اسرائیل اور وینزویلا نے17سال کے وقفے کے بعد قونصلر روابط بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اپنے شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے باضابطہ رابطہ کاری کا طریقہ کار قائم کریں گے۔
دونوں حکومتوں کی جانب سے منگل کو جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر اور وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسنشیا کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں یہ اتفاق رائے سامنے آیا۔
نئے طریقہ کار کے ذریعے دونوں ممالک میں مقیم ایک دوسرے کے شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ دونوں حکومتوں نے ہنگامی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے شروع ہونے والے تکنیکی تعاون کو بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں حکومتیں اسرائیل اور وینزویلا کی یہودی برادری کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی کا ایک اہم پل ہے۔17سالہ سفارتی تعطل
وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز نے جنوری2009میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی ’’آپریشن کاسٹ لیڈ‘‘ کے احتجاج میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ اس وقت اسرائیلی سفیر کو بھی کاراکاس سے نکال دیا گیا تھا۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات تقریباً17سال تک منجمد رہے۔ اس عرصے کے دوران وینزویلا نے ایران اور اسرائیل کے دیگر مخالف ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے۔
تاہم موجودہ پیش رفت مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی یا دونوں ممالک کے سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے کے مترادف نہیں۔ فی الحال یہ ایک محدود مگر باضابطہ قونصلر رابطہ ہے، جو2009کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا سرکاری چینل ہے۔
زلزلوں کے بعد انسانی امداد نے راستہ ہموار کیا
اسرائیل اور وینزویلا کے درمیان برف پگھلنے کا عمل24جون کو وینزویلا میں آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے بعد تیز ہوا۔ زلزلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، جس کے بعد اسرائیلی انسانی امدادی اور تکنیکی وفد نے وینزویلا کا دورہ کیا۔
اسرائیلی اور یہودی تنظیموں نے امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں معاونت فراہم کی۔ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے جولائی کے اواخر میں اسرائیلی ٹیم کی خدمات پر عوامی طور پر شکریہ ادا کیا۔
یہ پیش رفت کاراکاس کی خارجہ پالیسی میں وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ جنوری2026میں طویل عرصے سے حکمران نکولس مادورو کی امریکی تحویل میں منتقلی کے بعد صدر روڈریگز کی عبوری حکومت نے واشنگٹن کے ساتھ قربت بڑھائی اور ایران کے ساتھ سابقہ قریبی صف بندی سے فاصلے کے اشارے دیے ہیں۔
تجزیہ کار قونصلر معاہدے کو اسی ممکنہ خارجہ پالیسی تبدیلی کی ابتدائی علامتوں میں شمار کر رہے ہیں۔
وینزویلا کی یہودی برادری کا خیرمقدم
وینزویلا کی یہودی برادری، جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تاریخی رابطے کا اہم ذریعہ رہی ہے، نے قونصلر روابط کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔
وینزویلا کی یہودی انجمنوں کی کنفیڈریشن کے قومی رابطہ کار ڈاکٹر میگوئل ٹروزمان نے اس پیش رفت کو ’’اعتماد سازی کے عمل‘‘ کا آغاز قرار دیا، جس کی بنیاد ان کے مطابق زلزلوں کے بعد فراہم کی جانے والی اسرائیلی امداد سے پڑی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بھی بحال ہو سکتے ہیں۔
یہودی برادری کے رہنماؤں نے حالیہ عرصے میں وینزویلا کی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کی وجہ وینزویلا میں مقیم یہودی شہریوں کی عملی قونصلر ضروریات کو قرار دیا تھا۔
اسرائیلی اور وینزویلا کے حکام نے معاہدے کو فی الحال محدود اور عملی نوعیت کا قرار دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد شہریوں کے لیے قونصلر معاونت اور تکنیکی تعاون جاری رکھنا ہے۔ تاہم دونوں جانب سے وینزویلا کی یہودی برادری کو اسرائیل اور وینزویلا کے درمیان تاریخی رابطے کے ایک اہم پل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت تقریباً دو دہائیوں میں اسرائیل اور وینزویلا کے تعلقات میں سب سے اہم بہتری سمجھی جا رہی ہے اور ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے اور عالمی سطح پر کئی اہم جغرافیائی و سیاسی صف بندیاں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

