کولمبیا نے باضابطہ طور پر گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد وہ امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے اس متنازع علاقے پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم کیا ہے۔
کولمبیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام کے تناظر میں گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ کولمبین حکومت کے مطابق گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی کنٹرول اسرائیل کے دفاع اور اس کے شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت کا ایک ’’لازمی جزو‘‘ ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’تاریخی فیصلہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کولمبیا کے حال ہی میں منصب سنبھالنے والے صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔ ساعر کے مطابق یہ اقدام کولمبین صدر کے اسرائیل اور اس کی سلامتی کے لیے عزم کا اظہار ہے۔
اسرائیل نے1967کی چھ روزہ جنگ کے دوران شام سے گولان کی پہاڑیوں کے بیشتر حصے پر قبضہ کیا تھا اور1981میں وہاں اسرائیلی قانون نافذ کر دیا تھا۔ تاہم بیشتر ممالک آج بھی گولان کی پہاڑیوں کو شامی سرزمین تصور کرتے ہیں۔ مارچ2019میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔
کولمبیا کا حالیہ فیصلہ بوگوٹا اور یروشلم کے تعلقات میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔ کولمبیا کی نئی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہے۔
گولان کی پہاڑیوں کی اہمیت صرف عسکری نوعیت کی نہیں بلکہ اس خطے میں توانائی کے ممکنہ وسائل بھی موجود ہیں۔2015میں امریکی کمپنی جینی انرجی کی ذیلی کمپنی آفیک آئل اینڈ گیس نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی گولان میں تجرباتی کھدائی کے دوران تیل رکھنے والی غیر معمولی طور پر موٹی ارضیاتی تہہ دریافت ہوئی ہے۔
کمپنی کے چیف ماہر ارضیات کے مطابق تیل بردار تہہ تقریباً350میٹر موٹی تھی، جبکہ کئی روایتی تیل دریافتوں میں یہ موٹائی عموماً20سے30میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ ابتدائی اندازوں سے یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ اس تشکیل میں اربوں بیرل تیل موجود ہو سکتا ہے، جو اسرائیل کے طویل مدتی توانائی کے منظرنامے میں نمایاں تبدیلی لا سکتا تھا۔
تاہم ابتدائی نتائج سے تجارتی بنیادوں پر قابلِ حصول تیل کے ذخائر ثابت نہیں ہوئے۔ آفیک نے مزید تجرباتی کھدائی جاری رکھی، جبکہ تجارتی پیداوار کے لیے اضافی حکومتی منظوریوں کی ضرورت تھی۔2017تک جینی انرجی نے کھدائی کا پروگرام معطل کر دیا، کیونکہ کمپنی کے مطابق ہدف بنائی گئی ارضیاتی تشکیل میں تجارتی پیمانے پر قابلِ پیداوار تیل یا قدرتی گیس موجود نہیں تھی۔
اس کے باوجود یہ دریافت گولان کی پہاڑیوں کی تزویراتی اہمیت کے ایک اور پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ علاقہ شمالی اسرائیل اور جنوبی شام پر نظر رکھتا ہے، اہم آبی وسائل کا حامل ہے اور اس کی زیرِ زمین سطح میں ہائیڈروکاربن کے نمایاں امکانات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

