
پاکستان میں کھیل ہمیشہ سے صحت مند سرگرمیوں، نوجوانوں کی مثبت توانائی اور قومی یکجہتی کا استعارہ رہے ہیں۔ لیکن جب کھیل کے یہی مقدس میدان اخلاقی زوال اور جنسی ہراسانی جیسے قبیح افعال کی آماجگاہ بن جائیں تو یہ صرف اسپورٹس بورڈز کی ناکامی نہیں بلکہ پورے معاشرتی اور انتظامی نظام پر ایک گہرا داغ ہے۔ ماضی میں کھیلوں کے شعبے میں ہراسانی کے واقعات زیادہ تر خواتین کھلاڑیوں تک محدود سمجھے جاتے تھے یا ان کو دبا دیا جاتا تھا، لیکن بلوچستان کے ضلع لورالائی سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب لڑکے بھی اس درندانہ رویے سے محفوظ نہیں رہے اور طاقت کے نچلے درجے پر موجود معصوم کھلاڑی مسلسل استحصال کا شکار ہیں۔
لورالائی کا کیس:سچائی، انتظامی مداخلت اور پی ایف ایف کا کردار
ضلع لورالائی کے ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر کے خلاف ایک متاثرہ کھلاڑی نے پاکستان فٹبال فیڈریشن(پی ایف ایف)کی لیگل اور ڈسپلنری کمیٹی کو باقاعدہ درخواست جمع کروائی۔ اس واقعے میں سب سے زیادہ تشویشناک بات پاکستان فٹبال فیڈریشن کا ابتدائی رویہ اور اس نازک مسئلے کو پردہِ اخفا میں رکھنے یا نظر انداز کرنے کی کوشش تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان فٹبال فیڈریشن جیسے قومی ادارے کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کی سرپرستی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، تو اس نے اس سنگین کیس کو خود سے آگے بڑھا کر سخت ترین کارروائی کرنے کے بجائے اسے دبانے کی کوشش کیوں کی؟
اگر ضلع لورالائی کی انتظامیہ اور مقامی سطح سے شدید مداخلت اور دباؤ سامنے نہ آتا تو شاید پی ایف ایف کی کمیٹی کا یہ فیصلہ کبھی سامنے نہ آتا۔ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے اسپورٹس فیڈریشنز کے اندر شفافیت، اخلاقی ذمہ داری اور انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کس قدر مفلوج ہو چکی ہے۔
معاشرتی اقدار، مذہبی ماحول اور والدین کا اٹھتا ہوا اعتماد
پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مذہبی اور روایتی اقدار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں والدین اپنے بچوں کو کھیلوں کے کلبوں، اکیڈمیوں اور دور دراز ٹورنامنٹس میں اس امید اور اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ کھیل کا ماحول ان کی جسمانی و اخلاقی تربیت کرے گا۔
لیکن جب کوچز، عہدیدار اور منتظمین ہی کھلاڑیوں کی عزت اور حفاظت کے لیے خطرہ بن جائیں تو کوئی بھی غیرت مند اور باضمیر والدین اپنے بچوں کی زندگی اور عزت کو داؤ پر لگا کر انہیں اسپورٹس کی جانب نہیں بھیجے گا۔
نوجوان استعداد کی تباہی:ایسے خوفزدہ ماحول کے نتیجے میں ملک کا بے پناہ ٹیلنٹ میدانوں میں قدم رکھنے سے پہلے ہی دم توڑ جائے گا، جس سے نچلی سطح پر کھیلوں کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔
کیا یہ ہمارے ملک میں کھیلوں کی تباہی کا پیش خیمہ ہے؟
کسی بھی ملک میں کھیلوں کی تباہی صرف فنڈز کی کمی یا بین الاقوامی پابندیوں سے نہیں ہوتی، بلکہ جب نظام کے اندر سے انصاف، تحفظ اور اخلاقیات ختم ہو جائیں تو کھیل خود بخود برباد ہو جاتے ہیں۔ پی ایف ایف سمیت دیگر اسپورٹس باڈیز کی اس قسم کی مجرمانہ غفلت اور کیسز کو چھپانے کی پالیسی کھیل کے مستقبل پر خودکش حملے کے مترادف ہے۔ جب تک مجرموں کو تحفظ ملتا رہے گا اور انتظامیہ اپنے عہدیداروں کے بچاؤ کے لیے”سائلنٹ موڈ”اختیار کرے گی، تب تک کوئی بھی کھلاڑی میدان میں پوری صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکے گا۔
اصلاحات کے لیے ہنگامی تجاویز
اس تباہی سے کھیلوں کے شعبے کو بچانے اور میدانوں کو دوبارہ پاکیزہ و محفوظ بنانے کے لیے درج ذیل بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
آزاد اور خود مختار اینٹی ہراسمنٹ سیل:پی ایف ایف اور دیگر تمام اسپورٹس فیڈریشنز میں ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں جن میں فیڈریشن کے اپنے عہدیداروں کے بجائے آزاد قانونی ماہرین، انسدادِ ہراسانی کے محتسب اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہوں تاکہ کیسز کو چھپایا نہ جا سکے۔
زیرو ٹالرنس اور تاحیات پابندی:جنسی ہراسانی میں ملوث ثابت ہونے والے کسی بھی عہدیدار، صدر يا کوچ کے خلاف نفاذِ قانون کے اداروں کے ذریعے فوجداری مقدمات درج کیے جائیں اور ان پر اسپورٹس کی تمام سرگرمیوں میں تاحیات پابندی لگائی جائے۔
تمام اسپورٹس باڈیز کو پابند کیا جائے کہ وہ ہراسانی کی شکایات اور ان پر کی جانے والی کارروائی کی رپورٹ عوام اور وزراتِ کھیل کے سامنے پیش کریں
۔
کھلاڑیوں کے لیے سیف گارڈنگ پالیسی:جونیئر اور سینئر دونوں سطح کے کھلاڑیوں کو ان کے حقوق سے متعلق آگاہی دی جائے اور ایک محفوظ، خفیہ اور بلا خوف شکایت درج کروانے کا پورٹل فراہم کیا جائے۔
پاکستان میں کھیلوں کی بقا اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنے میدانوں اور اداروں کو کالی بھیڑوں سے پاک کریں۔ لورالائی کا واقعہ ایک آخری خبردار کرنے والی گھنٹی ہے؛ اگر اب بھی پی ایف ایف اور اعلیٰ حکام نے اپنی آنکھیں بند رکھیں تو یہ واقعی ملک میں کھیلوں کی مکمل تباہی کا سبب بنے گا۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

