بین المذاہب روابط|عالمی امور|یہود دشمنی کے خلاف جدوجہد
ٹیڈ کی جانب سے دس اہم خبریں:پوپ لیو چہاردہم سے تاریخی ملاقات اور دنیا بھر کی تازہ پیش رفت
کئی ہفتوں کے سفر کے بعد، مختلف شراکت داروں، دوستوں اور اتحادیوں سے ملاقاتوں کے دوران حاصل ہونے والی اہم پیش رفت — یہودی برادری کے اندر بھی اور اس سے باہر بھی۔
پوپ لیو چہاردہم سے ملاقات کے بعد ٹیڈ ڈوئچ نے اپنے تازہ نیوز لیٹر میں یہود-کیتھولک یکجہتی، پاناما کے ساتھ تعلقات، یہود دشمنی کے خلاف مشترکہ کوششوں، اسرائیلی انتخابات اور دنیا بھر میں جمہوریت و عالمی سیاست سے متعلق دس اہم موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔
اہم جھلکیاں
پوپ لیو چہاردہم سے ایک تاریخی ملاقات
مجھے امریکن جیوش کمیٹی(AJC)کے صدر بوبی لیپن اور ادارے کے دیگر رہنماؤں اور پیشہ ور ساتھیوں کے ہمراہ پوپ لیو چہاردہم سے ملاقات کا گہرا اعزاز حاصل ہوا۔
اس ملاقات میں ہم نے یہودیوں اور کیتھولک مسیحیوں کے درمیان یکجہتی کا پیغام پیش کیا اور نوسترا ایتاتے (Nostra Aetate) کی یاد میں تیار کردہ فن پارہ پیش کیا۔ یہ وہ تاریخی اعلامیہ ہے جس نے کیتھولک اور یہودی برادریوں کے تعلقات میں بنیادی تبدیلی پیدا کی۔
ہم دنیا بھر کی یہودی برادریوں کے لیے پوپ لیو کی شراکت داری اور مستقل حمایت پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
پاناما میں اپنے دوستوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
اس ماہ کے اوائل میں، میں نے امریکن جیوش کمیٹی کے آرتھر اور روشیل بیلفر انسٹی ٹیوٹ برائے لاطینی اور لاطینی امریکی امور(BILLA)کے تحت پاناما جانے والے ایک وفد کی قیادت کی۔
ہم نے پاناما کے صدر ہوزے راؤل مولینو اور دیگر حکومتی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ہم نے اسرائیل اور پاناما کی یہودی برادری کے لیے ان کی دیرینہ حمایت پر اظہارِ تشکر کیا، اپنی یکجہتی کا پیغام دیا اور حالیہ زلزلے کے بعد تعمیرِ نو کی کوششوں میں اپنے تعاون سے آگاہ کیا۔
یہود دشمنی کے خلاف مشترکہ جدوجہد
امریکہ واپسی پر میں نے امریکن جیوش کمیٹی کے ساتھیوں کے ہمراہ حکومت، تعلیم، کاروبار اور بین المذاہب حلقوں سے تعلق رکھنے والے450سے زائد رہنماؤں کے ساتھ شرکت کی۔ یہ اجتماع یہود دشمنی کے خلاف جدوجہد کے لیے ڈیوڈ میراج فاؤنڈیشن کی پہلی کانگریس تھی۔
اس کانگریس میں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ مختلف شعبے کس طرح مل کر یہود دشمنی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مجھے اس اجتماع میں کلیدی خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جسے آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔
اسرائیلی عوام ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں
اسرائیل میں اس ہفتے ہونے والے انتخابات ملک کے سیاسی منظرنامے کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں، امریکن جیوش کمیٹی کے یروشلم دفتر کی ڈائریکٹر، لیفٹیننٹ کرنل(ریٹائرڈ)اویٹال لیبووچ نے دو تجربہ کار صحافیوں کے ساتھ ایک بروقت گفتگو میں حصہ لیا۔
گفتگو میں انتخابی مقابلے اور اس کے نتائج کے اسرائیل کے مستقبل پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
ٹری آف لائف عبادت گاہ کے سانحے کی یاد
اسی ہفتے پٹسبرگ کی ٹری آف لائف یہودی عبادت گاہ میں ہونے والی فائرنگ کے آٹھ سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس ہولناک حملے میں عبادت میں مصروف11افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔
امریکن جیوش کمیٹی کی ایوارڈ یافتہ پوڈکاسٹ سیریز اس سانحے کے دیرپا اثرات اور ادارے کی شو اَپ فار شبّات (Show Up For Shabbat) مہم کے آغاز کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ مہم امریکی تاریخ میں یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی کے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک بن گئی۔
7 اکتوبر کے حملوں کے تین سال
نیویارک سے لاس اینجلس اور صوفیہ سے اسٹراسبرگ تک، ہم7اکتوبر کے ان حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر اکٹھے ہوئے جنہوں نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی میزبانی میں محکمۂ خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں اپنی نوعیت کی پہلی تقریب منعقد ہوئی، جس میں امریکن جیوش کمیٹی نے حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ کو یکجا کرنے میں مدد کی۔
میں نے اس تحریر میں اس دن محسوس ہونے والی یکجہتی اور اس جذبے کو دوبارہ دریافت کرنے کی اہمیت پر اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔
شراکت داری کی اہمیت
ہمارے دوست ادارے نیشنل بلیک ایمپاورمنٹ کونسل(NBEC)نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ ایک ریلی کی یادگار ویڈیو جاری کی ہے۔ اس ریلی میںNBECکے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیریئس جونز اور میں نے عالمی رہنماؤں سے یہود دشمنی کے خلاف عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈیریئس جونز اورNBECیہود دشمنی کے خلاف جدوجہد میں ہمارے مضبوط ترین شراکت داروں میں شامل ہیں۔ ہمارے مشترکہ مقصد کے لیے ان کی لگن اور مسلسل کوششوں پر میں ہمیشہ ان کا شکر گزار رہتا ہوں۔
امیدواروں سے اخلاقی وضاحت کا مطالبہ
میں نے عبدل السید کے اس بیان کے تناظر میں ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ امریکہ کے لیے اسرائیل زیادہ بڑا خطرہ ہے یا ایران۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نے ”اپنے اپنے انداز میں خطرناک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔“
کیا سیاسی رہنما اپنے اتحادیوں اور مخالفین کے درمیان واضح فرق کرتے ہیں، اور کیا وہ خارجہ پالیسی کے اہم معاملات پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں؟
ان کا جواب ایک تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں اتحادیوں اور مخالفین کے درمیان فرق کو غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمیں عوامی عہدے پر فائز یا اس کے خواہش مند امیدواروں سے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، زیادہ واضح مؤقف اور بہتر جواب دہی کی توقع رکھنی چاہیے۔
فرانس میں ہنگاموں پر ردِعمل
فرانس سے سامنے آنے والے ہولناک مناظر کے ردِعمل میں امریکن جیوش کمیٹی نے خبردار کیا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں ناکامی اور انتہا پسندانہ بیانات و رویوں کو معمول کا حصہ بننے دینا جمہوری اقدار کو کمزور کرتا ہے، معاشرتی تقسیم کو گہرا کرتا ہے اور ایسے حالات پیدا کرتا ہے جن میں سیاسی تشدد جڑ پکڑ سکتا ہے۔
دنیا بھر کے پانچ اہم انتخابات
اسرائیل، امریکہ، اسپین، برازیل اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے انتخابات کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے نتائج اسرائیل کے مستقبل، یہود دشمنی کے خلاف جدوجہد اور عالمی امور پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میں آپ کو ترغیب دیتا ہوں کہ امریکن جیوش کمیٹی کے عالمی امور کے ماہرین کے تجزیے پڑھیں، جن میں ان اہم انتخابی مقابلوں اور ان کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہودی عوام اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے
اور یاد رکھیے:یہودی عوام اور اسرائیل کی حمایت میں ہم میں سے ہر ایک کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ فوری ہو چکی ہے۔
