یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحادِ حمایتِ شرعیت کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا ہے کہ اتحادی مشترکہ افواج نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی اور شہری بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی جانب سے کسی بھی بحری جہاز کو دی جانے والی دھمکی کا پوری قوت اور سختی سے جواب دیا جائے گا۔
ترکی المالکی نے کہا کہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانا یا انہیں دھمکیاں دینا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے حوثیوں کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا محاصرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ دعوے حقائق کے منافی ہیں اور یمنی حکومت اور ہمسایہ ممالک کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
اتحادی ترجمان کے مطابق2026کے پہلے چھ ماہ کے دوران300سے زائد تجارتی جہاز حدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں پر پہنچے، جو خوراک، ایندھن، تجارتی سامان اور تعمیراتی مواد لے کر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حوثیوں کا محاصرے کا بیانیہ حقیقت پر مبنی نہیں۔
ترکی المالکی نے مزید کہا کہ صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور یمن ایئر ویز کے طیاروں کی تباہی کے ذمہ دار بھی خود حوثی ہیں، کیونکہ انہوں نے ہوائی اڈے سے پروازوں کی بحالی کے لیے پیش کی گئی تمام تجاویز مسترد کر دی تھیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ اتحادی مشترکہ افواج باب المندب سے گزرنے والی عالمی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور سمندری سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

