• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی دستاویز نشر کر دیں
تازہ ترین

ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی دستاویز نشر کر دیں

امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے جائزوں میں کہا گیا کہ انتخابی بنیادی ڈھانچہ سائبر حملوں کی زد میں ہے
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرمارچ 10, 2022Updated:جولائی 18, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

وائٹ ہاؤس نے ان دستاویزات کا ایک بنڈل نشر کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا تعلق اس معاملے سے ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کی شفافیت قرار دیا تھا۔ انہوں نے امریکیوں سے وائٹ ہاؤس کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے ان کا جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان دستاویزات میں انٹیلی جنس رپورٹس، تحقیقاتی ریکارڈ اور سکیورٹی دستاویزات شامل ہیں جن میں ووٹنگ سسٹم کی سکیورٹی، ووٹرز کے ڈیٹا کی ہیکنگ، ریاست مشی گن میں ووٹرز کی رجسٹریشن کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ووٹر لسٹوں میں غیر شہریوں کی موجودگی سے متعلق جائزہ شامل ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کردہ جائزوں، جن میں سے کچھ کا تعلق⁦2020⁩اور⁦2026⁩کے درمیان کے عرصے سے ہے، نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امریکی انتخابی بنیادی ڈھانچہ بشمول الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں اور ووٹوں کی گنتی کے نظام، سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔

یہ دستاویزات اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ ووٹر رجسٹریشن کے ڈیٹا بیس، پولنگ کے ریکارڈ اور انتخابات کی سرکاری ویب سائٹس روس، چین، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری گروپوں کی جانب سے سب سے زیادہ نشانہ بنائے جانے والے مقامات ہیں۔

دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کی جانب سے اپنے ملک میں انتخابی نتائج میں ڈیجیٹل ہیرا پھیری کی صلاحیتوں سے متعلق معلومات کا مشاہدہ کیا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ یہ بات امریکی نظام کو کسی بھی ایسے ہی ہیکنگ کے واقعے سے بچانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ترمیم شدہ دستاویزات
نشر کی گئی دستاویزات کے وسیع حصے ترمیم شدہ ہیں کیونکہ متعدد صفحات پر ناموں یا پورے پیراگرافوں کو کالی لکیروں سے چھپایا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے حساس معاملات میں اس سے پہلے نشر کی جانے والی سرکاری دستاویزات میں کیا گیا تھا۔ پہلے ایسی نشر کی گئی دستاویز میں جیفری ایپسٹین کیس سے وابستہ فائلیں بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے نشر کی گئی دستاویزات میں ان حصوں کو چھپانے کی وجوہات یا ترمیم شدہ معلومات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی، یہ وہ طریقہ کار ہے جو عام طور پر ایسی سرکاری دستاویزات کو نشر کرتے وقت استعمال کیا جاتا ہے جن میں خفیہ معلومات یا ایسا ڈیٹا شامل ہو جس کا انکشاف ممنوع ہو۔

چین کا معاملہ
جہاں تک چین سے متعلق نشر کی جانے والی اہم ترین دستاویزات کا تعلق ہے تو ایک بڑا حصہ اس چیز کے لیے مختص کیا گیا ہے جسے ویب سائٹ نے تاریخ میں انتخابی ڈیٹا کی سب سے بڑی ہیکنگ قرار دیا ہے کیونکہ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ چین⁦2020⁩کے انتخابی دور سے لے کر اب تک تقریباً⁦22⁩کروڑ امریکی ووٹرز کے ڈیٹا کا ریکارڈ غیر قانونی طور پر حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس میں نام، پتے، فون نمبر، پارٹی وابستگیاں اور ووٹر رجسٹریشن میں استعمال ہونے والی دیگر معلومات شامل ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے اس ڈیٹا کو استعمال کرنے کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا تھا۔ وہ امریکی انٹیلی جنس کے سابق اداروں کے اندر موجود عہدیداروں پر اس واقعے کی اہمیت کو کم تر دکھانے اور صدر اور رائے عامہ کو اس کی تفصیلات سے آگاہ نہ کرنے کا الزام لگاتا ہے باوجود اس کے کہ امریکہ کی⁦18⁩ریاستوں میں ڈیٹا ہیکنگ کا انکشاف ہوا تھا۔

مشی گن کی تحقیق
ان دستاویزات میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن⁦(FBI)⁩کی وہ فائلیں بھی شامل ہیں جن کا تعلق⁦2020⁩کے انتخابات کے دوران ریاست مشی گن میں ووٹرز کی رجسٹریشن کے عمل کی تحقیقات سے ہے۔ دستاویزات کے مطابق ریاست کی پولیس نے بے ضابطگیوں کے شبہ کے بعد مسکیگن شہر میں ووٹرز کو متحرک کرنے سے وابستہ ایک تنظیم پر چھاپہ مارا تھا۔ اس کے بعد ایف بی آئی نے تحقیقات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ فائلیں بتاتی ہیں کہ کچھ ملازمین نے دوسرے لوگوں کے ناموں سے رجسٹریشن فارموں پر دستخط کرنے اور جمع کرائے گئے فارموں کی تعداد سے منسلک گفٹ کارڈز حاصل کرنے کے عوض غیر موجود لوگوں کے لیے درخواستیں دینے کا اعتراف کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے محققین کا ماننا ہے کہ ممکنہ جرائم کا ارتکاب ہوا ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں وزارت انصاف پر تحقیقات کو سست کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ نے ایف بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر کو معاملے کی پیروی کرنے اور بے ضابطگیاں ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دینے کا اعلان کیا ہے۔

غیر شہری
ان دستاویزات میں ایک جائزہ بھی شامل ہے جو وائٹ ہاؤس کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزارت کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے وفاقی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے رجسٹرڈ تقریباً⁦2⁩لاکھ⁦78⁩ہزار ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جو امریکی نہیں ہیں۔

دستاویزات کا دعویٰ ہے کہ حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ ریاستوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ ووٹرز کے ڈیٹا بیس کا اشتراک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کا ماننا ہے کہ یہ نتائج ووٹرز کی اہلیت کی تصدیق کے عمل میں خامیوں کی موجودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

نئی قانون سازی
دستاویزات کا اختتام انتخابی قوانین کو سخت کرنے کی دعوت پر ہوتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان میں جو کچھ سامنے آیا ہے وہ ایک کمزور انتخابی نظام کو بے نقاب کرتا ہے جسے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان اصلاحات میں ووٹرز کے لیے امریکی شہریت ثابت کرنا لازم قرار دینا، ووٹر آئی ڈی کارڈز کا زیادہ وسیع پیمانے پر اطلاق کرنا اور الیکٹرانک ووٹنگ سسٹمز اور رجسٹریشن ڈیٹا بیس کے تحفظ کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو وائٹ ہاؤس کے مطابق انتخابی شفافیت کے حوالے سے ٹرمپ کے ماضی میں جاری کردہ انتظامی احکامات کے عین مطابق ہیں۔

ردعمل اور شکوک
دوسری طرف ان دستاویزات نے امریکہ میں ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ نشر کردہ مواد⁦2020⁩کے انتخابی نتائج کے علاوہ کسی دھاندلی کے وقوع پذیر ہونے کو ثابت نہیں کرتا اور یہ کہ یہ بیرونی اثر و رسوخ کی کوششوں اور پولنگ کے نتائج کو تبدیل کرنے سے متعلق دعووں کے درمیان خلط ملط کرتا ہے۔ میڈیا رپورٹس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ماضی کے انٹیلی جنس جائزوں اور امریکی عدالتوں کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بیرونی مداخلت کے نتیجے میں⁦2020⁩کے صدارتی انتخابات کے نتائج تبدیل ہوئے ہوں۔

culture gadgets phones technology
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleایرانی قیادت میں اختلافات، ایک دھڑا امریکہ سے محاذ آرائی جبکہ دوسرا معاشی بحران سے پریشان
Next Article مارکو روبیو کا انتہائی بائیں بازو کے دہشت گردوں پر نئی ویزا پابندیوں کا اعلان
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسرائیل

اسرائیلی انتخابات میں غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات

اکتوبر 30, 2026
امریکہ

امریکہ، ایران پھر بڑی جنگ کے دہانے پر

اکتوبر 30, 2026
تازہ ترین

اسرائیلی انتخابات میں قطری فنڈنگ کے الزامات

اکتوبر 29, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.