واشنگٹن:امریکی ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے کہا ہے کہ ایران میں حقیقی اور بنیادی تبدیلی لانے کا واحد مؤثر راستہ حکومت کی تبدیلی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے، امریکی شہریوں یا مفادات کو نشانہ بنانے اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر نے یہ باتیں ایران انٹرنیشنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہیں، جسے بعد ازاں چینل کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم”ایکس”پر بھی جاری کیا گیا۔ گفتگو کے دوران رک سکاٹ نے کہا کہ ایران کے موجودہ طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے حکومت کی تبدیلی ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔
انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ جوہری صلاحیتوں کے حصول کی کوششوں کے ساتھ ساتھ حماس، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے گروپوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایسی سرگرمیوں کو قبول نہیں کر سکتا جو امریکی مفادات اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہوں۔
رک سکاٹ امریکی کانگریس میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے نمایاں ریپبلکن رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر تہران کے خلاف مزید سخت پابندیوں، جوہری پروگرام کی روک تھام اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے مضبوط پالیسیوں کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی سرگرمیوں پر بین الاقوامی سطح پر تشویش برقرار ہے۔ امریکی حکام اور مغربی ممالک بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کی بعض سرگرمیاں خطے میں سلامتی اور اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر، میں جہاز رانی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق رک سکاٹ کے حالیہ ریمارکس ریپبلکن پارٹی کے بعض حلقوں میں پائی جانے والی اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت ایران کے ساتھ محض دباؤ یا پابندیوں کی پالیسی کو ناکافی سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ تہران کے رویے میں بنیادی تبدیلی کے لیے سیاسی نظام میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہو سکتی ہے۔

