العربیہ اور الحدث کے ایک ذریعہ نے بتایا ہے کہ عراقی کوآرڈینیشن فریم ورک30ستمبر سے پہلے اپنے ہتھیار حوالے کرنے کے لیے مختلف ملیشیاؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے رہا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کوآرڈینیشن فریم ورک کا ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے تاکہ ملیشیاؤں کے ہتھیاروں کے حوالے کرنے پر بات چیت کی جا سکے۔ عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے تمام ملیشیاؤں کے لیے اپنے ہتھیار عراقی ریاست کے حوالے کرنے کی حتمی تاریخ30ستمبر مقرر کی تھی۔
چاروں صدارتوں اور سیاسی بلاکس کے رہنماؤں پر مشتمل ’’ سٹیٹ ایڈمنسٹریشن ایلیئنس ‘‘ نے اپنے اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ جو بھی گروپ اپنے ہتھیار حوالے نہیں کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردی کے انسداد کے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ سکیورٹی میڈیا سیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عراقی حکومت بغیر کسی واپسی کے ریاست کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ سکیورٹی میڈیا سیل نے یہ بھی کہا کہ قبائلی تنازعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور وہ کچھ علاقوں میں ختم ہونے کے قریب ہیں۔
سیل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سعد معن نے عراقی نیوز ایجنسی(وا)کو بتایا کہ ریاست کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کو محدود کرنے کی قومی پالیسی ایک ایسا مشن ہے جو قومی سلامتی کونسل کے سال2018کے قرار داد نمبر21کے تحت منظور کیا گیا تھا۔ یہ ایک سرکاری دستاویز ہے جس کا مقصد ریاست کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی منتقلی، صرف سکیورٹی اور فوجی اداروں میں ہتھیاروں کا استعمال، ہتھیاروں کے لائسنس کو منظم کرنا، ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت کا خاتمہ، غیر اجازت یافتہ ہتھیاروں کو جمع کرنا اور ان کے پھیلاؤ کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس معاملے پر گامزن ہے اور اس سے کوئی واپسی نہیں ہے کیونکہ یہ منصوبہ سکیورٹی کی سطح کو بلند کرنے، اداروں پر اعتماد کو مضبوط بنانے، معیشت اور سرمایہ کاری کو سپورٹ کرنے، ریاست کی دھاک بٹھانے اور آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ مستحکم ماحول فراہم کرنے کا ضامن ہے۔

