• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » حوثی الشباب گٹھ جوڑ، بحری تجارت کو نیا خطرہ
مشرق وسطیٰ

حوثی الشباب گٹھ جوڑ، بحری تجارت کو نیا خطرہ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
بین الاقوامی خبریں

حوثیوں اور الشباب کے بڑھتے اتحاد نے امریکا اور خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران نواز یمنی حوثی باغیوں اور صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے درمیان مبینہ بڑھتا تعاون خطے میں سلامتی اور بحری تجارت کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔

اہم نکات:

  • حوثیوں اور الشباب کے درمیان مبینہ فوجی تعاون میں اسلحے اور تربیت کی فراہمی شامل ہے۔
  • الشباب کے جنگجوؤں کو ڈرونز اور جدید دھماکا خیز مواد کے استعمال کی تربیت دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
  • دونوں تنظیمیں خلیج عدن کے قریب سرگرم ہیں، جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
  • امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعاون خطے میں دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔

امریکی اور علاقائی حکام کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں اور صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے درمیان ابھرتا ہوا اتحاد تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہ انکشاف
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک خصوصی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ شراکت داری دو ایسی تنظیموں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے جنہیں امریکا نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے اور جو دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل
خلیج عدن کے اطراف سرگرم ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق الشباب کے جنگجوؤں کو حوثیوں کی جانب سے اسلحے کی مدد اور فوجی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ اس تربیت میں ڈرونز اور جدید دھماکا خیز مواد کے استعمال سے متعلق
ہدایات بھی شامل ہیں۔ اس کے بدلے حوثیوں کو اضافی مالی وسائل اور خطے میں اپنی رسائی بڑھانے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔

خلیج عدن میں دونوں تنظیموں کی موجودگی اور ان کے درمیان مبینہ تعاون سے امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ خطرہ اب صرف یمن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحری تجارت اور خطے کے دونوں اطراف تک پھیل سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تعاون کو جبریل ’’ون آرمڈ‘‘ یحییٰ علی نامی الشباب کے ایک کارکن نے آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ وہ دونوں گروہوں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کرتا رہا،
تاہم رواں سال کے آغاز میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کی ہلاکت کے باوجود دونوں تنظیموں کے درمیان تعاون جاری ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کے بحری تجارتی راستے پہلے ہی ایران نواز خطرات، بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں اور تہران کے اتحادی مسلح گروہوں سے جڑی وسیع تر
علاقائی بے چینی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں۔

واشنگٹن کے لیے تشویش اب صرف یمن تک محدود نہیں رہی۔ حوثی اور الشباب کے درمیان ممکنہ مضبوط شراکت داری خلیج عدن کے دونوں اطراف خطرے کو پھیلا سکتی ہے، جس سے تجارتی جہاز رانی،
توانائی کی ترسیل اور دنیا کی اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ میں فوجی کارروائیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکا نے رواں سال صومالیہ میں الشباب کے خلاف اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں سے حاصل ہونے والی تکنیکی اور عسکری مہارت الشباب کو
مزید مہلک بنا سکتی ہے اور اسے قابو کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

حوثیوں اور الشباب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے علاقائی پراکسی نیٹ ورک اور مختلف جہادی تحریکوں کے درمیان روابط کس طرح اسرائیل کی سرحدوں سے کہیں
آگے تک پھیل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا تعاون خطے میں پہلے سے موجود سلامتی کے خطرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

الشباب امریکا ایران ایران نواز گروہ بحری تجارت بحیرہ احمر حوثی باغی خلیج عدن دہشت گردی ڈرونز صومالیہ علاقائی سلامتی مشرق وسطیٰ وال اسٹریٹ جرنل یمن
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکیا پاکستان کوآزاد ہٹلر نے کروایا تھا؟
Next Article غزہ میں اسرائیلی کارروائی، حماس کا سینئر سکیورٹی عہدیدار گرفتار
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

واشنگٹن پاکستان کے تحفظات سے آگاہ

نومبر 1, 2026
خصوصی رپورٹ

حوثی داعش اور القاعدہ سے بڑا عالمی دہشت گرد خطرہ

نومبر 1, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.