خواتین کی قیادت، کلیسائی اصلاحات اور بچوں کے تحفظ پر زور
ماہرینِ الٰہیات کا پدرشاہی روایات کو چیلنج کرنے، خواتین کی قیادت بڑھانے اور سماجی انصاف کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ
راولپنڈی: پاکستان میں کلیسائی ماہرینِ الٰہیات کی تربیت یافتہ خواتین کے ایکومینیکل فورم نے کلیسا میں خواتین کے وقار، قیادت اور شرکت کے حوالے سے بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مسیحی اداروں کو روایتی خیرات سے آگے بڑھ کر عملی یکجہتی، انصاف اور مساوات کے لیے کام کرنا چاہیے۔
یہ مطالبہ فورم کی پانچویں قومی الٰہیاتی ورکشاپ کے اختتام پر سامنے آیا، جو23سے25اکتوبر2026تک راولپنڈی کے کرسچن اسٹڈی سینٹر میں ’’خاموشی سے یکجہتی تک:انصاف اور بچوں کے تحفظ کے لیے خواتین کی قیادت میں تبدیلی کا عمل‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہوئی۔
تین روزہ اجتماع میں خواتین کو بااختیار بنانے، بائبل کی تشریح، سماجی انصاف اور بچوں کے تحفظ سے متعلق الٰہیاتی نقطہ ہائے نظر پر غور کیا گیا اور اس ضرورت کو اجاگر کیا گیا کہ کلیساؤں کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کا زیادہ مؤثر جواب دینا ہوگا۔ ورکشاپ میں قریباً ایک سو ماہرینِ الٰہیات، کلیسائی رہنماؤں اور ایکومینیکل شراکت داروں نے شرکت کی، جہاں بائبل کے مطالعے، الٰہیاتی مکالمے اور انصاف و بچوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار کیا گیا۔
فورم کی ورکشاپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مردوں کو بھی مدعو کیا گیا اور انہوں نے مکمل شرکا کی حیثیت سے حصہ لیا۔ اسے مشترکہ قیادت، باہمی سیکھنے اور خواتین و مردوں کے درمیان تبدیلی لانے والی یکجہتی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
بین الاقوامی ماہرِ الٰہیات کا کلیدی خطاب
ورکشاپ میں ایشیائی نسوانی اور مابعد نوآبادیاتی الٰہیات کی عالمی شہرت یافتہ ماہر پروفیسر ڈاکٹر کووک پُوئی لان نے کلیدی خطاب کیا۔ ان کے خیالات نے شرکا کو ناانصافی کے ڈھانچوں کا تنقیدی جائزہ لینے اور ایمان سے تحریک پانے والے عملی اقدامات اختیار کرنے کی دعوت دی۔ محترمہ نورین اختر نے کلیدی خطاب کا عمدہ اردو ترجمہ پیش کیا، جس کے بعد سوال و جواب کا ایک پُرجوش اور بھرپور نشست منعقد ہوئی۔ کرسچن اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر بشپ سیموئل رابرٹ ازریاہ نے افتتاحی کلمات ادا کیے، جبکہ ریورنڈ ڈاکٹر خوشنود ازریاہ نے ابتدائی عبادتی تأمل کی قیادت کی اور خاموشی سے یکجہتی کی جانب بڑھنے سے متعلق گفتگو میں حصہ لیا۔
بائبل کے مطالعے:ایمان جو تحفظ بھی دے اور تبدیلی بھی لائے
دو فکرانگیز بائبل مطالعات نے اجتماع کے فکری مباحث کو تقویت دی۔ محترمہ نرگس اظہر نے خروج، ابواب1اور2، پر گفتگو کرتے ہوئے ان خواتین کی جرأت اور یکجہتی کو اجاگر کیا جنہوں نے ظلم کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شیرخوار موسیٰ کی حفاظت کی۔ محترمہ روبی نعیم نے لوقا 10:25–37 کی روشنی میں نیک سامری کی تمثیل کا جائزہ لیا اور بتایا کہ یہ پیغام سماجی اور مذہبی حدبندیوں سے آگے بڑھ کر ہمدردی کو جرأت مندانہ عمل میں بدلنے کا تقاضا کرتا ہے۔
نسوانی محرکی الٰہیات کا تعارف
ورکشاپ کا ایک اہم الٰہیاتی سنگِ میل ریورنڈ ڈاکٹر خوشنود ازریاہ کی جانب سے ’’نسوانی محرکی الٰہیات‘‘ (Niswani Muharkati Theology — NMT) کا تعارف تھا۔ پاکستانی خواتین اور پسماندہ برادریوں کے عملی تجربات میں جڑیں رکھنے والا یہ ابھرتا ہوا مقامی، آزادی بخش اور تبدیلی پر مبنی الٰہیاتی فریم ورک ایمان، تنقیدی غوروفکر اور عمل کو باہم مربوط کرتا ہے۔ یہ خواتین اور مردوں دونوں کو ’’محرکین‘‘ یعنی انصاف، مفاہمت اور تبدیلی کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے والوں کے طور پر سامنے آنے کی دعوت دیتا ہے۔
پدرشاہی تشریحات پر نظرثانی اور خواتین کی قیادت
مباحث کا ایک مرکزی موضوع بائبل کی ان پدرشاہی تشریحات پر نظرثانی کی ضرورت تھا جنہوں نے تاریخی طور پر مذہبی اداروں میں خواتین کی شرکت محدود کی ہے۔ فورم کی گفتگو سے تیار ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ خواتین کو کلیسا یا معاشرے میں ثانوی شرکا سمجھنا اب ختم ہونا چاہیے۔ اس میں ایسی نئی الٰہیاتی تفہیم کی ضرورت پر زور دیا گیا جو بائبل کی تاریخ میں خواتین کے قائد، مشیر، معلم اور نبوی بصیرت کی حامل شخصیات کے کردار کو تسلیم کرے۔
اعلامیے کے مطابق یسوع مسیح نے اپنے زمانے کے سماجی اور مذہبی رواجوں کو چیلنج کیا، حاشیے پر موجود برادریوں کا وقار بحال کیا اور خواتین کو اپنی خدمت میں فعال شرکا کے طور پر تسلیم کیا۔ اس لیے کلیساؤں کو بھی اس تبدیلی آفرین مثال کی پیروی کرتے ہوئے امتیازی روایات کو چیلنج کرنا چاہیے، نہ کہ موروثی طریقوں کو مساوات کی راہ میں رکاوٹ بننے دینا چاہیے۔
فورم کے مباحث میں نسوانی الٰہیات اور بائبل کی جامع تشریح کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی اور الٰہیات کے اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ خواتین کے تجربات اور خدمات کو تسلیم کریں۔ شرکا نے مردمرکوز تشریحات پر تشویش ظاہر کی جنہیں بعض اوقات موجودہ درجہ بندی کو برقرار رکھنے اور خواتین کی قیادت محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق کلیسا کو ایک بصیرت افروز ادارہ بننا چاہیے جو نئے الٰہیاتی زاویوں کو قبول کرے، تنقیدی غوروفکر کی حوصلہ افزائی کرے اور سماجی تبدیلی کا تعمیری جواب دے۔
اعلامیے نے اس مفروضے کو بھی چیلنج کیا کہ روحانی اختیار اور حکمت صرف مردوں سے وابستہ ہیں۔ اس میں خدا کی شفقت، پرورش کرنے والی نگہداشت اور نسوانی حکمت سے متعلق بائبلی استعاروں کو نمایاں کرتے ہوئے کہا گیا کہ الٰہیاتی فہم کو خدا کے تصور کو صرف مردانہ انسانی تشبیہات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔
خیرات سے آگے بڑھ کر حقیقی یکجہتی
ایک اور اہم موضوع خیرات سے یکجہتی کی طرف سفر تھا۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کمزور برادریوں کی مدد صرف عارضی امداد تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ امتیاز، استحصال اور ناانصافی کی بنیادی ساختی وجوہات سے نمٹنے کی کوششیں بھی اس کا حصہ ہونی چاہئیں۔ فورم نے کلیسائی نظم و نسق، الٰہیاتی تعلیم، پادریانہ قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی بامعنی نمائندگی کا مطالبہ کیا۔ اس نے واضح کیا کہ مساوات کا دائرہ مذہبی اداروں سے آگے معاشرے اور ریاست تک پھیلنا چاہیے، جہاں خواتین کو مساوی وقار، مواقع اور شرکت حاصل ہو۔
ورکشاپ کی ترجیحات
خاموشی سے عملی اقدام تک
بچوں کا تحفظ:آگاہی سے عملی اقدام تک
بچوں کے تحفظ اور استحصال کے موضوع پر ایک معلوماتی اور بامعنی پینل مباحثہ منعقد ہوا، جس کی نظامت سلیمہ منیر نے کی۔ پینل میں محترمہ ہمنٰی کامران، محترمہ نبیلہ فیروز بھٹی اور محترمہ جینیفر جگ جیون سمیت مقررین نے سماجی، قانونی اور الٰہیاتی زاویوں سے مسائل کا جائزہ لیا۔ ایک علیحدہ تفصیلی نشست میں جینیفر جگ جیون نے الٰہیاتی پہلو، رومانا بشیر نے سماجی جہتوں اور نبیلہ بھٹی نے بچوں کے تحفظ اور استحصال کے قانونی پہلوؤں پر گفتگو کی۔
پیشکشوں اور اس کے بعد ہونے والی گروہی گفتگو نے شرکا کو محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر اجتماعی وکالت، عملی اقدامات اور کمزور بچوں کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر جواب دہی کی جانب متوجہ کیا۔ اعلامیے میں کلیساؤں اور مذہبی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنائیں، جواب دہی کو فروغ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بدسلوکی یا استحصال چھپانے کے لیے خاموشی کو کبھی استعمال نہ کیا جائے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ کمزور بچوں کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی پالیسیاں اور کمیونٹی اقدامات وضع کرنے میں خواتین فعال کردار ادا کریں۔
خوف اور خاموشی کی ثقافت کو چیلنج کرنے کا عزم
اجتماع میں اس خوف اور خاموشی کی ثقافت پر بھی بات ہوئی جس نے تاریخی طور پر مذہبی اور عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت محدود رکھی ہے۔ اعلامیے نے امتیازی تشریحات، پدرشاہی ڈھانچوں اور ان ادارہ جاتی طریقوں کو مسترد کیا جو خواتین کے وقار کو مجروح کرتے یا انہیں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے سے روکتے ہیں۔ اس نے نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی الٰہیات کے ان مفروضوں پر تنقیدی نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا جنہوں نے خواتین کے نقطہ ہائے نظر کو حاشیے پر دھکیلنے میں کردار ادا کیا۔
شرکا نے زور دیا کہ خواتین معاشرے کے ہر شعبے میں موجود ہیں اور عوامی مکالمے، ادارہ جاتی قیادت اور الٰہیاتی تحقیق میں ان کی خدمات زیادہ نمایاں ہونی چاہئیں۔ ورکشاپ میں گروہی مباحث اور عملی منصوبوں کی تیاری بھی شامل تھی تاکہ الٰہیاتی غوروفکر کو حقیقی زندگی کے اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔
مسیحی وحدت اور عشائے ربانی کی عبادت
ورکشاپ کا اختتام ایک بامعنی ایکومینیکل عشائے ربانی کی عبادت پر ہوا، جس کی مشترکہ قیادت ریورنڈ ڈاکٹر خوشنود ازریاہ اور کرسچن اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر بشپ سیموئل رابرٹ ازریاہ نے کی۔ کرسچن اسٹڈی سینٹر کے چیئرمین، عزت مآب کارڈینل جوزف کوٹس نے وعظ پیش کیا اور شرکا کو مسیح کی محبت، انصاف اور ہمدردانہ خدمت کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی صورت دینے کی دعوت دی۔ اختتامی عبادت میں خواتین اور مردوں کی مشترکہ شرکت نے مسیحی وحدت، مشترکہ شاگردی اور خدا کے مشن میں یکجہتی کے جذبے کی خوب صورت عکاسی کی۔
ورکشاپ کی تصویری جھلکیاں
ایمان، پکار اور اجتماعی عزم
ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے کمزور بچوں کے تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانے، ناانصافی کو چیلنج کرنے اور ایکومینیکل و بین المذاہب یکجہتی مضبوط کرنے کے عزم کی تجدید کی۔ اجتماع نے اس بات کی توثیق کی کہ ایمان کو محض الفاظ یا الٰہیاتی غوروفکر تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے جرأت مندانہ قیادت، ہمدردانہ خدمت اور تبدیلی لانے والے عملی اقدامات کے ذریعے زندہ گواہی بننا چاہیے۔
ورکشاپ کا ترانہ دیکھیے
پانچویں قومی الٰہیاتی ورکشاپ کی امید، جذبے اور اجتماعی وژن کو اس کے ترانے کے ذریعے محسوس کیجیے، جو خاموشی سے یکجہتی اور ایمان سے عملی تبدیلی تک کے مشترکہ سفر کی موسیقائی ترجمانی کرتا ہے۔
فورم کے اعلامیے نے پدرشاہی ممنوعات کو چیلنج کرنے، خواتین کی قیادت کو فروغ دینے، بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور مسیحی الٰہیات کی زیادہ جامع تفہیم کو آگے بڑھانے کے عزم کی توثیق کی۔ اس کا اختتام اس مطالبے پر ہوا کہ مذہبی اداروں کو ایسی جگہوں میں بدلا جائے جہاں خواتین کی آوازوں کا احترام ہو، ان کی قیادت کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی خدمات کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے۔
غوروفکر سے عمل تک!
ایمان سے تبدیلی تک!
#FromSilenceToSolidarity #NiswaniMuharkatiTheology #ChildProtection #WomenInTheology #FaithInAction #GenderJustice #EcumenicalSolidarity #ChristianUnity #ChristianStudyCentre #Pakistan


















