سعودی عرب نے اسکول کی نصابی کتب میں اسرائیل سے متعلق زبان نرم کر دی، فلسطین کے اہم حوالہ جات بھی حذف
سعودی عرب نے بعض اسکول کی نصابی کتب کے نقشوں سے فلسطین کے حوالہ جات ختم کر دیے ہیں جبکہ اسرائیل کو ’’صہیونی دشمن‘‘ قرار دینے والی زبان بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔ نصاب میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو دوبارہ تقویت مل رہی ہے۔
اسرائیل میں قائم نصابی کتب کی نگرانی کرنے والی تنظیم امپیکٹ-ایس(IMPACT-se)کے مطابق2024سے2026کے دوران استعمال ہونے والی سعودی نصابی کتب کے جائزے میں متعدد اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ان میں وہ جملہ بھی شامل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’’مسلمان کبھی یروشلم سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘، جسے نئی کتب سے حذف کر دیا گیا ہے۔
یہ تبدیلیاں اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں کہ سعودی نصاب میں کئی دہائیوں سے فلسطین اور یروشلم کی مسلمانوں کے لیے اہمیت کو اجاگر کرنے والی زبان استعمال ہوتی رہی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان وژن2030کے تحت ملک میں سماجی، معاشی اور تعلیمی اصلاحات کے وسیع عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
نصاب میں سامنے آنے والی اہم تبدیلیاں
امپیکٹ-ایس کی جولائی2026کی رپورٹ میں2024-25اور2025-26کے تعلیمی سالوں کی نصابی کتب کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، صہیونیت اور متعلقہ موضوعات کے بارے میں سعودی نصاب میں مسلسل نسبتاً معتدل رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
نقشوں میں فلسطین کا حوالہ:
سماجی علوم کی بعض نصابی کتب، جن میں پانچویں جماعت کا مواد بھی شامل ہے، میں ان علاقوں کے نقشوں سے ’’فلسطین‘‘ کا واضح نام ہٹا دیا گیا ہے جو اسرائیل کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حدود میں واقع ہیں۔ بعض نقشوں میں یہ علاقہ بغیر کسی نام کے دکھایا گیا ہے، جبکہ سرکاری نقشوں پر اسرائیل کا نام بھی درج نہیں کیا گیا۔
اسرائیل کے لیے استعمال ہونے والی سخت زبان میں بھی کمی کی گئی ہے۔ گیارہویں جماعت کی تاریخ کی ایک نصابی کتاب میں ایک ایسے اقتباس میں اسرائیل کو ’’صہیونی دشمن‘‘ کہا گیا تھا جس میں شاہ سلمان کی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں اور1973کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سعودی امداد کا ذکر تھا۔ نئی کتاب میں ’’صہیونی دشمن‘‘ کی جگہ ’’اسرائیلی قبضہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
اسی طرح گیارہویں جماعت کی عربی زبان کی ایک نصابی کتاب میں2023-24کے ایڈیشن میں شامل یہ جملہ کہ ’’مسلمان کبھی یروشلم سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ یا اس سے ملتا جلتا مفہوم رکھنے والا جملہ،2024-25سے شائع ہونے والے نئے ایڈیشنز سے مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے۔ امپیکٹ-ایس کے مطابق اس اقدام سے یروشلم سے متعلق ایک سیاسی اور مذہبی طور پر حساس حوالہ ختم ہوا ہے۔
پہلے بھی نصاب میں تبدیلیاں کی جا چکی ہیں
سعودی نصاب میں یہ تبدیلیاں پہلی مرتبہ نہیں ہوئیں۔ امپیکٹ-ایس کی سابقہ رپورٹس میں بھی بتایا گیا تھا کہ ہائی اسکول کی سماجی علوم کی ایک مکمل نصابی کتاب کا استعمال ختم کر دیا گیا، جس میں صہیونیت کو ایک ’’نسل پرستانہ‘‘ یورپی تحریک قرار دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ1969میں مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کے واقعے کی ذمہ داری صہیونیوں پر عائد کرنے والے بعض دعوے بھی نصاب سے نکال دیے گئے۔ ایسی عبارتیں بھی حذف کی گئیں جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کا موازنہ ’’معذور جانوروں‘‘ سے کیا گیا تھا یا تاریخی واقعات کی اجتماعی ذمہ داری یہودیوں پر عائد کی گئی تھی۔
وژن2030اور تعلیمی اصلاحات
سعودی تعلیمی حکام گزشتہ کئی برسوں سے وژن2030کے تحت نصاب میں انتہا پسندانہ، عدم برداشت پر مبنی اور کھلے طور پر دشمنانہ مواد کو کم کر رہے ہیں۔ امپیکٹ-ایس کے مطابق سابقہ جائزوں میں سامنے آنے والا یہود مخالف مواد بھی تازہ ترین نصابی کتب میں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مذہبی بقائے باہمی، تنقیدی سوچ اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف کم جارحانہ رویے کو فروغ دینے والا مواد بڑھایا گیا ہے۔
تاہم سعودی نصاب میں اسرائیل کو سرکاری نقشوں پر اب بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ بعض تاریخی حوالوں میں ’’اسرائیلی قبضے‘‘ کی اصطلاح برقرار ہے، جبکہ دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے ہولوکاسٹ کا ذکر بھی نصاب میں موجود نہیں۔ فلسطینی کاز کے لیے سعودی عرب کی سرکاری وابستگی بھی برقرار ہے، تاہم اسے پہلے کے مقابلے میں نسبتاً محتاط اور کم جارحانہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سعودی اسرائیلی تعلقات میں ممکنہ پیش رفت کا پس منظر
نصابی تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان اب تک مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے، تاہم پس پردہ رابطوں، ایران سے متعلق مشترکہ تزویراتی مفادات اور خطے میں بدلتی ہوئی صف بندیوں نے ممکنہ سعودی اسرائیلی مفاہمت کے امکانات کو برقرار رکھا ہے۔
تجزیہ: تجزیہ کاروں کے نزدیک نصاب میں اسرائیل اور یروشلم سے متعلق زبان کو بتدریج نرم کرنا ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہو سکتا ہے جو مستقبل میں قریبی تعلقات کے لیے ملکی سطح پر رائے عامہ کو تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
سعودی نصاب میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسرائیل اور یروشلم کے حوالے سے کئی دہائیوں سے رائج سخت اور مزاحمتی بیانیے میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نصابی اصلاحات سعودی اسرائیلی تعلقات کو باضابطہ طور پر معمول پر لانے کے عمل کو کس حد تک تیز کریں گی۔ البتہ یہ تبدیلیاں سعودی قیادت کے تحت جاری وسیع تر سماجی اور تعلیمی اصلاحات کے ایک مستقل رجحان کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔


1 تبصرہ
پہلے تو آپ سب کو مبارک باد اور خوش آمدید۔ جہاں کہ امریکہ میں اور پہلے بھی اردو کے کئی سارے اخبارات موجود ہیں مگر میرے خیال سے وہ خبریں کم مگر اشتہارات سے زیادہ بھرے ہوتے ہیں؛ نیویارک اردو ایک خوشبودار اضافہ ہے۔
زیر نظر مضمون نظر سے گزرا۔ ویسے تو جنگ عظیم دوئم کے بعد جہاں دنیا بہت سی تبدیلیوں سے گزری، ایک تبدیلی یہ بھی آئی کے"امت مسلمہ”کی باگ ڈور ترکی کے بجائے سعودی عرب کے ہاتھ میں دی گئی۔ اور سب نے دیکھا کہ چند ہی دہائیوں میں مسلم دنیا میں شدت پسندی کا عنصر بڑھتا گیا۔ بچے کھچے پاکستان جیسے"تیسری دنیا”کے ترسے ہوئے ملک نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں اپنی اہمیت جتانے کے واسطے اسلامی سر براہ کانفرنس کا انعقاد کیا اور ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں زمین آسمان کے قلابے مارے مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب وقت آیا تو انہی"برادر”ملکوں نے بجائے بھٹو صاحب کی بچانے کے، ضیاء جیسے ہٹلر صفت آمر کو ترجیح دی۔ جسے نے پورے ملک کو سعودی عرب اور امریکہ کی فنڈنگ سے، ملک کو دہشت گردی کی نرسری میں تبدیل کردیا جس کا نتیجہ آج تک ہم بھگت ہی رہے ہیں۔
چونکہ فی الحال تو یہ طے ہے کہ"امت مسلمہ”اپنے قبیلے کا رخ وہیں کرے گی جہاں سعودیوں کا رخ ہوگا، یہ بات باعث اطمینان ضرور ہے کہ بلآخر سعودیوں کے نئے وقتوں کے تقاضوں کا احساس ہوا اور وہ ساری فرسودہ کہانیاں اپنے نصاب سے نکال کر اپنے مستقبل کہ نسلوں کو بہتر سمت دکھانے کا عزم کیا گیا۔ اب چونکہ مسلم دنیا بالعموم اور بالخصوص پاکستان بھی سعودی عرب کی تقلید کرتے ہوئے نفرت برائے نفرت کی پالیسی کو ترک کرے گا۔"پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔ ۔ ۔”