• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » حوالدار غلام علی اور آزادی
ایشیا

حوالدار غلام علی اور آزادی

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 11, 2026Updated:اگست 11, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

حسن مجتبیٰ⁦
⁩پروفیسر وزیرہ زمیندار نے برصغیرِ ہند و پاکستان کی تقسیم پر ایک نہایت داستانِ خونچکاں کتاب لکھی ہے، جس میں انہوں نے تقسیم سے بچھڑنے والے کئی خاندانوں کی درد بھری داستانیں رقم کی ہیں۔ ان میں حوالدار غلام علی کا قصہ نہایت دل پسیجنے والا ہے۔ ایک حوالدار غلام علی ہی کیا، ایسے لاکھوں غلام علی تھے جو تقسیم کے وقت تاریخ کے پہیے کے نیچے آ گئے اور دونوں طرف مارے گئے۔ جو زندہ بچ گئے، وہ بھی مردوں جیسے جیتے رہے۔

وزیرہ زمیندار کی اجازت سے ان کی کتاب سے حوالدار غلام علی کا قصہ کچھ یوں ہے⁦:⁩غلام علی آرمی میں ایک چھوٹا سا دیسی اہلکار، یعنی حوالدار، تھا جسے دوسری جنگِ عظیم کے آخری دنوں میں مصنوعی اعضا بنانے والی ایک فیکٹری میں تکنیکی تربیت کے لیے برطانیہ بھیجا گیا تھا۔ جب حوالدار غلام علی⁦3⁩جون⁦1947⁩کو برطانیہ سے واپس لوٹا تو اس کی تعیناتی راولپنڈی کے قریب چکلالہ کی ایک فوجی ورکشاپ میں کر دی گئی۔⁦3⁩جون⁦1947⁩وہ دن تھا جب برصغیرِ ہند کی تقسیم کا اعلان ہوا۔ اس کے ساتھ برصغیر پر برطانوی راج کے طویل دور کا خاتمہ بھی طے ہو گیا اور ایک پارٹیشن کونسل تشکیل دے دی گئی، جسے نوآبادیاتی ریاستی مشینری کو گن کر ٹھیک دو حصوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس مشینری میں میز کرسی سے لے کر موسمی آلات اور فوجی سازوسامان تک، ریلوے انجنوں سے لے کر دفتری کلرکوں تک، ہر شے اور ہر اہلکار کی تقسیم ہونی تھی۔ حکومت اور فوج میں شامل تمام لوگوں سے بھی پوچھا جانا تھا کہ آزادی کے بعد وجود میں آنے والی دو قومی ریاستوں، انڈیا اور پاکستان، میں سے وہ کس ملک کا انتخاب کریں گے۔

حوالدار غلام علی نے انڈین آرمی کا انتخاب کیا، کیونکہ اس کا خاندان لکھنؤ میں رہتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ نقشوں پر وہ لکیریں کھینچی جاتیں جن میں آزادی کے بعد لکھنؤ کو انڈیا اور چکلالہ کو نئے ملک پاکستان میں دکھایا جانا تھا، راولپنڈی میں نسل کشی کی سطح کا تشدد بھڑک اٹھا۔ پھر کشمیر پر دونوں نوزائیدہ ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

غلام علی بھی انڈیا جانے سے قاصر رہا اور راولپنڈی میں پاکستان کی نئی تشکیل شدہ فوج میں کام کرنے پر مجبور رہا۔ لیکن⁦1950⁩میں بالآخر حوالدار غلام علی کو پاکستان آرمی نے اس بنیاد پر ڈسچارج کر دیا کہ اس نے انڈین آرمی کا انتخاب کیا تھا۔

مصنوعی اعضا بنانے کی تربیت رکھنے والے غلام علی کو پاکستانی حکام کھوکھراپار کی سرحدی چوکی پر لے گئے اور زبردستی سرحد پار، انڈیا کے علاقے میں دھکیل دیا۔ لیکن بھارتی چیک پوسٹ والوں نے اسے بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا۔ بھارتی ملٹری پولیس نے اسے بغیر سفری پرمٹ کے سرحد عبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ غلام علی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے ایک سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑی۔⁦1951⁩میں اسے اس بنیاد پر بھارت بدر کر دیا گیا کہ وہ پاکستانی تھا۔

بے سروسامان غلام علی نے پاکستانی عدالتوں میں برسوں تک عرضیاں دائر کیں کہ اسے پاکستانی شہری تسلیم کیا جائے، لیکن⁦1956⁩میں پاکستانی عدالت نے اسے ہندوستانی شہری قرار دے دیا۔

اس کے بعد غلام علی نے خود سے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا تاکہ لکھنؤ میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر سکے۔ غلام علی انڈیا پہنچا، جہاں اس نے بھارتی شہریت کے لیے درخواست دائر کی، جو مسترد کر دی گئی۔ اس کے بھائی کی اپیلوں کے باوجود⁦1957⁩میں اتر پردیش کی صوبائی حکومت نے غلام علی کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

جب اسے ہندوستانی پولیس کی معیت میں واہگہ سرحد کے راستے بھارت بدر کیا گیا تو جواب میں پاکستانی اہلکاروں نے اسے پھر بھارتی شہری سمجھتے ہوئے گرفتار کر لیا اور لاہور کے ’’ہندو کیمپ‘‘ میں رکھ دیا۔

وزیرہ زمیندار نے برصغیر کی تقسیم پر اپنی اس حکایتِ خونچکاں کو زبانی تاریخ کے طور پر قلم بند کیا ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ کراچی اور دہلی کے تقسیم شدہ خاندانوں کی رودادوں اور ان کی زبانی تاریخ پر مبنی ہے۔ ایسے لوگوں کو وزیرہ زمیندار نے ’’خاموشی کے ڈرونز‘‘ قرار دیا ہے، جو نہ کہہ پائے اور نہ کہہ سکتے تھے۔

مصنفہ حوالدار غلام علی کی کہانی کے آخر میں کہتی ہیں کہ منٹو کے ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کی طرح غلام علی بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کے دل و دماغ دونوں ملکوں کے درمیان خاردار تاروں میں پھنس کر رہ گئے تھے⁦:⁩ہندوستان کہاں ہے؟
پاکستان کہاں ہے؟
کون پاکستانی ہے اور کون ہندوستانی؟

 

ڈس کلیمر:

نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

1947 کی تقسیم آزادی انسانی المیہ برصغیر پاکستان کی تاریخ پنجاب کی تقسیم تاریخ پاکستان تاریخ ہندوستان تقسیم پاکستان تقسیم کا المیہ تقسیم کی داستانیں تقسیم ہند ٹوبہ ٹیک سنگھ چکلالہ حسن مجتبیٰ حوالدار غلام علی راولپنڈی ریٹا کوٹھاری زبانی تاریخ سعادت حسن منٹو شہریت کشمیر کھوکھراپار لکھنو مہاجرین ہجرت ہندوستان پاکستان ہندوستان کی تاریخ واہگہ سرحد وزیرہ زمیندار
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleقومی اقلیتی دن، صدر اور وزیراعظم کا مذہبی آزادی پر زور
Next Article کیوبا میں امریکی انٹیلی جنس سرگرمیاں تیز
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.