حوثی حملوں کے خدشات، سعودی عرب میں امریکی سفارت کاروں کی جزوی واپسی
امریکی شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں کا خطرہ، ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل؛ خطے میں کشیدگی بڑھنے پر سفری پابندیاں سخت
امریکی مشن سعودی عرب کے21اکتوبر2026کے سکیورٹی الرٹ میں ہوائی اڈوں کے استعمال اور بعض علاقوں میں امریکی سرکاری ملازمین کے سفر پر پابندیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ بعض امریکی سفارت کاروں اور سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت دینے کی خبر الگ میڈیا رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔ خلیجی خطے کے دیگر ممالک سے اسی نوعیت کی واپسی کے دعووں پر بھی اطلاعات موجود ہیں۔
سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر امریکہ نے اپنے سفارتی عملے کی حفاظت سے متعلق اقدامات سخت کر دیے ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض امریکی سفارت کاروں اور امریکی سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کی سلامتی کے بارے میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین سے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان ممالک میں عملے کی واپسی کے دعووں کی حیثیت اور دائرۂ کار کے بارے میں اطلاعات یکساں نہیں ہیں۔
امریکی مشن سعودی عرب نے21اکتوبر2026کو جاری کردہ سکیورٹی الرٹ میں کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں، جبکہ فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ الرٹ کے مطابق، صورتِ حال تیزی سے مزید سنگین ہو سکتی ہے اور موجودہ خطرہ فوری علاقے سے آگے بھی پھیل سکتا ہے۔
سعودی عرب میں امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی انتباہ
امریکی حکام نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے موبائل فون پر جاری کیے جانے والے سرکاری ہنگامی انتباہات پر عمل کریں۔ حالیہ میزائل اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں، یعنی ڈرونز، کے حملوں کے بعد سعودی عرب میں کام کرنے والے امریکی سرکاری ملازمین کو ملک کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال کے لیے چیف آف مشن سے خصوصی اجازت حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
امریکی مشن کے مطابق، ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سرگرمیاں معطل ہیں، جبکہ جدہ کا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کام کر رہے ہیں، تاہم وہاں پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری رکاوٹوں کے خطرات کو مدِنظر رکھیں۔
حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایئرلائن اور متعلقہ ہوائی اڈے سے پرواز کی صورتِ حال کی براہِ راست تصدیق کریں اور اگر فضائی سفر متاثر ہو تو متبادل انتظامات پر غور کریں۔ سعودی عرب کے اندر یا باہر سفر کے لیے نجی گاڑی، ٹرین اور بس کے ذریعے سفر متبادل راستے فراہم کر سکتا ہے، تاہم ان ذرائع کی دستیابی اور اوقات کی تصدیق متعلقہ اداروں سے کرنا ضروری ہے۔
متبادل سفری ذرائع
سعودی ریلوے: www.sar.com.sa
ایس اے ٹی ٹرانسپورٹ: satrans.com.sa
ساپٹکو بس سروس: saptco.com.sa
زمینی سرحدیں اور پڑوسی ممالک کے ہوائی اڈے
امریکی مشن کے سکیورٹی الرٹ کے مطابق، بحرین جانے والے کنگ فہد کازوے سمیت سعودی عرب کی تمام زمینی سرحدی گزرگاہیں کھلی ہیں، جبکہ ریاض، جدہ اور ظہران کے اندر اور ان کے گرد تمام شاہراہیں اور سڑکیں فعال ہیں۔
پڑوسی ممالک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے بھی الرٹ کے وقت فعال بتائے گئے تھے، جن میں بحرین کا ہوائی اڈہ، اردن میں عمان کا ہوائی اڈہ، عمان کے دارالحکومت مسقط کا ہوائی اڈہ، قطر میں دوحہ کا ہوائی اڈہ اور متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی، دبئی اور شارجہ کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔ تاہم، مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روانگی سے پہلے متعلقہ ہوائی اڈے سے تازہ ترین صورتِ حال کی تصدیق کریں۔
میزائل اور ڈرون حملوں کی تصاویر بنانے پر قانونی کارروائی کا انتباہ
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ خبردار کرتی رہی ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں، ان کے اثرات یا حملوں کے مقامات سے متعلق معلومات کی فلم بندی، اشاعت یا ترسیل قانونی ذمہ داری کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی مشن کے مطابق، بعض امریکی شہریوں کو ان ضوابط کی پابندی نہ کرنے پر حراست میں بھی لیا جا چکا ہے، جن میں سرکاری عمارتوں، ہوائی اڈوں اور حملوں کے مقامات کی تصاویر بنانا شامل ہے۔ سعودی عرب میں آنے والے سیاحوں اور مقیم افراد پر بھی مقامی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
امریکی سرکاری ملازمین کے لیے مزید پابندیوں میں یمن کی سرحد سے20میل کے اندر سفر پر پابندی شامل ہے، جبکہ جازان، عسیر اور نجران کے صوبوں اور قطیف، ینبع اور طائف کے شہروں کے سفر کے لیے خصوصی اجازت درکار ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر سرکاری اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات
امریکی مشن نے شہریوں کو سعودی عرب کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کی سفری ہدایات اور یمن کے لیے جاری کردہ سفری انتباہات کا جائزہ لینے، نیز اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام(STEP)میں اندراج کرانے کی سفارش کی ہے، جس کے ذریعے تازہ سکیورٹی معلومات حاصل کرنے اور ہنگامی صورتِ حال میں امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ آسان بنانے میں مدد ملتی ہے۔
فضائی حملے کی صورت میں شہریوں کو شیشے کے دروازوں، کھڑکیوں اور گرے ہوئے ملبے سے دور رہنے، اپنے موبائل فون کو چارج رکھنے، ہنگامی نمبرز محفوظ کرنے اور سرکاری ہدایات کے لیے فون اور خبروں کی نگرانی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہیں مظاہروں اور بڑے اجتماعات سے دور رہنے، پولیس کی بھاری نفری والے علاقوں سے گریز کرنے، مقامی میڈیا پر نظر رکھنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ امریکہ سے منسلک سمجھی جانے والی عوامی جگہوں پر خاص احتیاط برتنے اور غیر ضروری توجہ سے بچنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے ہنگامی نمبرز
متحدہ ہنگامی خدمات، پولیس اور فائر بریگیڈ: 911
پولیس: 999
ایمبولینس: 997
ہائی وے سکیورٹی: 996
طبی امداد اور امریکی سفارتی رابطے
امریکی مشن کے مطابق، سعودی عرب میں امریکی شہریوں کے لیے معمول کی اور ہنگامی قونصلر خدمات دستیاب ہیں۔ طبی ہنگامی صورتِ حال میں سلیمان الحبیب ہسپتال کا نیٹ ورک بڑے شہروں میں انگریزی زبان میں طبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ ریاض میں اسپیشلائزڈ میڈیکل سینٹر اور سلیمان فقیہ ہسپتال، جبکہ جدہ میں ڈاکٹر سلیمان فقیہ ہسپتال اور انٹرنیشنل میڈیکل سینٹر بھی اضافی طبی سہولتوں میں شامل ہیں۔
امریکی سفارت خانہ، ریاض
پتہ:عبداللہ ابن حذافہ السہمی اسٹریٹ، راؤنڈ اباؤٹ نمبر9، ڈپلومیٹک کوارٹر، ریاض، سعودی عرب
ٹیلی فون: +966 11 835 4000
ای میل: RiyadhACS@state.gov
امریکی قونصل خانہ، جدہ
پتہ:الصفاء اسٹریٹ، المحمدیہ ضلع، نیو امریکن اسکول کی عمارت کے قریب، جدہ
ٹیلی فون: +966 12 220 5000
ای میل: JeddahACS@state.gov
امریکی قونصل خانہ، ظہران
پتہ:کنگ سعود بن عبدالعزیز روڈ سے متصل، صلاح الدین الایوبی روڈ اور ابو لبابہ الاسلمی اسٹریٹ کے کونے پر
ٹیلی فون: +966 13 839 5700
ای میل: DhahranACS@state.gov
بیرونِ امریکہ سے امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر امور کے کال سینٹر سے +1 202 501 4444 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور کینیڈا سے 1-888-407-4747 دستیاب ہے۔
