ٹرمپ کا اعلان:اسرائیل کے لیے امریکی امداد سال کے اختتام پر بند کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر کے مطابق نیتن یاہو سے کئی ماہ پہلے اتفاق ہوگیا تھا؛ اسرائیلی وزیراعظم پہلے دس برس میں امداد مرحلہ وار صفر تک لانے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کو دی جانے والی مالی اور فوجی امداد بند کر دے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی ماہ پہلے اتفاق ہوچکا ہے، تاہم اس اعلان کی عملی اور قانونی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہوئیں۔
ٹرمپ نے یہ بات امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے پروگرام ”فاکس اینڈ فرینڈز“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اب ایک کامیاب ملک بن چکا ہے اور اسے امریکی مالی معاونت کی ضرورت نہیں رہی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فاکس نیوز کے پروگرام میں بیان
صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ اسرائیل کی مدد کرے گا۔ انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کا ایک ”عظیم اتحادی“ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امداد کی بندش کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا امکان برقرار رہے گا۔
امریکی پالیسی میں ممکنہ بڑی تبدیلی
اگر ٹرمپ کے اعلان پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ امریکہ اور اسرائیل کے دیرینہ تعلقات اور امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ہوگی۔ اسرائیل کئی دہائیوں سے امریکی غیر ملکی امداد، بالخصوص فوجی معاونت، حاصل کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس امداد کی منظوری اور تخصیص میں امریکی کانگریس کا کردار بھی شامل ہے۔
ارب ڈالر سالانہ — موجودہ فوجی امداد کے مفاہمتی پیکج کی مالیت
موجودہ دس سالہ مفاہمتی یادداشت کی مقررہ مدت کا اختتام
ارب ڈالر — 2016 میں طے پانے والے دس سالہ امدادی پیکج کی مجموعی مالیت
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان2016میں طے پانے والی دس سالہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کو سالانہ تقریباً3.8ارب ڈالر کی فوجی معاونت دی جاتی ہے۔ اس انتظام کی مدت ستمبر2028تک ہے۔ اس لیے ٹرمپ کی جانب سے2026کے اختتام پر امداد روکنے کا اعلان موجودہ معاہدے کی طے شدہ مدت سے پہلے کا اقدام ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں امداد کا حجم تقریباً چار ارب ڈالر سالانہ بتایا، جبکہ موجودہ مفاہمتی یادداشت کے تحت مقررہ سالانہ فوجی امداد3.8ارب ڈالر ہے۔ ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ امداد کے کن مخصوص حصوں کو ختم کیا جائے گا، اس فیصلے پر عمل درآمد کا طریقہ کیا ہوگا، یا کانگریس کی منظور شدہ معاونت میں تبدیلی کیسے کی جائے گی۔
نیتن یاہو پہلے ہی امداد ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں سال مئی میں امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ دس برس میں امریکی فوجی امداد پر اسرائیل کا انحصار بتدریج ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کو ملنے والی سالانہ3.8ارب ڈالر کی امریکی فوجی معاونت کو مرحلہ وار صفر تک لانا چاہیے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو — سی بی ایس نیوز کو انٹرویو
نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ وہ اس عمل کا آغاز فوری طور پر کرنا چاہتے ہیں اور اسے اگلے دس برس میں مکمل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے بقول اس معاملے کو کسی آئندہ امریکی کانگریس کے انتظار میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان38ارب ڈالر کے فوجی امدادی پیکج پر اتفاق ہوا، جس کی مدت2028تک ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اگلے دس برس میں امریکی فوجی امداد پر انحصار بتدریج صفر تک لانے کی خواہش ظاہر کی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ دونوں رہنما کئی ماہ پہلے رواں سال کے اختتام پر امداد بند کرنے پر متفق ہوچکے تھے۔
نیتن یاہو کے پہلے بیان اور ٹرمپ کے تازہ اعلان میں ایک اہم فرق موجود ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امداد کو دس برس کے عرصے میں مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کی تھی، جبکہ ٹرمپ نے رواں سال کے اختتام پر ادائیگیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فرق کے پیش نظر یہ واضح ہونا باقی ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مبینہ اتفاق کی اصل شرائط کیا ہیں۔
غزہ جنگ کے بعد امریکی سیاست میں اسرائیل کی امداد پر اختلافات
غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کا معاملہ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں اختلاف کا سبب بنا ہے۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتوں کے اندر بھی اس پالیسی کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض سیاست دان موجودہ فوجی معاونت جاری رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ دوسرے اس میں کمی یا اسے مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی عوام وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اگرچہ انتخابی مہم میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور معاشی مسائل ووٹروں کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں، لیکن غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی حمایت بھی بعض اہم انتخابی مقابلوں میں زیرِ بحث رہی ہے۔
مشی گن میں عبدل السید کی تنقید کا حوالہ
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ کے امیدوار عبدل السید کی جانب سے اسرائیل پر تنقید کا بھی حوالہ دیا۔ السید امریکی امداد کے معاملے پر اسرائیل کے لیے غیر مشروط فوجی معاونت کے ناقدین میں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے ان کی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو میں عبدل السید کے بارے میں بیان
یہ گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی مالی اور فوجی معاونت اب صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ امریکی انتخابی سیاست میں بھی ایک زیرِ بحث موضوع بن چکی ہے۔ مشی گن کا سینیٹ انتخاب اس بحث کی نمایاں مثالوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سروے:امریکیوں کی اکثریت امداد میں کمی یا خاتمے کی حامی
شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کے رواں ماہ جاری کردہ ایک سروے کے مطابق امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے حوالے سے رائے تقسیم ہے، تاہم سروے میں شامل افراد کی مجموعی اکثریت نے امداد کم کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کی حمایت کی۔
21%
35%
56%
سروے کے مطابق21فیصد امریکیوں نے کہا کہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کم کی جانی چاہیے، جبکہ35فیصد نے اس امداد کو مکمل طور پر بند کرنے کی حمایت کی۔ دونوں گروپوں کو ملا کر56فیصد جواب دہندگان نے امداد میں کمی یا خاتمے کی رائے دی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ جنگ اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی معاونت پر بحث امریکی عوامی رائے میں بھی نمایاں جگہ حاصل کر چکی ہے۔ تاہم سروے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ووٹروں کی آرا ایک جیسی نہیں تھیں؛ اسرائیل کے لیے امداد کے معاملے پر سیاسی وابستگی کے لحاظ سے اختلاف برقرار ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کا اگلا مرحلہ
ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ واقعی2026کے اختتام پر اسرائیل کی موجودہ فوجی امداد روک دے گا، یا اس فیصلے کے لیے کوئی نیا انتظام، مرحلہ وار طریقۂ کار یا متبادل دفاعی تعاون طے کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی مدد جاری رکھنے کی بات کی ہے، لیکن انہوں نے اس مدد کی نوعیت اور دائرہ کار کی وضاحت نہیں کی۔
دوسری طرف نیتن یاہو پہلے ہی امریکی مالی معاونت پر انحصار ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، مگر ان کا بیان دس برس پر محیط تدریجی تبدیلی سے متعلق تھا۔ اب امریکی صدر کے اعلان نے اس معاملے کو فوری سیاسی اور سفارتی اہمیت دے دی ہے۔
اعلان سے عمل درآمد تک کئی سوال باقی
اسرائیل کے لیے امریکی امداد میں ممکنہ تبدیلی صرف دو حکومتوں کے درمیان مالی معاملہ نہیں، بلکہ امریکی کانگریس کے کردار، دفاعی تعاون، اسلحے کی خریداری اور مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کی طویل المدتی پالیسی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے اعلان کی اصل اہمیت کا تعین اس وقت ہوگا جب دونوں حکومتیں اس مبینہ اتفاق کی تفصیلات اور اس پر عمل درآمد کا طریقہ واضح کریں گی۔
