نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی جانب سے سرکاری گروسری اسٹورز قائم کرنے کے منصوبے نے شہر کی معاشی پالیسی اور حکومتی مداخلت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ منصوبے کے تحت شہر کے زیرِ انتظام گروسری اسٹورز میں ضروری اشیائے خورونوش نجی اسٹورز کے مقابلے میں30فیصد تک کم قیمت پر فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اقدام عام شہریوں کو سستی خوراک فراہم کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے ناقدین کے مطابق اس کے اخراجات بالآخر نیویارک کے ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔27جولائی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ممدانی نے اپنے نئے سرکاری گروسری اسٹورز میں ضروری اشیا پر30فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ گروسری کا کاروبار پہلے ہی انتہائی کم منافع کے ساتھ چلتا ہے۔ عام طور پر اس شعبے میں منافع کی شرح تقریباً2فیصد کے آس پاس ہوتی ہے، اور یہ شرح نجی شعبے کی نسبتاً مؤثر انتظامی کارکردگی کے باوجود ہے۔
اگر شہر کے سرکاری گروسری اسٹورز بھی آلڈی، والمارٹ یا گریسٹسڈیز جیسے نجی اسٹورز جتنی کارکردگی کے ساتھ چلیں، تب بھی30فیصد رعایت برقرار رکھنے کے لیے شہر کو ہر ایک ڈالر کی فروخت پر تقریباً28سینٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق سرکاری شعبے کی کم انتظامی کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے تو حقیقی خسارہ اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
یہیں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے:اس خسارے کی ادائیگی کون کرے گا؟
سرکاری ادارہ جب مسلسل خسارے میں چلتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوتا ہے۔ نیویارک کے شہری پہلے ہی ملک کے نسبتاً بلند ٹیکسوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں سرکاری گروسری اسٹورز کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید عوامی رقم استعمال کرنا ٹیکس دہندگان کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور ممکنہ نتیجہ نجی گروسری اسٹورز کے لیے مسابقتی ماحول کو متاثر کرنا ہے۔ اگر شہر کے اسٹورز واقعی نجی کاروباروں سے30فیصد کم قیمت پر اشیا فروخت کرتے ہیں تو وہ نجی دکانوں کا قابلِ ذکر مارکیٹ شیئر حاصل کرسکتے ہیں۔ نجی اسٹورز کو کرایہ، پراپرٹی ٹیکس، انشورنس، مزدوری، بجلی، سکیورٹی اور دیگر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ سرکاری اسٹورز کو حکومتی وسائل اور ممکنہ ٹیکس سہولتوں کا فائدہ حاصل ہوگا۔
اس صورتحال میں پہلے سے کمزور نجی سپر مارکیٹیں بند ہوسکتی ہیں، جبکہ نئے کاروباری افراد نیویارک میں گروسری اسٹور کھولنے سے گریز کرسکتے ہیں۔ نتیجتاً جس پالیسی کا مقصد خوراک تک آسان اور سستی رسائی فراہم کرنا ہے، وہ طویل مدت میں نجی گروسری نیٹ ورک کو کمزور کرکے صارفین کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری اسٹورز میں اشیا تھوک قیمت سے بھی کم پر دستیاب ہوں تو انہیں دوبارہ فروخت کرنے کے لیے خریدنے سے کیسے روکا جائے گا؟ اگر کاروباری افراد بڑی مقدار میں رعایتی اشیا خرید کر مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کرنے لگیں تو حکومت کو خریداری پر پابندیاں یا شناختی نظام متعارف کرانا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح ایک سادہ گروسری اسکیم مزید پیچیدہ سرکاری نگرانی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
نیویارک کی تاریخ میں سرکاری اداروں کے مسلسل خسارے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ نیویارک کا سرکاری ٹرانسپورٹ نظام، میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی یعنی ایم ٹی اے، ہر سال اربوں ڈالر کی مالی معاونت کا محتاج ہے۔ تجزیے کے مطابق ایم ٹی اے کو تقریباً11.7ارب ڈالر سالانہ کے خسارے کا سامنا ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو بھاری سبسڈی دینا پڑتی ہے۔
اگر سرکاری گروسری اسٹورز بھی وقت کے ساتھ اسی طرح مالیاتی بوجھ بن گئے تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب ٹیکس دہندگان مزید سبسڈی دینے سے انکار کریں۔ لیکن سستی قیمتیں برقرار رکھنے کی سیاسی ضرورت اور سرکاری ادارے کے بلند اخراجات کے درمیان توازن پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ حکومت قیمتیں کم رکھنے کے لیے اشیا کے معیار، مقدار یا دونوں میں کمی کرنا شروع کردے۔
ملک کے دوسرے شہروں میں سرکاری گروسری کے تجربات بھی ناقدین کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ تجزیے میں کنساس سٹی کی مثال دی گئی ہے، جہاں ایک سرکاری گروسری منصوبے کو مبینہ طور پر18ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ شکاگو میں سات اسٹورز چلانے کے منصوبے پر26ملین ڈالر خرچ ہوئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کے ایسے تجربات ناکام رہے ہیں تو نیویارک کو اسی ماڈل کو دوبارہ آزمانے کے بجائے نجی گروسری کاروباروں کے لیے حالات بہتر بنانے چاہییں۔
ممدانی انتظامیہ نجی اسٹورز کے ساتھ مل کر ان کے اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر پراپرٹی ٹیکس، تعمیراتی اخراجات اور کاروباری اجازت ناموں کی فیس کم کی جاسکتی ہے۔ پارکنگ کے قوانین میں نرمی کی جاسکتی ہے اور غیر استعمال شدہ سرکاری جگہیں مناسب کرائے پر گروسری کاروباروں کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔
اسی طرح زوننگ قوانین میں اصلاحات کے ذریعے نئے گروسری اسٹورز کے قیام کی راہ میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کی جاسکتی ہیں۔ دکانوں میں چوری کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنا بھی نجی گروسری کاروباروں کے اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ نیویارک میں خوراک کی فراہمی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کو پورے گروسری شعبے کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بجائے موجودہ نجی کاروباری نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
سوشلسٹ معاشی پالیسیوں کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے مارکیٹ کے مسائل کو بڑھاتی ہے، پھر انہی مسائل کو سرکاری مداخلت کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ نیویارک میں گروسری اسٹورز کی کمی اور خوراک تک رسائی کے مسائل اگر مقامی حکومتی ناکامیوں سے پیدا ہوئے ہیں تو اسی بیوروکریسی کو پورے شہر کی خوراک کی فراہمی سونپ دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ نیویارک کے شہری آج ایک کیلا کتنے سستے میں خرید سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کیلے کی رعایت کی قیمت کون ادا کرے گا، کتنے عرصے تک ادا کرے گا، اور اگر اس پالیسی کے نتیجے میں نجی گروسری اسٹورز بند ہونے لگے تو مستقبل میں نیویارک کے شہریوں کے پاس خوراک خریدنے کے کتنے حقیقی اختیارات باقی رہ جائیں گے۔
اگر مقصد نیویارک کے شہریوں کو سستی اور معیاری خوراک فراہم کرنا ہے تو حکومت کو کاروباری مسابقت ختم کرنے کے بجائے اسے مضبوط بنانا چاہیے۔ کم ٹیکس، کم ضابطے، تیز تر اجازت نامے، بہتر زوننگ اور مؤثر قانون نافذ کرنا شاید سرکاری گروسری اسٹورز کے مقابلے میں کم سیاسی طور پر پرکشش ہو، لیکن طویل مدت میں زیادہ پائیدار حل ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ مضمون فاکس نیوز میں شائع مضمون کا ترجمہ ہے۔

