• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کوئی ہیرو نہیں
فیچرڈ

کوئی ہیرو نہیں

احمد نعیم خان
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 13, 2026Updated:اگست 13, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

احمد نعیم خان⁦
⁩ہر سال اگست میں جب بھارت اور پاکستان اپنی اپنی آزادی کا دن مناتے ہیں تو سرکاری تاریخیں دو خودمختار ریاستوں کے قیام کا جشن مناتی ہیں۔ تقریروں میں سیاسی مذاکرات، آئینی بحثوں اور نوآبادیاتی راج سے آزادی کی جدوجہد کو یاد کیا جاتا ہے۔

تاہم، ان سرکاری بیانیوں کے نیچے ایک تاریک اور لرزہ خیز حقیقت چھپی ہوئی ہے: 1947ء کی انسانی قیمت۔ دس لاکھ سے زائد افراد لقمۂ اجل بنے، کروڑوں بے گھر ہوئے، اور صدیوں پر محیط مشترکہ تہذیب و ثقافت فرقہ وارانہ جنون کی نذر ہو گئی۔

جہاں امرتا پریتم اور باپسی سدھوا جیسی خواتین قلم کاروں نے گھروں کے اندر ہونے والے ذاتی اور صنفی مظالم کو قلم بند کیا، وہیں مرد مصنفین کی ایک نمایاں نسل نے گلیوں، پاگل خانوں اور ٹرینوں کے ڈبوں کا رخ کیا۔ طنز، تلخ حقیقت نگاری اور نفسیاتی گہرائی کے ذریعے سعادت حسن منٹو، خوشونت سنگھ، بھیشم ساہنی اور انتظار حسین جیسے ادیبوں نے اس جنون اور سیاسی لغویت کو دنیا کے سامنے رکھا جس نے برصغیر کو پارہ پارہ کر دیا تھا۔

تقسیمِ ہند کی غیر عقلی نوعیت کو جس بے باکی سے سعادت حسن منٹو نے بے نقاب کیا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اردو میں لکھتے ہوئے منٹو نے کسی بھی نئی ریاست کو مقدس یا مظلوم بنا کر پیش کرنے سے انکار کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے معاشرے کی منافقت کو بے نقاب کرنے کے لیے سماج کے ٹھکرائے ہوئے طبقات پر اپنی توجہ مرکوز کی۔

’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں منٹو⁦1947⁩ء کے کچھ عرصے بعد کے ایک پاگل خانے کا منظر پیش کرتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں مذہب کی بنیاد پر ہندو اور مسلم ذہنی مریضوں کے تبادلے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ اس کہانی کا مرکزی کردار بشن سنگھ دن رات ہر ایک سے بے تابی سے یہی پوچھتا رہتا ہے⁦:⁩میرا گاؤں ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟

جب اسے تبادلے کے لیے سرحد پر لایا جاتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا گاؤں کسی بھی ملک کے حصے میں واضح طور پر نہیں آتا تو بشن سنگھ دونوں ممالک کی خاردار تاروں کے درمیان واقع کسی کی ملکیت نہ ہونے والی زمین، یعنی ’’نو مینز لینڈ‘‘، پر گر پڑتا ہے اور دم توڑ دیتا ہے۔ منٹو کا پیغام بالکل واضح تھا⁦:⁩قدیم برادریوں کے درمیان لکیریں کھینچنے والے ’’عقل مند‘‘ سیاست دان ان پاگل خانے کے مریضوں سے کہیں زیادہ بے عقل اور غیر منطقی تھے۔

خوشونت سنگھ اور بھیشم ساہنی نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح ایک پرامن ماحول کو منظم منصوبہ بندی کے تحت تباہ کیا جا سکتا ہے۔

’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ میں خوشونت سنگھ ہمیں ’’منو ماجرا‘‘ نامی ایک پرامن سرحدی گاؤں میں لے جاتے ہیں، جہاں سکھ، مسلمان اور ہندو صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے۔ ان کا یہ بھائی چارہ اندر سے ختم نہیں ہوتا بلکہ باہر سے ان پر مسلط کیے گئے حالات اسے توڑ دیتے ہیں۔ سرحد پار سے ایک ایسی ٹرین آتی ہے جس میں کوئی زندہ مسافر نہیں بلکہ قتل کیے گئے مہاجرین کی لاشیں ہوتی ہیں۔ خوف اور افواہیں پرامن اور محبت کرنے والے پڑوسیوں کو ایک دوسرے پر شک کرنے والے اور انتقام پر آمادہ ہجوم میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

’’تمس‘‘ میں بھیشم ساہنی دکھاتے ہیں کہ فسادات کس طرح مقامی بااثر افراد کے ذریعے بھڑکائے جاتے ہیں۔ کہانی کا آغاز ایک غریب مزدور سے ہوتا ہے جسے کچھ پیسوں کے عوض ایک سور مارنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جسے بعد میں مقامی مسجد کی سیڑھیوں پر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس ایک سوچے سمجھے اشتعال انگیز اقدام کے نتیجے میں پورا علاقہ آگ اور خون کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ساہنی کا یہ ناول ایک دائمی تنبیہ ہے⁦:⁩فرقہ وارانہ تشدد خود بخود نہیں بھڑکتا؛ اسے وہ لوگ ہوا دیتے ہیں جو تقسیم اور نفرت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جو لوگ جسمانی تشدد سے بچ گئے، ان کا ایک الگ المیہ منتظر تھا⁦:⁩اپنے گھر اور وطن سے محرومی۔ انتظار حسین نے اپنے ناول ’’بستی‘‘ میں ہجرت کے نفسیاتی اثرات کو اجاگر کیا۔

ایک نئے ملک میں بسنے کا وہ درد، جہاں انسان کی بچپن کی یادیں، آباؤ اجداد کے گھر اور روحانی جڑیں ہمیشہ کے لیے سرحد کے دوسری طرف رہ جاتی ہیں۔ انتظار حسین کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ریاستیں نئے پاسپورٹ تو جاری کر سکتی ہیں، لیکن وہ ان جذباتی رشتوں کو نہیں کاٹ سکتیں جو انسان کو اس کی مٹی سے جوڑے رکھتے ہیں۔⁦1947⁩ء کے اجاڑ میں کوئی ہیرو نہیں تھا، صرف مظلوم اور متاثرین تھے۔ کوئی فرشتہ نہیں تھا اور کوئی شیطان بھی نہیں تھا۔ جب خوف اور زہریلی بیان بازی کو جگہ دی جاتی ہے تو پاگل پن اور سفاکی جنم لیتی ہے۔

آج تعصب اور قوم پرستی کے زیرِ اثر ذہنوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نقشوں پر کھینچی گئی لکیریں انسانی دلوں کے زخم کبھی نہیں بھر سکتیں۔ امن کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلا قدم اٹھائے جانے سے بہت پہلے ہی اپنے پڑوسیوں کو ’’غیر‘‘ سمجھنے کی سوچ کو مسترد کر دیں۔

 

ڈس کلیمر:

نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

 

1947 انتظار حسین برصغیر بستی بھیشم ساہنی پاک بھارت تعلقات پاکستان بھارت تقسیم تقسیم ہند تمس ٹرین ٹو پاکستان ٹوبہ ٹیک سنگھ خوشونت سنگھ سعادت حسن منٹو فرقہ وارانہ تشدد ہجرت یوم آزادی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleگولان⁦:⁩کولمبیا اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے والا دوسرا ملک
Next Article سعودی عرب کا بحری اتحاد اور پاکستان کا تزویراتی انتخاب
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.