مذہب کے نام پر نفرت:جنوبی ایشیا کا بیمار ضمیر اور انسانیت کا نوحہ
ہندوستان اور پاکستان میں مذہبی قوم پرستی، تاریخی زخموں، اجتماعی نفسیات اور اقلیتوں کے عدم تحفظ کا ایک فکری و سماجی جائزہ
جنوبی ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یہاں مذاہب مختلف ہیں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا گیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان، دو ایسے معاشرے ہیں جہاں صدیوں کی مشترکہ تہذیب، زبان، موسیقی، ادب، لباس، خوراک اور انسانی رشتوں کو مذہبی شناخت کی دیواروں کے پیچھے قید کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس مذہب کا بنیادی مقصد انسان کو اخلاق، رحم، برداشت اور محبت سکھانا تھا، وہ سیاسی طاقت کے ہاتھوں نفرت کا ہتھیار کیسے بن گیا؟
تقسیم کا زخم اور اجتماعی نفسیات
1947ء کی تقسیم محض جغرافیائی سرحدوں کی تقسیم نہیں تھی؛ یہ اجتماعی نفسیات میں خوف، عدم اعتماد اور مذہبی شناخت کے مستقل زخم چھوڑ گئی۔ لاکھوں انسان قتل ہوئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، خاندان اجڑ گئے اور انسان نے اپنے پڑوسی کو مذہب کے نام پر اجنبی بنا دیا۔ مگر سات دہائیاں گزرنے کے باوجود برصغیر کا اجتماعی ذہن اس تاریخی صدمے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔
جرمن ماہرِ نفسیات Erich Fromm اپنی کتاب Escape from Freedom میں واضح کرتے ہیں کہ خوف زدہ انسان اکثر آزادی اور انفرادی سوچ کی ذمہ داری سے بھاگ کر کسی طاقتور گروہ، نظریے یا آمرانہ شناخت میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ یہی نفسیاتی کمزوری مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد بنتی ہے۔ انسان اپنی شخصیت کی پیچیدگیوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے ایک اجتماعی شناخت اختیار کرتا ہے، پھر اس شناخت کے تحفظ کے نام پر دوسروں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
کتاب: Escape from Freedom
خوف اور عدم تحفظ کے شکار انسان کا کسی طاقتور گروہ یا آمرانہ شناخت میں پناہ تلاش کرنا، انفرادی آزادی اور سوچ سے فرار کی ایک نفسیاتی صورت بن سکتا ہے۔
تعصب کی نفسیات اور اجتماعی شناخت
امریکی ماہرِ نفسیات Gordon Allport اپنی شہرۂ آفاق کتاب The Nature of Prejudice میں تعصب کی نفسیاتی تشکیل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انسان جب کسی گروہ کو اس کے انفرادی کردار کے بجائے اجتماعی شناخت کی بنیاد پر پرکھتا ہے تو تعصب جنم لیتا ہے۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمان کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے مشکوک سمجھنا اور پاکستان میں کسی دوسرے مسلک یا مذہبی اقلیت کو کمتر سمجھنا ایک ہی انسانی بیماری کی مختلف شکلیں ہیں۔
کتاب: The Nature of Prejudice
کسی فرد کو اس کے انفرادی کردار کے بجائے اس کی گروہی شناخت کی بنیاد پر جانچنا تعصب کو جنم دیتا ہے اور معاشرتی فاصلے بڑھاتا ہے۔
Hannah Arendt نے The Origins of Totalitarianism میں دکھایا کہ جب سیاسی طاقت انسانوں کو مخصوص اجتماعی شناختوں میں تقسیم کرکے ان کی انفرادیت اور حقوق ختم کرتی ہے تو معاشرہ جبر اور آمریت کے لیے سازگار ہو جاتا ہے۔ مذہبی قوم پرستی بھی یہی کرتی ہے:ایک گروہ کو اصل شہری اور دوسرے کو مشکوک شہری بنا دیتی ہے۔
کتاب: The Origins of Totalitarianism
سیاسی طاقت کے ذریعے انسانوں کو شناختوں میں تقسیم کرنا اور ان کے انفرادی حقوق محدود کرنا جبر اور آمریت کے لیے راستہ ہموار کرسکتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان:نفرت کی دو صورتیں
آج ہندوستان میںHindutvaکی سیاست، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے، مذہبی اقلیتوں کے عدم تحفظ اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے جمہوری اور سیکولر اقدار کے سامنے سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد، توہینِ مذہب کے الزامات کا غلط استعمال، اقلیتوں کے خلاف امتیاز اور مذہب کے نام پر تشدد بھی ہمارے اجتماعی ضمیر پر بدنما داغ ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی2026ء کی رپورٹس بھی اس خطے میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور بڑھتی ہوئی نفرت کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ماہرِ سیاسیات اور ہندوستانی مفکر Ashis Nandy اپنی کتاب The Intimate Enemy میں نوآبادیاتی ذہنیت اور انسانی شخصیت پر طاقت کے نفسیاتی اثرات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کا کام ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ بیرونی حکمرانی ختم ہو جانے کے باوجود غلامانہ ذہنیت اور خوف کس طرح معاشروں میں زندہ رہتے ہیں۔ آج جنوبی ایشیا میں مذہبی شناخت کو سیاسی طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنا اسی ذہنی غلامی کی ایک خطرناک صورت ہے۔
کتاب: The Intimate Enemy
نوآبادیاتی ذہنیت، خوف اور طاقت کے نفسیاتی اثرات آزادی کے بعد بھی معاشروں کی اجتماعی سوچ اور رویوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
Andrea Malji کی کتاب Religious Nationalism in Contemporary South Asia بھی ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا میں مذہبی قوم پرستی کے مختلف مظاہر اور ان کے سماجی اثرات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتی ہے۔
کتاب: Religious Nationalism in Contemporary South Asia
جنوبی ایشیا میں مذہبی قوم پرستی کے مختلف سیاسی اور سماجی مظاہر کا تقابلی مطالعہ۔
نفرت کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے
لیکن سب سے خوفناک حقیقت یہ ہے کہ اس نفرت کی قیمت حکمران نہیں، عام انسان ادا کرتا ہے۔ ہندوستان کا غریب مسلمان اور پاکستان کا غریب ہندو، مسیحی یا احمدی، دونوں اپنے وجود کے تحفظ کی جنگ لڑتے ہیں۔ سرحدوں کے دونوں طرف غربت، بے روزگاری، جہالت، بیماری اور معاشی استحصال موجود ہیں، مگر سیاسی مباحث میں انسان کے حقیقی مسائل کے بجائے مذہبی دشمنی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جنوبی ایشیا کو نئے فکری معاہدے کی ضرورت
جنوبی ایشیا کو ایک نئے فکری معاہدے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نصاب سے نفرت انگیز تاریخ اور تعصبات کا خاتمہ، مذہب اور ریاستی طاقت کے ناجائز امتزاج کی روک تھام، اقلیتوں کے مساوی شہری حقوق، نفرت انگیز تقریروں کے خلاف غیر جانب دار قانون، آزاد عدلیہ، مشترکہ ادبی و ثقافتی مکالمے اور پاکستان و ہندوستان کے درمیان علمی، تجارتی اور عوامی رابطوں کا فروغ ناگزیر ہے۔
مساوی شہری حقوق، مذہبی آزادی، تعلیمی اصلاحات، آزاد عدلیہ، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام اور سرحدوں کے آرپار علمی و ثقافتی روابط وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک زیادہ پُرامن جنوبی ایشیا تعمیر ہوسکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی مذہب کی عظمت دوسرے مذہب کی تذلیل سے ثابت نہیں ہوتی۔ کسی قوم کی محبت دوسری قوم سے نفرت کی محتاج نہیں۔ انسان کی سب سے بڑی شناخت اس کی انسانیت ہے۔
اگر ہندوستان اور پاکستان نے اپنی آنے والی نسلوں کو نفرت کی وراثت دی تو وہ تاریخ کے سب سے بڑے اخلاقی دیوالیہ پن کے مرتکب ہوں گے۔ یاد رکھیے، مذہب انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے تھا، انسان کو انسان سے جدا کرنے کے لیے نہیں۔
آخرکار انسانیت کا سوال
آخرکار سوال یہ نہیں کہ کون سا مذہب جیتے گا، سوال یہ ہے کہ کیا اس مذہبی جنگ میں انسان باقی بھی رہے گا؟
