہ کو ایسے مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ معاشرتی دباؤ یا خاندان کی نام نہاد عزت کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔
