
"فیفا یورپ کو ہی جتواتا ہے”
2026 کا ورلڈ کپ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلا گیا۔دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی کامیابیوں کو لے کر دنیا بھر خاص کر ایشیا میں شور مچ گیا کہ میسی الیون کی کامیابیوں میں ورلڈ فٹبال گورننگ باڈی فیفا کا ہاتھ ہے۔ اس الزامات میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا درد اس حوالے سے ہم حقائق کا جائزہ لیں گے ۔
پہلا سوال ہے کہ کیا ورلڈ کپ کے میچز فکس ہوتے ہیں؟
الزام کی جڑ،2002کے ورلڈ کپ میں جنوبی کوریا نے اٹلی اور اسپین کو ہرایا۔ ریفری بائرن مورینو پر رشوت کے الزامات لگے۔2010میں فرینک لیمپارڈ کا شاٹ لائن کے1فٹ اندر تھا، گول نہیں دیا گیا۔2022میں ارجنٹینا کو گروپ اسٹیج میں5پینلٹی ملے۔ جب
ایسے لمحات وائرل ہوتے ہیں اور”سازش”کی تھیوری جنم لیتی ہے۔
اس سلسلے میں فیفا کیا کہتا ہے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم
فیفا2005سے "Early Warning System – EWS” چلا رہا ہے۔ یہ سسٹم دنیا کی80+بیٹنگ کمپنیوں سے ڈیٹا لے کر ان کی مانیٹر کرتا ہے۔ اگر کسی میچ پر غیر معمولی بیٹنگ آئے تو15منٹ میں الرٹ جاتا ہے۔
فیفا کے سیکیورٹی چیف تیلف میشکر2022میں کہہ چکے ہیں: _”ہم نے قطر ورلڈ کپ کے64میں سے64میچز کو ہائی رسک کیٹیگری میں مانیٹر کیا۔ ایک بھی فکسنگ کا ثبوت نہیں ملا۔_دوسری جانب
اسپورٹس انٹیگریٹی کے ماہر ڈیکلین ہل جنہوں نے "The Fix” نامی کتاب لکھی، وہ مانتے ہیں کہ لوئر لیگ، ایشین چیمپئنز لیگ کے کوالیفائرز میں فکسنگ ہوتی ہے۔ لیکن ورلڈ کپ میں ایسا ہونا ناممکن کے قریب ہے۔ ان کے مطابق26کھلاڑی،4آفیشلز، وی اے آر کے دس کیمرے۔ ایک بندہ بول گیا تو پورا سسٹم بیٹھ جائے گا ۔ورلڈ کپ میں”فکسنگ”کا کوئی ثابت شدہ کیس نہیں۔ لیکن”انسانی غلطی”اور”دباؤ”ضرور ہے۔ ویڈیو اسٹینٹ ریفری کےآنے کے بعد متنازع فیصلے40فیصد کم ہوئے ہیں۔
دوسرا سوال کیا فیفا یورپ کو سپورٹ کرتا ہے؟۔
اس کا جواب”ہاں اور نہیں”دونوں ہے۔1930سے اب تک23ورلڈ کپ کھیلے گئے
یورپ نے بارہ ٹائٹل اور جنوبی امریکہ نے دس ٹائٹل حاصل کئے،باقی کوئی براعظم کو ٹائٹل کی جنگ کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔
کیوں؟ کیونکہ فٹبال کا پیسہ یورپ میں ہے۔-پریمیئر لیگ کا ایک سال کا ٹی وی ڈیل6.7ارب پاؤنڈ بنتا ہے، چیمپئنز لیگ کی پرائز منی2.3ارب یورو ہے۔ فرانس کی ایک اکیڈمی کلئیرفونٹین کا بجٹ10ملین یورو سالانہ ہے۔
جب ایک سینیگال کا14سال کا بچہ یورپ کی اکیڈمی میں ٹریننگ لے گا تو وہ سینیگال کے لیے نہیں، فرانس کے لیے کھیلے گا۔ ٹیلنٹ کا ڈرین یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
ناقدین3چیزیں گنواتے ہیں۔میچ کے اوقات،2022قطر میں یورپی پرائم ٹائم کے لیے میچز دوپہر1اور شام4بجے رکھے گئے۔ قطر میں گرمی40ڈگری تھی۔ جنوبی امریکی اور افریقی ٹیموں نے شکایت کی۔
ایک تحقیق کے مطابق، ہوم ٹیم کو60فیصد زیادہ فاؤل کے فیصلے ملتے ہیں۔ میزبان یورپی ملک ہو تو فائدہ یورپ کو ملے گا۔
فیفا کی37رکنی کونسل میں یورپ کے9ووٹ ہیں۔ فیصلے وہیں بنتے ہیں۔فیفا کے صدر انفنٹینو نے2017میں آ کر سب سے بڑا قدم اٹھایا۔ ورلڈ کپ32سے48ٹیموں کا کر دیا۔اس فیصلہ سے
ایشیا کا سلوٹ4.5سے8ہوگیا،
افریقہ5سے9،
یورپ کا13سے16شمالی امریکہ کا3.5سے6ہوگیا،
یعنی تناسب کے لحاظ سے یورپ کا حصہ کم ہوا۔2026میں پہلی بار3میزبان بھی ملے-امریکہ، میکسیکو، کینیڈا۔ یہ سب یورپ سے باہر فٹبال بڑھانے کی کوشش ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
مسئلہ میچ فکسنگ نہیں بلکہ موقع کی فکسنگ ہے۔
ایک برازیل کا بچہ فٹ پاتھ پر گیند سے کھیل کر نیمار بن جاتا ہے۔ ایک نائجیریا کا بچہ کیچڑ میں کھیل کر اوسمن بن جاتا ہے۔ لیکن ایک پاکستانی، بھارتی یا امریکی بچے کے پاس اکیڈمی، کوچ، گراؤنڈ ہی نہیں۔
فیفا ہر چار سال میں چھ ارب ڈالر کماتا ہے۔ اس میں سے صرف10فیصد”فٹبال ڈیولپمنٹ”پر لگتا ہے۔ باقی ایونٹ، تنخواہیں، انتظامیہ کو جاتا ہے۔
سابق فیفا صدر سیپ بلیٹر پر2015میں کرپشن کے الزامات لگے۔14آفیشلز گرفتار ہوئے۔ اس سے لوگوں کا اعتماد ٹوٹا۔ اب ہر غلط فیصلہ”سازش”لگتا ہے۔
ورلڈ کپ جیتنے کے لیے تین چیزیں چاہیے، پیسہ، پلان اورصبر۔
جاپان نے1993میں کے لیگ متعارف کرائی ۔جاپانی ٹیم نے30سال بعد جرمنی اور اسپین کو ہرا دیا۔
مراکش نے2022میں سیمی فائنل کھیلا کیونکہ اس نے بیس سالہ منصوبہ بندی کے تحت یورپ میں بیٹھے مراکشی کھلاڑیوں کو واپس بلایا۔
الزام لگانا آسان ہے۔ گراؤنڈ بنانا مشکل ہے۔
کیونکہ ٹرافی وہی اٹھائے گا جس نے سب سے زیادہ محنت کی ہوگی، نہ کہ جس کے پاس سب سے بڑی لابی ہے۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔

