امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی امریکی فوجی کو قتل کیا گیا تو ایران کو اس کی”کئی گنا زیادہ قیمت”ادا کرنا ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے حالیہ کارروائیوں کے دوران مزید تین فوجیوں کی ہلاکت اور ایک فوجی کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم”ٹروتھ سوشل”پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے ہر امریکی فوجی کی ہلاکت کا بھرپور اور کئی گنا سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین اور تمام متعلقہ فوجی کمانڈرز کو اس پالیسی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی وزارت دفاع نے گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے۔ ان میں25سالہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فہان، جن کا تعلق ہوائی سے تھا، اور19سالہ فوجی ازابیلا گونزالیس، جن کا تعلق ریاست ٹیکساس سے تھا، شامل ہیں۔ دونوں اردن میں داعش کے خلاف امریکی مشن کی معاونت کے دوران ہلاک ہوئے، تاہم ان کی ہلاکت کے حالات ابھی واضح نہیں کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمان(سینٹکام)کے مطابق اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی مارے گئے، جبکہ شمالی عراق میں مار گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کے غیر پھٹنے والے گولہ بارود کے کنٹرولڈ دھماکے میں ایک اور امریکی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد17ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ”ہمہ گیر جنگ”کی حالت میں ہے۔ امریکی فضائی حملوں کا دائرہ وسیع ہو کر خلیجی شہر بوشہر تک پہنچ گیا ہے، جہاں ایران کا جوہری بجلی گھر واقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں صوبہ بوشہر کے شہر خورموج میں دو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ صوبہ فارس کے شہر شیراز کے ایک علاقے پر بھی امریکی فضائی حملہ ہوا۔ مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صورتحال قابو میں ہے۔
ادھر تہران نے خلیجی ممالک اور اردن کی جانب میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار دو ٹینکروں پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

