واشنگٹن:امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے لیے مبینہ طور پر خفیہ مالیاتی سرگرمیوں میں معاونت کرنے والے ایک وسیع نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں ایکسچینج کمپنیاں، فرنٹ کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے شامل ہیں، جن پر ایران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام کے ذریعے سینکڑوں ملین ڈالر منتقل کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق نئی کارروائی کا مقصد تہران کو ان مالی وسائل تک رسائی سے محروم کرنا ہے جنہیں ایرانی حکومت اپنی علاقائی سرگرمیوں اور دیگر ترجیحات کی معاونت کے لیے استعمال کرتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے نیٹ ورک نے ایران کو پٹرولیم سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی برقرار رکھنے، منی لانڈرنگ کرنے اور سرحد پار رقوم منتقل کرنے کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور خفیہ مالیاتی طریقہ کار کا استعمال کیا۔ واشنگٹن کے مطابق ان ذرائع نے ایرانی حکومت کو امریکی پابندیوں سے بچنے اور عالمی مالیاتی نظام میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد فراہم کی۔
امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف اختیار کی گئی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کا حصہ ہے۔ واشنگٹن کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ان مالیاتی ذرائع کو محدود اور ختم کرنا ہے جنہیں ایرانی حکومت مبینہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی حمایت، خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ نئی پابندیوں میں ان بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں اور افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے مبینہ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورک کو چلانے یا اس کے لیے سہولت کاری میں کردار ادا کیا۔ امریکی حکام نے خبردار کیا کہ ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرنے والی کسی بھی فریق کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی وزارت خزانہ نے غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف اپنی کارروائیوں کے سلسلے میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کے دو اہم پلیٹ فارمز کو بھی پابندیوں کی زد میں لیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق یہ پلیٹ فارم ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور دیگر متعلقہ گروہوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والے ذرائع سے منسلک ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے اپنی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیے جانے والے مالیاتی راستوں کو بند کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیاں ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے میں مدد دیں گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے اندر معاشی بدعنوانی اور مالی بدانتظامی کے حالات مزید خراب ہونے کا امریکی مؤقف ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ کارروائی ایگزیکٹو آرڈر13902کے تحت کی گئی ہے، جو ایرانی مالیاتی اور پٹرولیم شعبوں میں سرگرم بعض افراد اور اداروں کو پابندیوں کا ہدف بناتا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ یہ اقدام ایران پر دباؤ بڑھانے سے متعلق صدارتی قومی سلامتی یادداشت نمبر2کے مطابق بھی ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول(OFAC)کی جانب سے2026کے دوران ایرانی ’’شیڈو بینکنگ سسٹم‘‘ کے خلاف یہ آٹھویں بڑی کارروائی ہے۔
اس سے قبل عائد کی گئی پابندیوں میں ایرانی بینکوں، ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر سے منسلک مبینہ فرنٹ کمپنیوں، ایکسچینج کمپنیوں، ان کے ڈائریکٹرز اور اہم مالی معاونین کے علاوہ ایرانی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ امریکی حکومت کا الزام ہے کہ ان میں سے بعض عناصر منی لانڈرنگ اور ایران میں مالی آمدنی واپس منتقل کرنے کے لیے ان خفیہ مالیاتی نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔

