کینیڈا نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ رواں سال مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کینیڈین کاروباری اداروں کو دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے معاشی خطوں میں سے ایک کی منڈیوں تک زیادہ رسائی فراہم کرے گا۔
انیتا آنند نے11اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کینیڈا اور آسیان کے درمیان دوطرفہ تجارت پہلے ہی52ارب کینیڈین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق آزاد تجارتی معاہدہ جنوب مشرقی ایشیا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا رواں سال آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جس سے دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے خطوں میں سے ایک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
تجارت سے بڑھ کر وسیع تعاون
انیتا آنند نے کہا کہ2027میں کینیڈا اور آسیان کے سفارتی تعلقات کی50ویں سالگرہ کے قریب آنے کے ساتھ دونوں فریق اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
تعاون اب تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ علاقائی سلامتی، سائبر جرائم اور مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائی، آن لائن فراڈ مراکز کے تدارک اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے شعبوں تک بھی پھیل رہا ہے۔
کینیڈا کی جانب سے یہ اقدامات ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں اپنی سفارتی اور اقتصادی موجودگی مزید مضبوط کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
انیتا آنند نے اوٹاوا میں آسیان ڈے کی تقریبات میں بھی شرکت کی، جہاں علاقائی تنظیم کی59ویں سالگرہ منائی گئی۔ تقریبات میں آسیان کے رکن ممالک کے حکام اور کینیڈا میں مقیم جنوب مشرقی ایشیائی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کینیڈا اور آسیان کے بڑھتے ہوئے تجارتی روابط2025میں کینیڈا اور آسیان کے درمیان اشیائے تجارت کا مجموعی حجم52.4ارب کینیڈین ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث11رکنی آسیان بحیثیت مجموعی کینیڈا کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔
کینیڈا اور آسیان کے درمیان باضابطہ آزاد تجارتی مذاکرات2022میں شروع ہوئے تھے۔ جولائی2026میں انیتا آنند نے منیلا میں آسیان پوسٹ منسٹریل کانفرنس پلس کینیڈا اور متعلقہ اجلاسوں میں شرکت کی، جہاں دونوں فریقوں نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری پر عمل درآمد کے لیے2026سے2030تک کا ایکشن پلان منظور کیا۔
اس منصوبے میں تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔
وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے کینیڈا اور آسیان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے اور مذاکرات سال2026کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
کینیڈین حکام کے مطابق مجوزہ معاہدہ دونوں فریقوں کی معاشی لچک میں ایک تزویراتی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے اور کینیڈین برآمد کنندگان کو تقریباً70کروڑ افراد پر مشتمل مشترکہ منڈی تک ترجیحی رسائی فراہم کرے گا۔ آسیان خطے کی مجموعی معیشت کی مالیت5کھرب امریکی ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
آسیان کے موجودہ ارکان میں برونائی دارالسلام، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، تیمور لیستے اور ویتنام شامل ہیں۔
کینیڈا حالیہ برسوں میں انڈو پیسیفک خطے کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ اپنی تجارتی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے اور عالمی سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے میں مدد مل سکے۔
انیتا آنند کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوٹاوا آنے والے مہینوں میں کینیڈا اور آسیان کی شراکت داری کے معاشی اور سکیورٹی دونوں پہلوؤں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

