واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف دو مرحلوں پر مشتمل عسکری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت ایران پر کسی بڑے یا”فیصلہ کن حملے”میں جلد بازی کے حامی نہیں ہیں اور آئندہ اقدامات کا انحصار تہران کے طرز عمل پر ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں ایک دوہری حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت ایک جانب ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب بحری کارروائیوں کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کا موقع فراہم کیا تھا، لیکن تہران نے اس کے بجائے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی پانیوں میں تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مجوزہ فریم ورک معاہدے کے اعلان کے بعد ایران کی جانب سے مجموعی طور پر23تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن حملوں میں تقریباً12ملاح ہلاک ہوئے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی خطرات کا خاتمہ اور عالمی جہاز رانی کے لیے سمندری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی فورسز ایرانی میزائل، ڈرون، عسکری صنعت، اسلحہ کی ترسیل کے نظام اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق اب انتظامیہ کے سامنے اہم سوال کارروائی کے دوسرے مرحلے کا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی سازوسامان منتقل کر رہا ہے، جس سے صدر کو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملوں کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ آئندہ صورتحال کا انحصار ایران کے فیصلوں پر ہوگا۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے تہران کو کشیدگی کم کرنے کا موقع دیا تھا، لیکن ایران نے جارحانہ رویہ اختیار کیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئندہ کیا راستہ اپناتا ہے۔
انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کی عسکری پیداواری صلاحیت، میزائل اور ڈرون پروگرام، بحری قوت اور متعدد کمانڈ مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے، اسی لیے اس وقت مزید بڑے حملے کی ضرورت پر محتاط غور کیا جا رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے ایران کی موجودہ عسکری صلاحیت کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جو شاہراہ پر کھڑے ہو کر پتھر پھینک سکتا ہے، جس سے خطرہ تو پیدا ہوتا ہے لیکن ٹریفک مکمل طور پر نہیں رکتی۔ ان کے مطابق ایران اب بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اس کی موجودہ کارروائیاں زیادہ تر نفسیاتی دباؤ تک محدود ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے بعض حکام کا خیال ہے کہ موجودہ فضائی حملے اور بحری محاصرہ ہی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں، کیونکہ ایرانی نظام پہلے ہی شدید معاشی مشکلات، داخلی بے چینی اور عوامی احتجاج کے خطرات سے دوچار ہے۔
امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ایران کی معیشت اور دفاعی صنعت کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی میں برسوں لگ سکتے ہیں اور ان کے بقول چین یا روس بھی مختصر مدت میں ایران کی سابقہ عسکری اور معاشی صلاحیت بحال نہیں کر سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے بعض حلقوں کی رائے ہے کہ خطے کے استحکام کے لیے بہترین راستہ یہی ہوگا کہ ایران مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے۔

