
وزیرہ زمیندار کی اجازت سے ان کی کتاب سے حوالدار غلام علی کا قصہ کچھ یوں ہے:غلام علی آرمی میں ایک چھوٹا سا دیسی اہلکار، یعنی حوالدار، تھا جسے دوسری جنگِ عظیم کے آخری دنوں میں مصنوعی اعضا بنانے والی ایک فیکٹری میں تکنیکی تربیت کے لیے برطانیہ بھیجا گیا تھا۔ جب حوالدار غلام علی3جون1947کو برطانیہ سے واپس لوٹا تو اس کی تعیناتی راولپنڈی کے قریب چکلالہ کی ایک فوجی ورکشاپ میں کر دی گئی۔3جون1947وہ دن تھا جب برصغیرِ ہند کی تقسیم کا اعلان ہوا۔ اس کے ساتھ برصغیر پر برطانوی راج کے طویل دور کا خاتمہ بھی طے ہو گیا اور ایک پارٹیشن کونسل تشکیل دے دی گئی، جسے نوآبادیاتی ریاستی مشینری کو گن کر ٹھیک دو حصوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس مشینری میں میز کرسی سے لے کر موسمی آلات اور فوجی سازوسامان تک، ریلوے انجنوں سے لے کر دفتری کلرکوں تک، ہر شے اور ہر اہلکار کی تقسیم ہونی تھی۔ حکومت اور فوج میں شامل تمام لوگوں سے بھی پوچھا جانا تھا کہ آزادی کے بعد وجود میں آنے والی دو قومی ریاستوں، انڈیا اور پاکستان، میں سے وہ کس ملک کا انتخاب کریں گے۔
حوالدار غلام علی نے انڈین آرمی کا انتخاب کیا، کیونکہ اس کا خاندان لکھنؤ میں رہتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ نقشوں پر وہ لکیریں کھینچی جاتیں جن میں آزادی کے بعد لکھنؤ کو انڈیا اور چکلالہ کو نئے ملک پاکستان میں دکھایا جانا تھا، راولپنڈی میں نسل کشی کی سطح کا تشدد بھڑک اٹھا۔ پھر کشمیر پر دونوں نوزائیدہ ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔
غلام علی بھی انڈیا جانے سے قاصر رہا اور راولپنڈی میں پاکستان کی نئی تشکیل شدہ فوج میں کام کرنے پر مجبور رہا۔ لیکن1950میں بالآخر حوالدار غلام علی کو پاکستان آرمی نے اس بنیاد پر ڈسچارج کر دیا کہ اس نے انڈین آرمی کا انتخاب کیا تھا۔
مصنوعی اعضا بنانے کی تربیت رکھنے والے غلام علی کو پاکستانی حکام کھوکھراپار کی سرحدی چوکی پر لے گئے اور زبردستی سرحد پار، انڈیا کے علاقے میں دھکیل دیا۔ لیکن بھارتی چیک پوسٹ والوں نے اسے بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا۔ بھارتی ملٹری پولیس نے اسے بغیر سفری پرمٹ کے سرحد عبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ غلام علی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے ایک سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑی۔1951میں اسے اس بنیاد پر بھارت بدر کر دیا گیا کہ وہ پاکستانی تھا۔
بے سروسامان غلام علی نے پاکستانی عدالتوں میں برسوں تک عرضیاں دائر کیں کہ اسے پاکستانی شہری تسلیم کیا جائے، لیکن1956میں پاکستانی عدالت نے اسے ہندوستانی شہری قرار دے دیا۔
اس کے بعد غلام علی نے خود سے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا تاکہ لکھنؤ میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر سکے۔ غلام علی انڈیا پہنچا، جہاں اس نے بھارتی شہریت کے لیے درخواست دائر کی، جو مسترد کر دی گئی۔ اس کے بھائی کی اپیلوں کے باوجود1957میں اتر پردیش کی صوبائی حکومت نے غلام علی کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
جب اسے ہندوستانی پولیس کی معیت میں واہگہ سرحد کے راستے بھارت بدر کیا گیا تو جواب میں پاکستانی اہلکاروں نے اسے پھر بھارتی شہری سمجھتے ہوئے گرفتار کر لیا اور لاہور کے ’’ہندو کیمپ‘‘ میں رکھ دیا۔
وزیرہ زمیندار نے برصغیر کی تقسیم پر اپنی اس حکایتِ خونچکاں کو زبانی تاریخ کے طور پر قلم بند کیا ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ کراچی اور دہلی کے تقسیم شدہ خاندانوں کی رودادوں اور ان کی زبانی تاریخ پر مبنی ہے۔ ایسے لوگوں کو وزیرہ زمیندار نے ’’خاموشی کے ڈرونز‘‘ قرار دیا ہے، جو نہ کہہ پائے اور نہ کہہ سکتے تھے۔
مصنفہ حوالدار غلام علی کی کہانی کے آخر میں کہتی ہیں کہ منٹو کے ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کی طرح غلام علی بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کے دل و دماغ دونوں ملکوں کے درمیان خاردار تاروں میں پھنس کر رہ گئے تھے:ہندوستان کہاں ہے؟
پاکستان کہاں ہے؟
کون پاکستانی ہے اور کون ہندوستانی؟
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

