عبدالسید کی پہلی تقرری پر تنازع، برینڈا عبداللہ کے اسرائیل مخالف بیانات زیرِ بحث
مشی گن کے نومنتخب سینیٹر نے مصری نژاد امریکی وکیل کو اپنی عبوری ٹیم کی ڈائریکٹر مقرر کیا؛ ماضی میں صہیونیوں کے امریکی سیاست پر کنٹرول سے متعلق ان کے بیان اور اسرائیل پر الزامات دوبارہ زیرِ بحث آگئے۔
امریکی ریاست مشی گن سے نومنتخب ڈیموکریٹ سینیٹر عبدالسید کی جانب سے اپنی عبوری ٹیم کی سربراہ کے طور پر برینڈا عبداللہ کی تقرری نے سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے۔ برینڈا عبداللہ مصری نژاد امریکی قانون دان، پروفیسر اور سابق لابنگ ماہر ہیں۔ ماضی میں وہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی میں جو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جبکہ2024میں کملا ہیرس کی صدارتی مہم کے دوران عرب اور مسلم برادریوں سے رابطے کی ذمہ داری بھی سنبھال چکی ہیں۔
امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق عبدالسید نے انہیں اپنی ٹرانزیشن ٹیم کی ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ اس تقرری کے بعد برینڈا عبداللہ کے ماضی کے بعض بیانات دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جن میں انہوں نے امریکی سیاست میں صہیونی اثرورسوخ کے حوالے سے ایسا بیان دیا تھا جسے ناقدین یہودیوں کے عالمی معاملات پر کنٹرول سے متعلق ایک قدیم سام دشمن سازشی تصور کی بازگشت قرار دیتے ہیں۔
برینڈا عبداللہ نے یونیورسٹی آف مشی گن میں اسلاموفوبیا اور قانون کے موضوع پر ایک کورس بھی متعارف کرایا تھا۔ تاہم ان کے ماضی کے سیاسی بیانات اور اسرائیل سے متعلق مؤقف نے ان کی نئی ذمہ داری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
2002 کا متنازع بیان
برینڈا عبداللہ نے2002میں امریکن مسلم کونسل کی ایک کانفرنس کے موقع پر نیویارک سن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صہیونیوں کی امریکی سیاست میں مضبوط آواز ہے اور ان کے بقول وہ اس کے ایک بڑے حصے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
صہیونی اثرورسوخ سے متعلق بیان اور اسرائیل پر الزامات
نیویارک سن کو2002میں دیے گئے انٹرویو میں برینڈا عبداللہ نے اس وقت کے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ارل ہلیارڈ کی پرائمری انتخابات میں شکست کو امریکی سیاست میں یہودی اثرورسوخ کی مثال قرار دیا تھا۔ ہلیارڈ فلسطینیوں کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کرنے والی ایک قرارداد کی مخالفت کرچکے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل کی حمایت کرنے والے گروپوں نے ان کے خلاف انتخابی مہم میں بھاری رقوم خرچ کی تھیں۔
واشنگٹن فری بیکن نے2024میں کملا ہیرس کی انتخابی مہم میں برینڈا عبداللہ کی شمولیت کے وقت ان کے اس بیان کو دوبارہ رپورٹ کیا تھا۔ ہیرس کی مہم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ بیان اب ان کے موجودہ خیالات کی عکاسی نہیں کرتا۔
نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق برینڈا عبداللہ نے اسرائیل پر نسلی تطہیر اور دہشت گردی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ کملا ہیرس کی مہم نے ان بیانات کے بارے میں بھی کہا تھا کہ عبداللہ اب ان خیالات سے اتفاق نہیں کرتیں۔
عبدالسید نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی اسرائیل اور امریکی پالیسی پر اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دباؤ کے نتیجے میں ایران کے خلاف جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اتحادی امریکی رقم استعمال کرکے امریکہ کو ایسی جنگوں میں دھکیلتا ہے جن میں اسے شریک نہیں ہونا چاہیے تو اسے حقیقی اتحادی نہیں کہا جاسکتا۔
خاندانی روابط اور امریکن مسلم کونسل کا پس منظر
نیویارک سن کی رپورٹ کے مطابق برینڈا عبداللہ کی والدہ مونا عبداللہ نے بھی اپنی بیٹی کے2002کے بیان سے اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی اندھی حمایت کر رہے ہیں۔
مونا عبداللہ نے مشی گن میں عبدالسید کے والد محمد کے ساتھ بھی کام کیا تھا، جو جزوقتی امام اور انجینئرنگ کے پروفیسر ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی نومبر2001کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد مونا عبداللہ نے محمد کو فورڈ فیکٹری کے کارکنوں سے خطاب کی دعوت دی تھی۔ اس نشست کا مقصد اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنا اور حملوں کے بعد مسلمانوں سے متعلق پیدا ہونے والی تشویش اور غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔
برینڈا عبداللہ مسلم ایڈووکیٹس سمیت دیگر اسلامی وکالتی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرچکی ہیں۔ مسلم ایڈووکیٹس ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جسے جارج سوروس اور دیگر لبرل ارب پتی شخصیات کی مالی معاونت حاصل رہی ہے۔ اس تنظیم کا اعلان کردہ مقصد تعصب اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنا ہے۔
ان کی والدہ مونا عبداللہ نے امریکن مسلم کونسل کی این آربر شاخ قائم کی تھی۔ اس تنظیم کو2003میں اسپیس شٹل کولمبیا کے حادثے کے بارے میں ایک بیان پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تنظیم نے اس حادثے کو اسرائیل کے خلاف خدائی انتقام قرار دیا تھا اور اس کی وجہ مشن میں پہلے اسرائیلی خلا باز کی موجودگی کو بتایا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق تنظیم کے ایک بورڈ رکن کی جانب سے حماس کی حمایت کے اظہار کے بعد ہیلری کلنٹن نے2000کے سینیٹ انتخابی دور میں اس تنظیم سے ملنے والے عطیات واپس کردیے تھے۔ اس واقعے پر ڈیموکریٹ جماعت کے بعض ارکانِ کانگریس، جن میں نیویارک کے رکنِ کانگریس جیری نیڈلر بھی شامل تھے، نے تنظیم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
نائن الیون، مسلم برادری اور امریکی سیاست
برینڈا عبداللہ اور عبدالسید دونوں نے نائن الیون کے حملوں کے بعد مسلمانوں کو درپیش ردعمل اور مشکلات کو اپنے بیانات میں نمایاں کیا ہے۔ برینڈا عبداللہ نے2017میں کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد سیاسی طور پر باخبر اور متحرک رہنے کا معاملہ محض انتخاب نہیں رہا تھا، بلکہ امریکی مسلمانوں سمیت سب پر باخبر اور فعال شہری بننے کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔
نائن الیون کی برسی کے موقع پر عبدالسید نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ11ستمبر کو ہلاک ہونے والوں کے غم میں شریک ہیں، تاہم اگلے روز وہ تقریباً دس لاکھ انسانی جانوں، لاکھوں زخمیوں اور تین ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر بھی افسوس کا اظہار کریں گے، جو ان کے بقول امریکہ کے نام پر کی گئی کارروائیوں کا نتیجہ تھی۔
سی این این کے لیے نائن الیون کی برسی پر لکھے گئے ایک مضمون میں عبدالسید نے دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کے بعد مسلمانوں اور عربوں کی صحت بھی متاثر ہوئی، کیونکہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں ان کی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا۔
عبدالسید کی انتخابی مہم اور متنازع روابط
انتخابی مہم کے دوران عبدالسید کو بعض ایسے کارکنوں اور کمیونٹی رہنماؤں سے روابط پر بھی تنقید کا سامنا رہا جن پر سام دشمن سازشی نظریات پھیلانے یا حماس اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی تعریف کرنے کے الزامات لگائے گئے۔
انہوں نے سوشلسٹ سوشل میڈیا شخصیت حسن پائیکر کے ساتھ متعدد انتخابی اجتماعات میں شرکت کی۔ حسن پائیکر ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نائن الیون حملوں کا مستحق تھا اور اسرائیل حماس سے بھی بدتر ہے۔ عبدالسید نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران ڈیئربورن سے تعلق رکھنے والے کمیونٹی رہنما اسامہ سبلانی کے ساتھ بھی تین اجتماعات میں شرکت کی۔ سبلانی حماس اور حزب اللہ کو آزادی کی جنگ لڑنے والے گروپ قرار دے چکے ہیں۔
عبدالسید کی بہن ایمان عبدالہادی نے7اکتوبر2023کو اسرائیل پر حماس کے حملے کو ایک نعمت قرار دیا تھا۔ واشنگٹن فری بیکن کے مطابق عبدالہادی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کی والدہ اور مصر میں موجود رشتہ دار طویل عرصے سے اخوان المسلمون کے ارکان رہے ہیں۔
عبدالسید نے انتخابی مہم کے دوران بارہا کہا تھا کہ ان کے پاس امریکہ اور مصر دونوں کی شہریت ہے، تاہم ان کی مہم نے واشنگٹن فری بیکن کو بتایا تھا کہ وہ کبھی دوہری شہریت کے حامل نہیں رہے۔
تقرری کے سیاسی مضمرات
برینڈا عبداللہ کی تقرری نے عبدالسید کے ماضی کے بیانات، اسرائیل سے متعلق ان کے مؤقف اور انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے والے روابط کو دوبارہ بحث میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم ان کی تقرری بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ نومنتخب سینیٹر اپنی انتخابی ترجیحات تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کی عبوری ٹیم کا آئندہ کردار اور پالیسی ترجیحات ہی اس حوالے سے زیادہ واضح تصویر پیش کرسکیں گی۔
