امریکہ، اسرائیل اور ایران:جنگ کے نئے خدشات
تیسرا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ، پیٹ ہیگسیتھ کی اسرائیل میں غیر اعلانیہ ملاقات اور ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے متعلق اطلاعات
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیونکہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ کی جانب اپنا تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا روانہ کر رہا ہے، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے اور نئی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی حملوں کا ایک اور دور شروع کرنے کی منظوری دینے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
فوجی تعیناتیوں، اعلیٰ سطحی مشاورت اور واشنگٹن و یروشلم کی جانب سے زیادہ سخت انتباہات کے بیک وقت سامنے آنے سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ایران کے ساتھ لڑائی میں قائم نازک وقفہ جلد ختم ہو سکتا ہے۔
امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ، نئی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا
طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کا بحری جنگی گروپ مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس طرح خطے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کا حصہ بن رہا ہے، جہاں پہلے ہی یو ایس ایس جارج واشنگٹن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کے بحری جنگی گروپ سرگرم ہیں۔
اضافی میرینز اور بحری جہازوں پر مشتمل اس تعیناتی سے ٹرمپ کی فوجی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس سے انہیں ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائلوں کے مراکز یا دیگر تزویراتی اہداف کے خلاف نئے حملوں کی منظوری دینے کی صورت میں زیادہ وسیع فوجی اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں۔
یہ فوجی اجتماع ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں مسلسل خلل ڈال رہا ہے، جو دنیا کی تیل کی مجموعی رسد کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ فروری میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے بحران حل کرنے کے لیے واشنگٹن پر معاشی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
عالمی تیل کی رسد کا تقریباً20فیصد اس اہم بحری راستے سے گزرتا ہے، اسی لیے یہاں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ہیگسیتھ کی نیتن یاہو سے غیر اعلانیہ ملاقات
ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں قیاس آرائیوں میں مزید اضافے کے دوران، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ پیر کے روز اسرائیل پہنچے، جہاں انہوں نے جنوبی اسرائیل کے عوودا ایئر بیس پر وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے غیر اعلانیہ ملاقات کی۔
اس فوجی اڈے پر امریکی لڑاکا طیارے اور فضا میں ایندھن بھرنے والے ٹینکر موجود ہیں، جو ایران کے خلاف طویل دورانیے کی فوجی کارروائیاں انجام دینے کے لیے اہم اثاثے سمجھے جاتے ہیں۔
اس ملاقات کی خبر سب سے پہلے ایکسیوس نے دی، جس کے بعد رائٹرز نے بھی اس کی تصدیق کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بات چیت جاری تھی۔
اس ملاقات کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسرائیل میں27اکتوبر کو قومی انتخابات ہونے والے ہیں، جبکہ امریکہ میں3نومبر کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی۔
ٹرمپ کے فوجی اختیارات پر غور، ایران معاہدے کے مطالبات پر قائم
یروشلم پوسٹ کے مطابق، ٹرمپ اور نیتن یاہو نے تہران کو تیزی سے براہِ راست اور سخت انتباہات دیے ہیں، حالانکہ دونوں رہنما عوامی سطح پر اپنے اپنے انتخابات سے پہلے جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے ایک اور حملے کے امکان پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے خبردار کیا: ’’اگر ایران کوئی غلطی کرتا ہے اور ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔‘‘
ٹرمپ نے بھی اسی نوعیت کا سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’انتظار کریں، آپ دیکھیں گے کہ ہم ایران کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب، رائٹرز نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ ایران کے اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ واشنگٹن سفارتی تعطل ختم کرنے کے لیے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایرانی حکام مذاکرات کو طویل کرنے کو ایک ایسے طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کو سیاسی کامیابی حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
تہران بدستور امریکہ سے اہم رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے، جن میں اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی میں نرمی شامل ہے، جبکہ واشنگٹن ایسی ضمانتیں چاہتا ہے کہ ایران ان فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر نہ کر سکے جنہیں سابقہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے دوران نقصان پہنچا تھا۔
خطہ ایک اور خطرناک موڑ پر
یہ محاذ آرائی ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور پہلے ہی دباؤ کا شکار علاقائی توانائی منڈیوں پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
