• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » لندن میں یومِ سائرس
یورپ

لندن میں یومِ سائرس

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرنومبر 1, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
بین المذاہب ہم آہنگی⁦|⁩برطانیہ

لندن میں ابراہیمی تحریک کا قیام⁦:⁩انتہا پسندی کے مقابلے میں مختلف برادریوں کا مشترکہ اتحاد

یہودی، ایرانی، صومالی لینڈی، کرد، عرب اور دیگر برادریوں کے رہنماؤں نے برطانیہ میں امن، تحفظ، باہمی احترام اور ابراہیمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نئے پلیٹ فارم کا اعلان کردیا۔

📍 لندن، برطانیہ
موضوع⁦:⁩بین المذاہب اتحاد اور انتہا پسندی
ماخذ⁦:⁩توم ویغنر کے بیانات

برطانیہ میں مختلف مذہبی، نسلی اور علاقائی برادریوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کے ایک نئے پلیٹ فارم، ابراہیمی تحریک برطانیہ (Abrahamic Movement UK) کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد انتہا پسندانہ نظریات اور تشدد کے مقابلے میں ایک معتدل، متحد اور مشترکہ آواز کو مضبوط بنانا ہے۔

لندن میں منعقدہ ایک اجلاس میں یہودی، ایرانی، صومالی لینڈی اور کرد برادریوں کے مقامی رہنماؤں کے علاوہ ابراہیمی معاہدوں کے عرب حامیوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس نئے اتحاد کو برطانیہ میں انتہا پسند تحریکوں کے مقابلے میں ایک مقامی اور متبادل آواز کے طور پر پیش کیا گیا۔

’’ہماری برادریوں کو اب تنہا نہیں رہنا چاہیے؛ تشدد اور انتہا پسندی کے مقابلے میں مشترکہ آواز اور باہمی تعاون ضروری ہے۔‘‘

انتہا پسندی کے سائے میں برادریوں کے تحفظ کا مسئلہ

ٹام ویگنر کے مطابق برطانیہ میں مختلف برادریاں انتہا پسند تحریکوں سے وابستہ تشدد اور دھمکیوں کے باعث اپنے تحفظ کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کا خوف صرف یہودی برادری تک محدود نہیں رہا بلکہ ایرانی اپوزیشن سے وابستہ افراد، صومالی لینڈی برادری، معتدل مسلمان، کرد اور دیگر اقلیتی گروہ بھی اس صورت حال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر دروز اور علوی جیسی اقلیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیزی سے متاثر انتہا پسند عناصر کی جانب سے انہیں بھی ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مسیحی برادریاں بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں ہیں۔

ٹام ویگنر کا مؤقف ہے کہ اس صورت حال میں مختلف برادریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ انتہا پسندی کا خطرہ کسی ایک مذہب، قوم یا کمیونٹی تک محدود نہیں۔ ان کے نزدیک مشترکہ تحفظ اور باہمی حمایت ہی اس چیلنج کا مؤثر جواب بن سکتے ہیں۔

ابراہیمی تحریک برطانیہ⁦:⁩ایک نئی معتدل آواز

ٹام ویگنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ابراہیمی تحریک برطانیہ کا قیام ابراہیمی برادریوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا معتدل اتحاد ہوگا جو برطانیہ میں ایک نئی، متحد اور باوقار آواز بلند کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک مشرق وسطیٰ سے جنم لینے والی ایک مستند اور مثبت آواز کو برطانیہ میں متعارف کرانے کی کوشش کرے گی، جس کا پیغام ابراہیمی امن، مشترکہ اقدار اور ایسا مستقبل ہوگا جس میں ہر مذہب، برادری اور شناخت کے لیے جگہ موجود ہو۔

اس تصور کی بنیاد یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود مختلف مذہبی اور سماجی گروہ مشترکہ انسانی اقدار، آزادی، وقار، انصاف اور پرامن بقائے باہمی کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں۔

برادریوں کے درمیان برادری⁦:⁩تنہائی کے خاتمے کی کوشش

ٹام ویگنر کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ابراہیمی تحریک محض ایک سیاسی یا مذہبی اتحاد نہیں بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان ایک وسیع تر سماجی رابطے کا پلیٹ فارم بننے کی کوشش کرے گی۔ ان کے مطابق اس کا مقصد ایک ایسی ’’برادریوں کی برادری‘‘ تشکیل دینا ہے جہاں مختلف گروہ ایک دوسرے کے تجربات، مشکلات اور تحفظات کو سمجھ سکیں۔

اس اتحاد کے ذریعے وہ برادریاں جو خود کو انتہا پسند اور تشدد پسند عناصر کے مقابلے میں تنہا محسوس کرتی ہیں، ایک دوسرے کی حمایت حاصل کرسکیں گی۔ اس طرح باہمی رابطے، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

ابراہیمی تحریک کا بنیادی تصور یہ ہے کہ امن صرف مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات کم کرنے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تحفظ، وقار اور حقوق کے لیے کھڑے ہونے سے بھی قائم ہوتا ہے۔

ابراہیمی معاہدوں کے تصور سے آگے

ابراہیمی معاہدوں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی تھی۔ ابراہیمی تحریک برطانیہ کا اعلان اسی وسیع تر تصور کو سماجی سطح پر آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں مختلف مذہبی اور نسلی برادریاں مشترکہ مفادات اور امن کے لیے تعاون کریں۔

لندن میں ہونے والے اجلاس میں یہودی، ایرانی، صومالی لینڈ اور کرد نمائندوں کے ساتھ عرب حامیوں کی موجودگی اس بات کی علامت قرار دی گئی کہ اس پلیٹ فارم کا دائرہ کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف برادریوں کو ساتھ لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امن، تحفظ اور مشترکہ مستقبل کا پیغام

ابراہیمی تحریک برطانیہ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور برطانیہ میں مذہبی و نسلی شناخت کی بنیاد پر نفرت، دھمکیوں اور انتہا پسندی کے بارے میں خدشات مسلسل زیر بحث ہیں۔ اس تناظر میں مختلف برادریوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کا تصور ایک اہم سماجی پیغام رکھتا ہے۔

اس تحریک کے حامیوں کے مطابق برطانیہ میں ایسا ماحول تشکیل دینا ضروری ہے جہاں یہودی، مسلمان، مسیحی، ایرانی، کرد، صومالی لینڈی، دروز، علوی اور دیگر اقلیتیں خوف کے بغیر اپنی شناخت اور عقائد کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

ٹام ویگنر (Tom Wegner) کے سوشل میڈیا بیانات، جن میں لندن میں ابراہیمی تحریک برطانیہ کے آغاز، مختلف برادریوں کے اتحاد اور انتہا پسندی کے مقابلے میں مشترکہ آواز کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ابراہیمی تحریک برطانیہ کے قیام سے متعلق توم ویغنر کی پوسٹ
لندن میں یومِ سائرس اور بین البرادری یکجہتی سے متعلق توم ویغنر کی پوسٹ

ابراہیمی تحریک ابراہیمی معاہدے انتہا پسندی ایرانی برادری برطانیہ بین المذاہب مکالمہ صومالی لینڈی کرد لندن مذہبی ہم آہنگی مشرق وسطیٰ یہودی برادری
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleمونٹریال⁦:⁩یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ
Next Article حوثی داعش اور القاعدہ سے بڑا عالمی دہشت گرد خطرہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

حوثی داعش اور القاعدہ سے بڑا عالمی دہشت گرد خطرہ

نومبر 1, 2026
اسرائیل

اسرائیلی انتخابات اور عرب دنیا کے تضادات

اکتوبر 29, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.