"`html
کیا موجودہ معاشرہ ضیاالحق کی پیداوار ہے؟

کل سے ضیا الحق کو بہت کوسا جا رہا ہے۔ ضیا الحق مذہبی معاشرہ بنانے کے سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس کا آغاز پاکستان قائم ہوتے ہی ہو گیا تھا۔ سب حکمرانوں نے اس میں اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا۔ ضیا الحق کے دور میں چونکہ روس کو بھی شکست دینا تھی، اس لیے مصالحہ ذرا تیز رکھنا پڑا۔ حالانکہ وسط ایشیائی ریاستوں میں ’کیمپ‘ 1970ء کی دہائی کے وسط میں قائم ہو چکے تھے، گھاس پر زندہ رہنے کا عزم بھی ہو چکا تھا۔
عمران خان اور چودھری پرویز الٰہی کے مقابلے میں ضیا الحق مجھے کچھ معصوم لگتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ڈکٹیٹر تھا، اس کا کردار متعین تھا، اور لوگوں میں اس کی جڑیں نہیں تھیں۔ عمران خان اس سے دو ہاتھ آگے ہے اور گھر گھر میں اپنے بیکٹیریا رکھتا ہے، جو خود کو منوانے اور جتانے کے لیے کسی بھی وقت بدتمیزی پر اترنے کو تیار ہیں۔
ضیا الحق نے آرٹ کو دبایا، اشفاقیوں کی پنیری لگائی، جس کے پودے اب تناور درخت بن کر سارے معاشرے پر موت کا سایہ کیے ہوئے ہیں۔
من چلے کا سودا پوری دنیا کے سامنے پنڈولم کی طرح ہلتے ہوئے ہمارے پھٹنے کی گھڑیاں گن رہا ہے۔ بے شک ضیا الحق نے بہت کچھ دیا، لیکن موجودہ معاشرے کو اگر وہ دیکھ لے تو شاید حیران رہ جائے۔
اس کے دور میں پی ٹی وی پر رمضان میں میوزک نہیں چلتا تھا، اب میوزک والے ہی رمضان بھی چلاتے ہیں۔ مقدس اقوال کے ری مکس چلتے ہیں، نعتوں میں باقاعدہ آلاتِ موسیقی شامل ہو گئے ہیں۔
اس کے دور میں آرٹ، ڈراما اور موسیقی کے کچھ کارنامے، یا جو کچھ پہلے سے چلی آ رہی مگر دم توڑتی ہندی مسلم معاشرت کی دین تھا، وہ موجود تھا۔ ضیا الحق نے ان کی جڑیں کاٹ دیں، مگر وہ مرتے مرتے بھی بیس تیس سال لے گئے۔
موجودہ الٹرا معاشرہ ضیا الحق کی پیداوار نہیں۔ اس کے لیے بعد والوں نے بہت محنت کی۔ آموں کے لطیفے بنا کر پوسٹ کرنا ذمہ داری بعد والوں کے کندھوں سے ہٹانا ہے۔
آگے جو حالات ہونے جا رہے ہیں، شاید ہمیں ضیا الحق بھی ایک فرشتہ لگنے لگے۔ ہمارے فرشتے اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
اڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
"`

