لبنان خودکشی پر مُصر، واشنگٹن اسے بچانے پر بضد
جب ریاست کے حکمران اپنے ملک کو تباہی کے راستے پر لے جائیں اور بیرونی طاقت اسے واپس لانے کی کوشش کرے تو اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ لبنان کو بچانا کون چاہتا ہے، اور اسے خطرے میں کون ڈال رہا ہے؟
اب سوال یہ نہیں رہا کہ واشنگٹن لبنان سے کیا چاہتا ہے۔ اس نے نہایت سادہ اور واضح الفاظ میں اپنا مؤقف بیان کر دیا ہے:حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور اسرائیل کے ساتھ امن قائم کیا جائے۔ دو اقدامات، اور کوئی تیسرا نہیں۔ اصل سوال آج یہ ہے کہ لبنان کے حکمران لبنان کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟
امریکی محکمۂ خارجہ نے واضح الفاظ میں ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں لبنان کے حوالے سے کسی امریکی-ترک منصوبے یا طائف معاہدے کے تحت قائم سیاسی نظام کی ساخت تبدیل کرنے کی امریکی حمایت یافتہ تجویز کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ یہ تردید سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک خبر کے جواب میں سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے ترکی اور امریکہ کے مشورے پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا، جسے تہران نے مسترد کر دیا۔
اس خبر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مسیحیوں، شیعوں اور سنیوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے لیے تین حصوں پر مشتمل کوئی سمجھوتا زیرِ غور تھا، فوج کا کمانڈر شیعہ مقرر کرنے اور بھاری ہتھیار ایران منتقل کرنے کی تجویز بھی اس کا حصہ تھی۔ مزید کہا گیا کہ نبیہ بری نے حزب اللہ کو بتائے بغیر محمد باقر قالیباف کے پاس ایک وفد بھیجا، جبکہ ایک سیاسی فریق حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے رہا ہے اور پارلیمنٹ کے اسپیکر اپنے وزرا کو حکومت سے واپس بلانے سے انکاری ہیں۔
واشنگٹن نے ان دعوؤں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے تین بنیادی نکات پر مشتمل فریم ورک کا اعادہ کیا:ایران کے پراکسی کے طور پر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، لبنان اور اسرائیل کے لیے طویل مدتی سلامتی یقینی بنانا، اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کی بنیاد پر پُرامن ہمسایہ تعلقات قائم کرنا۔
واشنگٹن کا ہاتھ اب بھی بڑھا ہوا ہے
ایک طرف ایسا ملک ہے جس کے حکمران غلط اور تباہ کن راستے پر چلنے پر مصر ہیں، اور دوسری طرف ایک عالمی طاقت ہے جو اب بھی اسے اس راستے سے واپس کھینچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیا اس کے پیچھے کوئی پوشیدہ مقصد ہے؟ ممکن ہے۔ لیکن اب اصل اہمیت اس بات کی نہیں رہی۔ اہم بات یہ ہے کہ صورتِ حال غیر معمولی ہے:منتخب قیادت اپنے ہی ملک اور عوام کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے، جبکہ ایک بیرونی طاقت اس سمت کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آئیے، حقیقت پسندی سے کام لیں۔ حزب اللہ کے ساتھ کوئی حقیقی ’’سفارتی حل‘‘ ممکن نہیں۔ لبنانی حکومت کے ساتھ سفارتی حل کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن صرف اس وقت جب حزب اللہ کو غیر مسلح کر کے ختم کیا جا چکا ہو، نہ کہ اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے متبادل کے طور پر۔ اس کے علاوہ ہر راستہ محض وقت خریدنے کے مترادف ہے، اور اس کی قیمت لبنانی عوام کو ادا کرنا پڑے گی۔
تاہم، رواں ہفتے کے واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر جوزف عون اور وزیرِاعظم نواف سلام نے امریکیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ سے منسوب دھماکا خیز مواد سے بھرے ٹرک کا معاملہ، جو ظاہر ہے کہ دہر البیدر روڈ پر پیش آیا، دبا دیا گیا۔
گزشتہ روز صدر کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں حکومت نے اس معاملے کو جوڈیشل کونسل کے حوالے کرنے سے گریز کیا۔ یوں ایک ایسی تنظیم کے دھماکا خیز مواد کی نقل و حمل کو، جس کی عسکری سرگرمیوں کو حکومت خود غیر قانونی قرار دے چکی ہے، گویا ایک معمولی ٹریفک حادثے کی طرح لیا گیا۔
دوسری جانب، ٹمپا میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز میں دونوں ملکوں کے فوجی وفود کی ملاقات کے بعد لبنان خالی ہاتھ واپس آیا۔ اس نے براہِ راست فوجی رابطہ کاری سے انکار کیا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی نگرانی کے طریقۂ کار پر اعتراض اٹھایا۔
دونوں کا نتیجہ ایک ہی دکھائی دیتا ہے:حزب اللہ اور نبیہ بری کو خوش رکھنا، اور ان لوگوں کی کوششوں کی مزاحمت کرنا جو لبنان کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں۔
یہ کیسی دانش مندانہ حکمرانی ہے؟ خودکشی کی ایک منفرد حکمتِ عملی، اور ملاؤں کی حکومت کے سامنے مکمل پسپائی۔
ریاست کے اندر ریاست:سکیورٹی رپورٹس کس کے لیے؟
لبنانی فورسز کے سربراہ سمیر جعجع نے گزشتہ شب پروگرام اِٹس اباؤٹ ٹائم میں صورتِ حال کی جو تصویر پیش کی، وہ مبالغہ آرائی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ لبنانی فورسز نے کئی ماہ پہلے ہی فوج کے کمانڈر جنرل رودولف ہیکل کے مستقبل کا سوال اٹھایا تھا، کیونکہ ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ وہ حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
جعجع نے یاد دلایا کہ جس حکومت نے انہیں فوج کا سربراہ مقرر کرنے کے لیے اجلاس بلایا تھا، وہی انہیں عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے کمانڈر کا تقرر بھی کر سکتی تھی۔ لیکن کسی میں ایسا کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے واضح سیاسی عزم درکار ہے، اور اس وقت یہی عزم موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھماکا خیز مواد کے معاملے میں ریاست کو یا تو اپنی بالادستی ثابت کرنا ہوگی یا پھر شکست تسلیم کرنا ہوگی۔ جعجع نے ایک اور سنگین دعویٰ بھی کیا:اس وقت لبنان کا ایک سکیورٹی ادارہ اپنی سکیورٹی رپورٹس بیک وقت لبنانی حکومت اور حزب اللہ کو بھیج رہا ہے۔
پھر خودمختاری کے دعووں کا کیا مطلب رہ جاتا ہے، جب سکیورٹی رپورٹس کے دو الگ نسخے تیار کیے جائیں—ایک بعبدا کے صدارتی محل اور گرینڈ سرائے کے لیے، اور دوسرا حارۃ حریک کے لیے؟
اگر ریاست کے حکمران صورتِ حال سے واقف ہیں، لیکن کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں، تو واشنگٹن سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ لبنانی فوج، سکیورٹی اداروں اور حکومتی فیصلوں پر اعتماد کرے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لوگ ایسی حکومت میں کیوں رہنا چاہتے ہیں جو بدعنوانی میں دھنسی ہوئی ہو اور جس پر دہشت گردوں کا کنٹرول ہو؟
سفارت کاری کی مہلت ہمیشہ نہیں رہتی
واشنگٹن اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے اور اب بھی مدد کے لیے ہاتھ بڑھا رہا ہے۔ لیکن مدد کا بڑھا ہوا ہاتھ ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب امریکہ اس ملک کو بچانے کی کوشش سے تھک جائے جو خود بچنا نہیں چاہتا، اور لبنانی عوام کو ان حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے جنہوں نے اپنے لوگوں کے بجائے ملاؤں اور ان کے بکھرتے ہوئے نظام کو ترجیح دی ہے۔
اگر ایسا ہوا تو پھر ذمہ دار تلاش کرنے کے لیے ہمیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ الزام کسی بیرونی سازش، کسی سفارتی ناکامی یا کسی غیر متوقع موڑ پر نہیں رکھا جا سکے گا۔ سوال ان فیصلوں کا ہوگا جو لبنان کے اپنے حکمرانوں نے کیے، ان اقدامات کا جن سے وہ گریز کرتے رہے، اور ان ریاستی اداروں کا جنہیں قومی خودمختاری کا تحفظ کرنا چاہیے تھا۔
لبنان کا سب سے بڑا مسئلہ کون ہے؟
ایلیسا ای حاشم کے تجزیے کا اختتام ایک سخت سیاسی الزام پر ہوتا ہے:اگر حکمران اپنے ملک کی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے بجائے مسلح گروہوں کے مفادات کو ترجیح دیں، تو ریاست کو لاحق خطرہ صرف سرحدوں کے باہر نہیں ہوتا۔ وہ اقتدار کے ایوانوں کے اندر بھی موجود ہو سکتا ہے۔
کیونکہ لبنان کے دشمن… اس کے اپنے حکمران ہیں۔
MTV Lebanon پر ایلیسا ای حاشم کا اصل تجزیہ پڑھیں
مصنفہ کے مؤقف اور سیاسی تجزیے کی ترجمانی کے لیے مضمون کو اردو میں مرتب کیا گیا ہے۔
