اقلیتی بچیوں کا تحفظ:قانون سے عمل تک
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی(USCIRF)نے21اکتوبر2026کو پاکستان سے متعلق اپنی تازہ ملکی رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ نے جبری تبدیلیٔ مذہب، توہینِ مذہب کے الزامات اور مذہبی اقلیتوں پر حملوں کے معاملات کو ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے سوال محض یہ نہیں کہ ہم کسی امریکی کمیشن کے جائزے سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اپنے ادارے کمزور اور غیر محفوظ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ثبوت دے سکتے ہیں؟ کیا الزامات کی منصفانہ تحقیقات ہوتی ہیں؟ اور کیا خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جاتا ہے؟
مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی بچیوں کا تحفظ اس پورے معاملے کو جانچنے کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ اغوا، متنازع شادی یا جبری تبدیلیٔ مذہب کی ہر رپورٹ کے پیچھے ایک بچی ہوتی ہے، جس کی عمر، رضامندی، سلامتی اور مستقبل کا انحصار پولیس افسران، طبی ماہرین، استغاثہ اور ججوں کے فیصلوں پر ہو سکتا ہے۔ ان معاملات میں محض قانونی کارروائی پوری کرنا کافی نہیں۔ عمر کی آزادانہ تصدیق، جبر کے امکان کے بارے میں حساسیت اور بچے کے بہترین مفاد کے تحفظ کا عزم بھی ضروری ہے۔
USCIRF کی پاکستان سے متعلق2026کی رپورٹ میں2025کے دوران رپورٹ ہونے والے ایسے واقعات درج کیے گئے جو ان خدشات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ فروری میں سندھ میں ایک12سالہ مسیحی بچی کو مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرانے اور35سالہ شخص سے شادی کرانے کا واقعہ رپورٹ ہوا۔ جولائی میں سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے ماتلی میں ایک15سالہ ہندو بچی کے مبینہ اغوا اور جبری تبدیلیٔ مذہب پر تشویش ظاہر کی۔ یہ رپورٹ شدہ الزامات ہیں، عدالتی فیصلوں کا متبادل نہیں۔ ان کی اہمیت ان سوالات میں ہے جو یہ واقعات روک تھام، تحقیقات اور خطرے سے دوچار بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے بارے میں اٹھاتے ہیں۔
اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے اپنے شواہد ایک اہم نقطۂ آغاز فراہم کرتے ہیں۔
بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن(NCRC)کے مطابق، جنوری2021سے دسمبر2024کے درمیان مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچیوں کے اغوا اور جبری تبدیلیٔ مذہب کے کم از کم421واقعات رپورٹ ہوئے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن نے سینٹر فار سوشل جسٹس کے مرتب کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا کہ2021میں78، 2022 میں124، 2023 میں136اور2024میں83واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ شدہ متاثرین میں282ہندو،137مسیحی اور دو سکھ خواتین اور بچیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق297متاثرین کی عمر18سال سے کم تھی، جبکہ مزید69متاثرین کی عمر معلوم نہیں تھی۔
ان اعداد و شمار کی محتاط تشریح ضروری ہے۔ یہ رپورٹ کیے گئے واقعات کی تعداد ہے، بدسلوکی یا استحصال کی مکمل شرح نہیں۔ دستیاب معلومات سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہر الزام کے نتیجے میں عدالت نے جبری تبدیلیٔ مذہب کا فیصلہ دیا۔ تاہم نابالغ متاثرین کے رپورٹ شدہ واقعات کی تعداد اور عمر کی تصدیق میں موجود خلا یہ واضح کرتے ہیں کہ منظم تحقیقات اور قابلِ اعتماد ریکارڈ کتنا ضروری ہے۔
شواہد2024پر ختم نہیں ہوتے۔ کرسچین سالیڈیرٹی ورلڈ وائیڈ نے ستمبر2026میں شائع ہونے والی اپنی الگ رپورٹ میں، سینٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر،2025کے دوران مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچیوں کے اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب اور جبری شادی کے94واقعات درج کیے۔ ان میں71ہندو اور23مسیحی متاثرین شامل تھے۔ بعد ازاں یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ گزینوں نے جنوری اور فروری2026کے دوران اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب یا جبری شادی کے کم از کم23واقعات کا ذکر کیا۔
یہ اعداد و شمار مختلف ادوار، ذرائع اور واقعات کی الگ الگ تعریفوں پر مبنی ہیں۔ انہیں ایک مکمل طور پر یکساں شماریاتی سلسلے کے طور پر جمع نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم یہ واضح کرتے ہیں کہ مسئلے کو ماضی تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شکایات، تحقیقات، عدالتی کارروائیوں اور ان کے نتائج کا قومی سطح پر منظم ریکارڈ تیار کیے بغیر صرف ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر انحصار کافی نہیں۔
نیا کمیشن، جواب دہی کا پرانا امتحان
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق ایکٹ2025کی منظوری پاکستان کو اپنے ردعمل کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دسمبر2025میں نافذ ہونے والا یہ قانون مذہبی اقلیتوں کے سماجی، معاشی، سیاسی اور قانونی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ قائم کرتا ہے۔
اس قانون کی متعدد دفعات خطرے سے دوچار بچیوں کے معاملات سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں۔ کمیشن اقلیتی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ایسی مبینہ سرکاری غفلت کے بارے میں شکایات کی انکوائری کر سکتا ہے جو خلاف ورزیوں کی روک تھام، تحقیقات یا منصفانہ جائزے میں سامنے آئے۔ اسے سرکاری اداروں سے معلومات طلب کرنے، مخصوص انکوائری اختیارات استعمال کرنے، متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے فوری عبوری امداد کی سفارش کرنے اور خلاف ورزی یا سرکاری غفلت سامنے آنے پر کارروائی کی سفارش کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ قانون میں انکوائری رپورٹس اور سفارشات کے ساتھ متعلقہ حکومت کا جواب شائع کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
کمیشن کی مجوزہ ادارہ جاتی تشکیل بھی اہم ہے۔ قانون میں بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی نمائندگی کی گنجائش موجود ہے۔ اس سے اقلیتی حقوق کے تحفظ، بچوں کے تحفظ، خواتین کے حقوق اور وسیع تر انسانی حقوق کی نگرانی کے درمیان باضابطہ رابطہ قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اگر کسی بچی کی عمر متنازع ہو، اس کے خاندان کی جانب سے اغوا کی شکایت کی جائے یا اسے جبر سے خطرہ لاحق ہو تو ایسے اداروں کے درمیان رابطہ اہم نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے مختلف محکموں کی ناکامیوں کا پتا لگانے، تحقیقات میں بار بار سامنے آنے والی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ شکایت اداروں کے درمیان کہیں گم نہ ہو جائے۔
تاہم کمیشن پولیس، استغاثہ یا عدالتوں کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اس کے انکوائری اور سفارشات کے اختیارات کو فوجداری تحقیقات، بچوں کے تحفظ کی خدمات اور عدالتی ضمانتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس قانونی ڈھانچے کی افادیت صرف کمیشن کو حاصل اختیارات پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوگی کہ سرکاری ادارے اس کی تحقیقات کے نتائج پر کس حد تک ردعمل دیتے اور مناسب اقدامات نافذ کرتے ہیں۔
اس معاملے میں نفاذ کا سوال بھی موجود ہے۔ جنوری2026میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا گیا کہ درخواستوں اور یاد دہانیوں کے باوجود کمیشن کے لیے صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کی جانب سے نامزدگیاں موصول ہونا باقی تھیں۔ اگست میں پارلیمنٹرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس بھی نئے ادارے کے قیام اور فعالیت کا مطالبہ کر رہا تھا۔ ان پیش رفتوں سے واضح ہوتا ہے کہ قانون کی منظوری اور مکمل طور پر فعال ادارے کے قیام میں فرق کرنا ضروری ہے۔
کمیشن ضروری تقرریوں، عملے، وسائل اور طریقۂ کار کے بغیر مؤثر طور پر شکایات کی تحقیقات، متاثرین کی مدد یا حکام کو جواب دہ نہیں ٹھہرا سکتا۔ اسی طرح عوام اس کی کارکردگی کا جائزہ اس وقت تک نہیں لے سکتے جب تک اس کے کام کو شفاف انداز میں دستاویزی شکل نہ دی جائے۔
تحفظ اسلام آباد سے آگے بھی پہنچنا چاہیے
بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون سازی میں پیش رفت ایک اور اہم حوالہ فراہم کرتی ہے۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ2025نے وفاقی دارالحکومت کی حدود میں لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر18سال مقرر کی اور عمر کی تصدیق اور کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق تقاضے متعارف کرائے۔ تاہم اس قانون کا جغرافیائی دائرہ صرف اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تک محدود ہے۔
یہ قانون ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن سندھ، پنجاب یا دیگر صوبوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات کا حل صرف اس قانون سے ممکن نہیں۔ مؤثر تحفظ کے لیے قابلِ اطلاق صوبائی قوانین، عمر کی تصدیق کے یکساں طریقۂ کار، اہل اور مؤثر تحقیقات، اور شناختی دستاویزات میں ردوبدل یا خاندانوں کو دھمکانے جیسے اقدامات کے خلاف حفاظتی انتظامات ضروری ہیں۔
انفرادی معاملات کو نمٹاتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ بچی کا بیان ایسے ماحول میں سنا جانا چاہیے جہاں اسے دھمکایا نہ جا سکے اور جہاں اس کی عمر، حالات اور خواہشات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ حکام کو جبر کے الزامات کی تحقیقات اس انداز میں کرنی چاہئیں کہ نتیجہ پہلے سے فرض نہ کر لیا جائے۔ اگر کسی بچی کو خطرہ ہو تو حقائق کی تصدیق تک اس کے لیے محفوظ رہائش، قانونی معاونت اور انتقامی کارروائی سے تحفظ دستیاب ہونا چاہیے۔
مجوزہ اقلیتی کمیشن شکایات وصول کرکے، سرکاری اداروں کی ناکامیوں کا جائزہ لے کر، امداد کی سفارش کرکے اور نتائج شائع کرکے ان ذمہ داریوں کے درمیان رابطہ بہتر بنا سکتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش شواہد کی بنیاد پر جانچنا چاہیے، جن میں موصول ہونے والی شکایات، ابتدائی ردعمل میں لگنے والا وقت، تحقیقات کی صورتِ حال، تجویز کردہ امداد اور متعلقہ حکام کی جانب سے کیے گئے اقدامات شامل ہوں۔
متاثرین کی شناخت کے مناسب تحفظ کے ساتھ عوام کے لیے قابلِ رسائی رپورٹنگ کا نظام اس مقصد کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اعداد و شمار کو عمر، صوبے، مذہب، الزام کی نوعیت اور مقدمے کے نتیجے کے لحاظ سے یکساں انداز میں درج کیا جانا چاہیے۔ ایسا نظام حکومتوں کو یہ شناخت کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ تحفظ کہاں ناکام ہو رہا ہے اور کن برادریوں اور اداروں کو زیادہ وسائل اور مدد درکار ہے۔
پیش رفت کا اصل پیمانہ:عملی تحفظ
USCIRF کی تازہ رپورٹ اس معاملے کا فوری بین الاقوامی پس منظر فراہم کرتی ہے، لیکن پاکستان کا ردعمل اس کے اپنے آئینی فرائض، قوانین اور شواہد پر مبنی ہونا چاہیے۔ بیرونی جائزوں کو احتساب اور جانچ پڑتال کا محرک بننا چاہیے، ان کا متبادل نہیں۔ اسی طرح ملکی قانون سازی کی موجودگی کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ تحفظ حقیقتاً فراہم کیا جا چکا ہے۔
پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق پارلیمان کی جانب سے اسے سونپی گئی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہو۔ اگلا قدم بچوں کے تحفظ کے اداروں، پولیس، استغاثہ، عدالتوں اور صوبائی حکام کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنا ہے۔ اس کے بعد عوام کو یہ دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے کہ شکایات پر بروقت تحقیقات ہوتی ہیں یا نہیں، مناسب تحفظ فراہم کیا جاتا ہے یا نہیں، اور ذمہ داروں کا حقیقی احتساب ہوتا ہے یا نہیں۔
اصل امتحان قانون نہیں، بچی کا تحفظ ہے
اصل پیمانہ یہ نہیں کہ پاکستان کتنے قوانین منظور کرتا ہے یا کتنے اداروں کا اعلان کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا لاپتا ہونے کی اطلاع دی جانے والی بچی کو فوری طور پر تلاش کیا جاتا ہے، اس کی عمر کی آزادانہ تصدیق ہوتی ہے، اس کی سلامتی اور خواہشات کو مناسب اہمیت دی جاتی ہے، اور کیا اس کے تحفظ کے ذمہ دار حکام اپنے اقدامات کا جواب دے سکتے ہیں۔
پاکستان نے قانون سازی کی صورت میں ایک قدم اٹھایا ہے۔ زیادہ مشکل کام اس قدم کو خطرے سے دوچار بچوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی میں بدلنا ہے۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کو ایسا ادارہ بننا چاہیے جو آئینی وعدوں کو ایسے عملی تحفظ میں تبدیل کرے جسے خاندان اپنی زندگی میں محسوس کر سکیں، نہ کہ ایسا ایک اور ادارہ جس کا اختیار کاغذ پر تو واضح ہو لیکن عملی طور پر اس کے نتائج نظر نہ آئیں۔
محمد کاشف مرزا
بین الاقوامی سطح پر اعزاز یافتہ انسانی حقوق کے کارکن، محقق اور دستاویزی فلم ساز ہیں، جو انسانی حقوق، بچوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے لیے کام کرتے ہیں۔
ای میل: qashif.mirza@gmail.com
ویب سائٹ: www.kashifmirza.com
