اقوامِ متحدہ نے بحیرۂ احمر میں جہازرانی کی آزادی اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی حالیہ دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے پیر کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 (2024) اور تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں سے متعلق دیگر قراردادوں پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہازرانی کی آزادی کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دوجارک نے بتایا کہ یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہنس گرنڈ برگ نے اتوار کو ریاض میں یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر راشد العلیمی، یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، جس کے بعد وہ مزید مذاکرات کے لیے عمان کے دارالحکومت مسقط روانہ ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں کشیدگی میں کمی، اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں2022کی جنگ بندی کے ثمرات کو برقرار رکھنے اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ہنس گرنڈ برگ نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کو وسیع تر علاقائی کشیدگی سے محفوظ رکھا جائے اور تنازع کے پائیدار حل کے لیے یمن کی قیادت میں جامع سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
دریں اثنا قطر نے بھی سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثی فوجی ترجمان کے ان بیانات کی شدید مذمت کی، جن میں سعودی عرب پر یمن کا محاصرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور مملکت کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکی دی گئی تھی۔
قطری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد2216اور بحیرۂ احمر میں جہازرانی کی آزادی سے متعلق قرارداد2722پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔ بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ جہازرانی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے۔
قطر نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ سعودی عرب کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، اور مملکت کی سلامتی کو قطر اور تمام خلیج تعاون کونسل(جی سی سی)ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ قرار دیا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے پیر کو حوثیوں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے الزامات حقیقت کے منافی ہیں اور ان کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔

