• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » حوثی داعش اور القاعدہ سے بڑا عالمی دہشت گرد خطرہ
خصوصی رپورٹ

حوثی داعش اور القاعدہ سے بڑا عالمی دہشت گرد خطرہ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرنومبر 1, 2026Updated:نومبر 1, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
عالمی امور⁦|⁩یمن⁦|⁩مشرق وسطیٰ

یمن کی وزیر خارجہ کا انتباہ⁦:⁩حوثی داعش اور القاعدہ سے بڑا عالمی دہشت گرد خطرہ بن چکے ہیں

ڈاکٹر افراح الزبہ کا کہنا ہے کہ طائز کا بارہ سالہ محاصرہ، بچوں کی جنگ میں بھرتی اور بحیرہ احمر میں حملے یمن کے بحران کو عالمی سلامتی کا مسئلہ بنا چکے ہیں؛ پائیدار امن کے لیے حوثیوں کو ہتھیار ریاست کے حوالے کرنا ہوں گے۔

مقام⁦:⁩منامہ، بحرین
خصوصی انٹرویو⁦:⁩العربیہ انگلش
اجلاس⁦:⁩آئی آئی ایس ایس منامہ ڈائیلاگ

یمن کی وزیر خارجہ ڈاکٹر افراح الزبہ نے خبردار کیا ہے کہ حوثی تحریک محض یمن کا داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کی سرگرمیاں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ، میزائل اور ڈرون حملے، بحری جہاز رانی کو لاحق خطرات اور دیگر انتہا پسند گروہوں کے ساتھ روابط اس تحریک کو داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کے برابر، بلکہ بعض پہلوؤں سے ان سے بھی زیادہ خطرناک بنا رہے ہیں۔

العربیہ انگلش کو آئی آئی ایس ایس منامہ ڈائیلاگ کے موقع پر دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر افراح الزبہ نے یمن کی تازہ صورت حال، طائز شہر کے طویل محاصرے، شہری آبادی کی مشکلات، بچوں کی عسکری بھرتی، کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال اور عالمی برادری کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمنی حکومت امن کی خواہاں ہے، لیکن ایسا امن نہیں جو حوثیوں کو اپنی عسکری طاقت برقرار رکھنے اور مزید خطرات پیدا کرنے کا موقع دے۔

طائز کا بارہ سالہ محاصرہ، شہری زندگی مفلوج

یمن کے گنجان آباد شہر طائز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے بتایا کہ یہ شہر گزشتہ بارہ برس سے حوثیوں کے محاصرے میں ہے۔ ان کے مطابق لڑائی میں شدت نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے اور لوگوں کے لیے بنیادی ضروریات، بالخصوص پانی، خوراک، ادویات اور ایندھن تک رسائی انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر افراح الزبہ کے مطابق اس صورت حال نے لاکھوں افراد کو ایک نہایت سنگین انسانی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ یمنی حکومت اقوام متحدہ کے اداروں اور ریڈ کراس کے ساتھ رابطوں کے ذریعے شہر میں امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے، تاہم محاصرے اور جاری لڑائی کے باعث امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے طائز کے محاصرے کو شہری آبادی پر دباؤ ڈالنے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ان کے بقول شہریوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کرنا حوثیوں کی سفاکانہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔

طائز کا بارہ سالہ محاصرہ یمن کے انسانی بحران کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں عام شہری خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات برداشت کررہے ہیں۔

کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی تحقیقات

انٹرویو کے دوران حوثیوں کی جانب سے طائز میں شہریوں کے خلاف زہریلی گیسوں یا کیمیائی مواد کے مبینہ استعمال سے متعلق سوال بھی اٹھایا گیا۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ یمنی حکام ان الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں اور اقوام متحدہ سے بھی اس عمل میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ساحلی علاقوں میں ماضی کی لڑائیوں کے دوران بھی اس نوعیت کی بعض اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں کچھ افراد میں ایسی علامات رپورٹ ہوئی ہیں جنہیں کیمیائی مواد سے متاثر ہونے کے امکان کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کی تصدیق کے لیے تحقیقات ضروری ہیں۔

ڈاکٹر افراح الزبہ نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے شہری آبادی اور شہروں پر میزائل حملوں سمیت مختلف کارروائیاں سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے کسی امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم انٹرویو میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور تحقیقات جاری ہونے کی بات کی گئی۔

بچوں کو جنگ میں جھونکنے کے الزامات

حوثیوں پر بچوں کو عسکری کارروائیوں میں بھرتی کرنے کے الزامات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ یمن میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس مسئلے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں بچوں کو جنگی محاذوں پر بھیجا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی بچوں کی بھرتی کے متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یمنی حکومت کے پاس ایسے کم عمر قیدی بھی موجود ہیں جو حوثی جنگجوؤں کے ساتھ گرفتار ہوئے۔ حکومت ان بچوں کی دیکھ بھال کررہی ہے۔ ڈاکٹر الزبہ نے کہا کہ بچوں کو جنگی محاذوں پر دھکیلنا ایک نہایت افسوس ناک عمل ہے، جس سے یمن کی آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی متاثر ہورہا ہے۔

جنگ بندی نہیں، حقیقی اور پائیدار امن مطلوب ہے

اس سوال کے جواب میں کہ آیا یمنی حکومت حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات نہیں چاہتی، وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت امن کی خواہاں ہے، لیکن وہ امن کا محض ایک فریب قبول نہیں کرسکتی۔ ان کے مطابق گزشتہ دس برس کے دوران یمنی حکومت نے امن کے حصول کے لیے متعدد کوششیں کیں، مگر حوثیوں نے ہر امن موقع کو اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے اور مزید طاقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں اب یمن کی سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہیں۔ بحیرہ احمر، باب المندب اور سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر مقامات پر حملوں نے اس تنازع کو وسیع تر علاقائی مسئلہ بنادیا ہے۔ ان کے بقول ایسا پائیدار امن ممکن نہیں جس میں ایک مسلح ملیشیا اپنی مرضی سے سرحدوں اور عالمی بحری راستوں کو خطرے میں ڈالتی رہے۔

مذاکرات کے امکان سے متعلق سوال پر ڈاکٹر الزبہ نے کہا کہ بات چیت کا راستہ اصولی طور پر موجود ہے، لیکن اس کے لیے بنیادی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد⁦2216⁩کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہتھیار ریاست کے اختیار میں واپس آنا اور ریاستی عمل داری بحال ہونا مذاکرات کے لیے بنیادی شرط ہے۔

یمنی حکومت کے نزدیک امن کا مطلب محض عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ایسا پائیدار انتظام ہے جس میں مسلح گروہ ریاست کے اختیار اور قانون کے تابع ہوں۔

حوثی تحریک⁦:⁩داعش اور القاعدہ سے بڑا خطرہ؟

انٹرویو کا سب سے اہم حصہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا عالمی برادری کو حوثیوں کے خلاف داعش کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں جیسی مشترکہ کوشش کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر افراح الزبہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کا رویہ اور دہشت گردانہ نوعیت داعش اور القاعدہ سے کم نہیں، بلکہ ان کے خیال میں بعض پہلوؤں سے اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حوثی اپنے حملوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں بڑھا رہے ہیں اور افریقہ کے سینگ کے خطے میں داعش اور دیگر انتہا پسند گروہوں کے ساتھ روابط اور تعاون بھی قائم کررہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورت حال دہشت گردی کے ایک زیادہ پیچیدہ اور ترقی یافتہ مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثیوں کو صرف ایک مقامی یمنی مسلح گروہ سمجھنا درست نہیں۔ ان کی سرگرمیاں اب بین الاقوامی بحری راستوں، علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کو متاثر کررہی ہیں۔ بحری جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث اشیا اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری نے بروقت اقدامات کیے ہوتے تو چند برس پہلے اس خطرے سے نمٹنے کی لاگت آج کے مقابلے میں کم ہوتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کو مزید وقت ملنے سے ان کی عسکری صلاحیتیں بڑھیں گی اور مستقبل میں انہیں روکنے کی قیمت کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

حوثیوں کو یمن کی نمائندگی کا حق حاصل نہیں⁦:⁩وزیر خارجہ

ڈاکٹر افراح الزبہ نے اس سوال پر کہ عالمی برادری حوثیوں کو طویل عرصے تک یمن کا داخلی سیاسی فریق کیوں سمجھتی رہی، کہا کہ اس کی ایک وجہ ایرانی حکومت اور اس کے حامیوں کی جانب سے پھیلایا جانے والا بیانیہ تھا، جس میں حوثیوں کو یمن کے ایک مقامی گروہ کے طور پر پیش کیا گیا جسے اقتدار میں حصہ درکار ہے۔

انہوں نے اس تصور کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ حوثی پورے یمن یا یمنی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یمنی عوام دوسرے ملکوں کی طرح امن، خوشحالی، تعلیم اور معمول کی زندگی چاہتے ہیں، لیکن حوثی تحریک نے ملک کو برسوں سے جنگ اور عدم استحکام میں دھکیل رکھا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عالمی برادری اب اس خطرے کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھ رہی ہے اور حوثیوں کو محض ایک مقامی سیاسی گروہ سمجھنے کے بجائے ان کی علاقائی اور بین الاقوامی سرگرمیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے گی۔

امریکہ اور عالمی شراکت داروں سے عملی تعاون کا مطالبہ

امریکہ کے کردار سے متعلق سوال پر ڈاکٹر الزبہ نے کہا کہ امریکہ نے حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے حوالے سے اہم اقدامات کیے ہیں، جن سے ان کی مالی معاونت اور اسلحے تک رسائی محدود کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم ان کے مطابق صرف بیانات یا نامزدگی کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت امریکہ، یورپی یونین، خطے کے ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں سے رابطے میں ہے تاکہ حوثیوں کی مالی اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کیا جاسکے۔ ان کے مطابق امریکہ یمن اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے اور اس کا کردار محض زبانی حمایت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یمنی حکومت غیر ملکی فوجی دستے زمین پر بھیجنے کی درخواست نہیں کررہی۔ ان کے بقول یمنی افواج خود اپنے ملک کی جنگ لڑ رہی ہیں اور یمنی عوام اپنے وطن کے دفاع کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ صرف یمن تک محدود نہیں، کیونکہ باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستوں کا تحفظ پوری عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے عالمی شراکت داروں سے درج ذیل شعبوں میں تعاون کی اپیل کی:

  • یمنی حکومت اور مسلح افواج کے لیے دفاعی معاونت۔
  • یمنی کوسٹ گارڈ کی صلاحیتوں میں اضافہ۔
  • انٹیلی جنس اور معلومات کے تبادلے میں تعاون۔
  • حکومت کے لیے مالی اور اقتصادی معاونت۔
  • طائز اور دیگر متاثرہ علاقوں کے شہریوں کے لیے انسانی امداد۔
  • حوثیوں کے حملوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی مدد۔

یمن میں غربت، ناخواندگی اور بچوں کے مستقبل کا بحران

ڈاکٹر الزبہ نے خبردار کیا کہ حوثیوں کے زیر اثر علاقوں میں بچوں کی بڑی تعداد غربت، ناخواندگی اور عسکری ماحول کے درمیان پرورش پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور سمر کیمپس میں موجود بچوں کو انتہا پسندانہ سوچ سے متاثر کرنا یمن کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق یمنی عوام کی مدد اور حکومت کی ریاستی عمل داری بحال کرنے کی کوششوں کی حمایت نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کو دوبارہ ایک پرامن اور ذمہ دار بین الاقوامی شراکت دار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پورے ملک میں اپنا اختیار بحال کرسکے۔

یمنی حکومت کی داخلی تقسیم پر تنقید کا جواب

انٹرویو میں یمنی حکومت کی داخلی تقسیم اور انتظامی کمزوریوں سے متعلق تنقید بھی زیر بحث آئی۔ وزیر خارجہ نے اس تاثر کو درست قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق یمن کی سیاسی ساخت مختلف جماعتوں اور سیاسی قوتوں پر مشتمل ہے، اور حکومت میں ان کی شمولیت کمزوری نہیں بلکہ سیاسی تنوع اور شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یمنی حکومت کے پاس متحد فوجی ڈھانچہ، مشترکہ مقصد اور واضح کمانڈ کا نظام موجود ہے۔ ان کے مطابق حکومتی کابینہ اور صدارتی قیادت کے ارکان ملک کے اندر موجود ہیں اور یمن کے دفاع اور ریاستی عمل داری کی بحالی کے لیے کام کررہے ہیں۔

یمن کی پہلی خاتون سینئر کابینہ رکن کا امید افزا پیغام

انٹرویو کے اختتام پر ڈاکٹر افراح الزبہ سے پوچھا گیا کہ یمن کی سینئر کابینہ میں اعلیٰ منصب تک پہنچنے والی پہلی خاتون ہونے کے ناتے کیا ان کی موجودگی ملک میں تبدیلی اور ایک ترقی پسند مستقبل کی امید ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ یمن ایک بہتر زندگی کا مستحق ملک ہے اور وہاں کے بچوں کو ایک روشن مستقبل ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق وہ اور ان کے ساتھی اس مقصد کے لیے اپنی پوری زندگی اور صلاحیتیں وقف کررہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یمنی عوام ایک بہتر مستقبل حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

اداریاتی تناظر⁦:⁩یمن کا بحران اب عالمی سلامتی کا امتحان

یمن کی وزیر خارجہ کا انٹرویو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ یمن کا تنازع اب صرف اقتدار کی کشمکش یا داخلی سیاسی تقسیم کا معاملہ نہیں رہا۔ طائز جیسے شہروں کا محاصرہ، بچوں کی جنگی بھرتی کے الزامات، بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات اور مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں ایک وسیع تر علاقائی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔

تاہم اس بحران کے حل کے لیے عسکری اقدامات کے ساتھ انسانی تحفظ، سیاسی شمولیت، جواب دہی اور پائیدار مذاکرات بھی ضروری ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال جیسے سنگین الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

یمن میں امن اسی وقت ممکن ہوگا جب ریاستی ادارے مضبوط ہوں، شہریوں کو بنیادی حقوق اور ضروریات میسر ہوں، اور کوئی مسلح گروہ ریاستی اختیار سے بالاتر ہوکر ملک اور خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ ڈاکٹر افراح الزبہ کا پیغام عالمی برادری کے لیے یہی ہے کہ یمن کے بحران کو نظرانداز کرنے کی قیمت وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھ سکتی ہے۔

اصل انٹرویو:
العربیہ انگلش کا خصوصی پروگرام⁦Counterpoints⁩، آئی آئی ایس ایس منامہ ڈائیلاگ، بحرین۔

مہمان: ڈاکٹر افراح الزبہ، وزیر خارجہ یمن
میزبان: میلندا نیوزورا

مکمل ویڈیو انٹرویو یوٹیوب پر دیکھیں

اقوام متحدہ القاعدہ باب المندب بچوں کی بھرتی بحیرہ احمر حوثی باغی داعش ڈاکٹر افراح الزبہ طائز عالمی سلامت مشرق وسطیٰ یمن
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleلندن میں یومِ سائرس
Next Article واشنگٹن پاکستان کے تحفظات سے آگاہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.