مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدال السید کا2009میں دیا گیا ایک بیان دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں شریعت کے مطابق عمل کرنے کو اپنی ’’مقدس ذمہ داری‘‘ سمجھتے ہیں اور موت تک اس پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔
امریکی سیاسی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق عبدال السید نے2009میں نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ مرنے کے بعد خدا کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ انہوں نے آسان راستہ اختیار کیا، جب کہ شریعت کے مطابق راستہ موجود تھا۔ ان کے بقول یہ عمل خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’ذمہ داری‘‘ کے احساس کے تحت ہوگا۔
اس وقت عبدال السید24سالہ میڈیکل طالب علم تھے اور انہوں نے این آربر میں123ہزار ڈالر مالیت کا ایک کنڈومینیم خریدنے کے لیے ’’شریعت کے مطابق‘‘ رہن کا انتظام استعمال کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نو برس بعد،2018میں مشی گن کے گورنر کے انتخاب کی ناکام مہم کے دوران عبدال السید نے اس بات کی تردید کی تھی کہ انہوں نے خود کو ’’شریعت کا پابند‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم2009میں ان کے دیے گئے بیان میں شریعت کی پابندی کو زندگی بھر کی دینی ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔2018کی انتخابی مہم پر بننے والی ایک دستاویزی فلم کے حوالے سے بھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبدال السید اپنی مذہبی وابستگی کو نمایاں کرنے سے گریز کرتے دکھائی دیے۔ فلم سازوں کو ان کے گھر میں شوٹنگ کے دوران ایک ایسی کتابوں کی الماری کو کیمرے سے دور رکھنے کی ہدایت کی گئی جس میں اسلام سے متعلق متنازع سمجھی جانے والی بعض کتابیں موجود تھیں۔
ان میں ’’کٹنگ دی فیوز‘‘ نامی کتاب بھی شامل تھی، جو خودکش دہشت گردی کو اسلامی انتہاپسندی کے بجائے غیر ملکی فوجی قبضے سے جوڑنے کا مؤقف پیش کرتی ہے۔ الماری میں قرآن پر ایک موضوعاتی تفسیر بھی موجود تھی، جس کے مصنف شیخ محمد الغزالی تھے، جنہیں رپورٹ میں اخوان المسلمون سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عبدال السید نے دستاویزی فلم کے لیے شوٹنگ کرنے والے فلم سازوں سے کہا تھا کہ وہ منظر کو ’’سیکولر‘‘ رکھنا چاہتے ہیں۔
عبدال السید کے پرانے بیانات اس وقت دوبارہ زیرِ بحث آئے ہیں جب انہوں نے گزشتہ ہفتے مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ پرائمری انتخابات میں معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے سابقہ بیانات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ موجودہ دور میں بھی شریعت سے متعلق ان کے نظریات کس حد تک ان کی سیاسی سوچ پر اثرانداز ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عبدال السید نے ماضی میں ان ریاستوں میں شریعت کے نفاذ پر پابندی کی قانونی کوششوں پر بھی سخت تنقید کی ہے جہاں قدامت پسند قانون سازوں نے ایسی تجاویز پیش کیں۔
اکتوبر2022میں کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز کے اوکلاہوما چیپٹر سے خطاب کرتے ہوئے عبدال السید نے ریاست میں شریعت پر پابندی کے لیے2010کی ایک بیلٹ تجویز کا موازنہ اوکلاہوما کی تاریخ کے بعض انتہائی متنازع واقعات، جن میں ٹریل آف ٹیئرز، تلسا نسلی قتل عام اور اوکلاہوما سٹی بم دھماکا شامل ہیں، سے کیا تھا۔
عبدال السید کے ناقدین ان بیانات کو ان کے سیاسی نظریات کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے حامی ممکنہ طور پر انہیں ان کے ذاتی مذہبی عقائد اور آئینی و سیاسی مؤقف کے تناظر میں دیکھیں گے۔ امریکی آئین کے تحت مذہبی آزادی اور ریاست و مذہب کے تعلق کا معاملہ ایک حساس اور مسلسل زیرِ بحث موضوع ہے، اس لیے کسی امیدوار کے مذہبی عقائد اور اس کی عوامی پالیسیوں کے درمیان فرق کو واضح رکھنا بھی اہم ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب عبدال السید مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر قومی سطح کی سیاسی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

