• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کیا پاکستان کوآزاد ہٹلر نے کروایا تھا؟
ایشیا

کیا پاکستان کوآزاد ہٹلر نے کروایا تھا؟

تحریر: علی حیدر
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 2, 2026Updated:ستمبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تجزیہ و رائے

آزادی کی کہانی یا تقسیم کا المیہ؟ برصغیر کی آزادی کے اصل محرکات پر ایک نظر

تحریر: علی حیدر

ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ جناب برصغیر کو آزاد کروانے میں بڑی جدوجہد کی گئی، قائداعظم اور گاندھی کی انتھک محنتوں اور کاوشوں سے یہ ممالک آزاد ہوئے۔

ذرا اپنے دماغوں کی بتی جلائیں اور غور کریں۔

کیا ایسی وجہ تھی کہ برطانیہ بھارت چھوڑ گیا؟

اور کیا صرف اس نے بھارت کو ہی آزاد کیا تھا؟

جنگ عظیم دوم کے بعد⁦1947⁩سے لے کر⁦1970⁩تک⁦50⁩ممالک کو آزادی حاصل ہوئی، اور یہ⁦50⁩ممالک برطانیہ کی کالونیوں میں شامل تھے۔ ان میں سے⁦90⁩سے⁦95⁩فیصد ممالک میں تو کوئی آزادی کی تحریک ہی نہیں چل رہی تھی، تو پھر بغیر کسی قسم کی تحریک کے دباؤ کے برطانیہ نے ان ممالک کو کیسے آزاد کر دیا؟

ان⁦50⁩ممالک کی آزادی کا اصل بانی کون تھا؟

تو شروعات ہوتی ہے جنگ عظیم دوم سے، اور اس کے مرکزی کردار ایڈولف ہٹلر سے۔

ہٹلر جو کہ جرمنی کا چانسلر تھا، اس نے جنگ عظیم دوم کی شروعات کی۔ وجہ یہ تھی کہ ہٹلر جنگ عظیم اول میں ہوئے ہتک آمیز معاہدے کا بدلہ لینا چاہ رہا تھا۔ آہستہ آہستہ قریبی علاقے جو جرمنی سے چھینے گئے تھے، سزا کے طور پر وہ فوجی قوت سے حاصل کیے، اور پھر اپنے سے بڑی اور تگڑی فوج، جو کہ فرانس کی تھی، اس کو ہرایا۔

اور اس کے بعد اٹیک کیا برطانیہ کے شہر لندن پر، آدھا لندن ملیا میٹ کر دیا۔

برطانیہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے تھے کہ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دے پائے۔ وہ تنخواہیں ادا کیں امریکہ نے۔ روزویلٹ جو امریکی صدر تھے، وہ برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل کو ایک خط لکھتے ہیں:

منسوب قول

”ہم چاہتے ہیں ہمارا ساتھی اپنی کالونیاں آزاد کر دے تاکہ اس سلطنت پر سے معاشی بوجھ کم ہو۔“

اس کے بعد آہستہ آہستہ آزادیوں کا سلسلہ شروع ہوا، ورنہ کیا آپ کے سیاستدان اتنے مدبر اور پریشر بلڈ کرنے والے تھے؟

آل انڈیا مسلم لیگ کی اکثریت تو اپنی جاگیروں کا تحفظ چاہتے تھے، کیونکہ کانگریس نے اپنے منشور میں بتایا تھا کہ جناب جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو لینڈ ریفارمز کریں گے۔ تو ان لوگوں نے سوچا کانگریس کی طرف گئے تو زمینیں جائیں گی، لیکن اگر مسلم لیگ کی طرف گئے اور وہ الگ ملک بنانے میں کامیاب ہو گئے تو زمینیں بچ جائیں گی۔

سبط حسن صاحب اپنی کتاب شہر نگاراں میں کہتے ہیں مسلم لیگ تو برائے نام جماعت تھی۔

اور رہی بات کانگریس کی، تو وہ نان وائلنس پالیسی پر یقین رکھتی تھی، جس سے انگریزوں کو بالکل فرق نہیں پڑنے والا تھا۔

آزادی کی روایتی کہانی پر سوال

تو بھئی آپ خود سوچیں کہ ان لوگوں کا کیا کردار تھا آزادی میں؟ کتابی، رٹی رٹائی باتیں کرنا آسان ہے، اور جناح کو مسلمانوں کا واحد نمائندہ مسلم لیڈر بتانا بھی آسان ہے۔

لیکن بتائیں پاکستانیوں کو حقیقت کہ یہ ملک وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے بنایا گیا تھا۔ بتائیں ان کو کہ قائداعظم نے⁦1937⁩کے بعد مذہب کا تڑکا لگایا تھا۔ بتائیں ان کو کہ جناح تو اپنے ذاتی فعل اور پرسنالٹی کے لحاظ سے مکمل طور پر لبرل اور سیکولر بندا تھا۔


آزادی کے جو قصہ کہانیاں ہم اپنے بچوں کو سناتے ہیں کہ گھر بار لٹ گئے، لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، بھئی وہ سب تقسیم کا کیا دھرا تھا۔

پنجاب کو تقسیم کیا گیا، یہاں ہندو، سکھ، مسلمان گروہوں کو انتہا پسند بنایا گیا، Us Vs Them کے حالات سازگار کیے گئے، اور اس کے بعد ہمیں بے دریغ انسانی جانوں کا ضیاع دیکھنے کو ملا۔

ہمارے لوگوں نے آزادی میں جانیں نہیں گنوائیں، بلکہ تقسیم میں گنوائی تھیں۔

پر عام پاکستانی کو واضح فرق بتائیں، ان کو بتائیں کہ یہ⁦50⁩ممالک کی وجہ بننے والا کون تھا؟

—
علی حیدر

ڈس کلیمر

نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleامریکہ میں یہود مخالف جذبات میں اضافہ، نئے سروے میں اہم انکشاف
Next Article حوثی الشباب گٹھ جوڑ، بحری تجارت کو نیا خطرہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.