واشنگٹن:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹرمپ انتظامیہ کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے تحت ایک نئی ویزا پابندی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی بائیں بازو کے دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے معاونین کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایسے عناصر کو”ہماری تہذیب کے دشمن”قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ امریکی عوام، معیشت اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ اعلان واشنگٹن میں سیاسی دہشت گردی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں تقریباً66سے67ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف ممالک کے حکام نے عالمی سطح پر انتہا پسندانہ نیٹ ورکس، سیاسی تشدد اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔
اپنے خطاب میں مارکو روبیو نے کہا کہ بعض گروہ خود کو سرمایہ دارانہ نظام مخالف، سامراج مخالف، کمیونسٹ، مارکسسٹ یا انارکسٹ قرار دیتے ہیں، تاہم ان کا مشترکہ مقصد تشدد کے ذریعے معاشروں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ ان کے بقول یہ تنظیمیں مساوات اور انصاف کے نعروں کی آڑ میں تشدد، تباہی اور خوف کو فروغ دیتی ہیں۔
روبیو نے مزید کہا کہ یہ گروہ مغربی معاشروں اور جمہوری اقدار کو نشانہ بناتے ہیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسے نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق نئی ویزا پابندی امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے سیکشن212(a)(3)(C)کے تحت نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت ایسے غیر ملکی شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے جن کی موجودگی امریکی خارجہ پالیسی یا قومی مفادات کے لیے سنگین منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہو۔
اس پالیسی کے تحت ان افراد کو ویزا جاری نہیں کیا جائے گا جو دہشت گردی یا پرتشدد سرگرمیوں کی حمایت، مالی معاونت، بھرتی، لاجسٹک سہولت یا املاک کی تباہی جیسے اقدامات میں ملوث ہوں، یا ایسے نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو منظم اور فروغ دینے میں کردار ادا کریں۔
مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ انتہائی بائیں بازو کے دہشت گردوں اور ان کے معاونین کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے نئی ویزا پابندیاں نافذ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے افراد امریکہ میں خوش آمدید نہیں ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کے صدارتی میمورنڈم نمبر7کے تحت کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے، جن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو مضبوط ہونے سے پہلے ہی ناکام بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی میں بین الاقوامی شراکت داری، مالیاتی تحقیقات، پابندیاں اور دیگر قانونی اقدامات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اس اعلان پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بعض ڈیموکریٹک قانون سازوں اور چند یورپی اتحادیوں نے پالیسی کے دائرہ کار، شواہد اور ممکنہ حد سے تجاوز پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ انتظامیہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف امریکہ کی قومی سلامتی کی پالیسی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس پالیسی کے تحت مزید اقدامات اور ممکنہ نئی نامزدگیوں کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس فیصلے کے اثرات پر پالیسی سازوں اور مبصرین کی گہری نظر ہے۔

