• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امریکہ کی ایران کے خلاف دو مرحلوں کی حکمت عملی، ٹرمپ فوری⁦”⁩فیصلہ کن حملے⁦”⁩کے حق میں نہیں
متفرقات

امریکہ کی ایران کے خلاف دو مرحلوں کی حکمت عملی، ٹرمپ فوری⁦”⁩فیصلہ کن حملے⁦”⁩کے حق میں نہیں

امریکی انتظامیہ کے بعض حکام کا خیال ہے کہ موجودہ فضائی حملے اور بحری محاصرہ ہی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 12, 2020Updated:جولائی 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

واشنگٹن⁦:⁩امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف دو مرحلوں پر مشتمل عسکری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت ایران پر کسی بڑے یا⁦”⁩فیصلہ کن حملے⁦”⁩میں جلد بازی کے حامی نہیں ہیں اور آئندہ اقدامات کا انحصار تہران کے طرز عمل پر ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں ایک دوہری حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت ایک جانب ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب بحری کارروائیوں کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کا موقع فراہم کیا تھا، لیکن تہران نے اس کے بجائے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی پانیوں میں تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مجوزہ فریم ورک معاہدے کے اعلان کے بعد ایران کی جانب سے مجموعی طور پر⁦23⁩تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن حملوں میں تقریباً⁦12⁩ملاح ہلاک ہوئے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی خطرات کا خاتمہ اور عالمی جہاز رانی کے لیے سمندری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی فورسز ایرانی میزائل، ڈرون، عسکری صنعت، اسلحہ کی ترسیل کے نظام اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

امریکی ذرائع کے مطابق اب انتظامیہ کے سامنے اہم سوال کارروائی کے دوسرے مرحلے کا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی سازوسامان منتقل کر رہا ہے، جس سے صدر کو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملوں کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ آئندہ صورتحال کا انحصار ایران کے فیصلوں پر ہوگا۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے تہران کو کشیدگی کم کرنے کا موقع دیا تھا، لیکن ایران نے جارحانہ رویہ اختیار کیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئندہ کیا راستہ اپناتا ہے۔

انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کی عسکری پیداواری صلاحیت، میزائل اور ڈرون پروگرام، بحری قوت اور متعدد کمانڈ مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے، اسی لیے اس وقت مزید بڑے حملے کی ضرورت پر محتاط غور کیا جا رہا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے ایران کی موجودہ عسکری صلاحیت کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جو شاہراہ پر کھڑے ہو کر پتھر پھینک سکتا ہے، جس سے خطرہ تو پیدا ہوتا ہے لیکن ٹریفک مکمل طور پر نہیں رکتی۔ ان کے مطابق ایران اب بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اس کی موجودہ کارروائیاں زیادہ تر نفسیاتی دباؤ تک محدود ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے بعض حکام کا خیال ہے کہ موجودہ فضائی حملے اور بحری محاصرہ ہی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں، کیونکہ ایرانی نظام پہلے ہی شدید معاشی مشکلات، داخلی بے چینی اور عوامی احتجاج کے خطرات سے دوچار ہے۔

امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ایران کی معیشت اور دفاعی صنعت کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی میں برسوں لگ سکتے ہیں اور ان کے بقول چین یا روس بھی مختصر مدت میں ایران کی سابقہ عسکری اور معاشی صلاحیت بحال نہیں کر سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے بعض حلقوں کی رائے ہے کہ خطے کے استحکام کے لیے بہترین راستہ یہی ہوگا کہ ایران مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے۔

culture gadgets phones technology
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاقوامِ متحدہ کا حوثیوں کی دھمکیوں پر اظہارِ تشویش، قطر کا سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان
Next Article پرانے زخم نئے گلاب
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.