• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » سعودی عرب نے نصابی کتب میں اسرائیل سے متعلق زبان نرم کر دی، فلسطین کے اہم حوالہ جات حذف
خصوصی رپورٹ

سعودی عرب نے نصابی کتب میں اسرائیل سے متعلق زبان نرم کر دی، فلسطین کے اہم حوالہ جات حذف

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 18, 2026Updated:اگست 18, 20261 تبصرہ5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

سعودی عرب نے اسکول کی نصابی کتب میں اسرائیل سے متعلق زبان نرم کر دی، فلسطین کے اہم حوالہ جات بھی حذف

سعودی عرب نے بعض اسکول کی نصابی کتب کے نقشوں سے فلسطین کے حوالہ جات ختم کر دیے ہیں جبکہ اسرائیل کو ’’صہیونی دشمن‘‘ قرار دینے والی زبان بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔ نصاب میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو دوبارہ تقویت مل رہی ہے۔

اسرائیل میں قائم نصابی کتب کی نگرانی کرنے والی تنظیم امپیکٹ⁦-⁩ایس⁦(IMPACT-se)⁩کے مطابق⁦2024⁩سے⁦2026⁩کے دوران استعمال ہونے والی سعودی نصابی کتب کے جائزے میں متعدد اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ان میں وہ جملہ بھی شامل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’’مسلمان کبھی یروشلم سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘، جسے نئی کتب سے حذف کر دیا گیا ہے۔

یہ تبدیلیاں اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں کہ سعودی نصاب میں کئی دہائیوں سے فلسطین اور یروشلم کی مسلمانوں کے لیے اہمیت کو اجاگر کرنے والی زبان استعمال ہوتی رہی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان وژن⁦2030⁩کے تحت ملک میں سماجی، معاشی اور تعلیمی اصلاحات کے وسیع عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

نصاب میں سامنے آنے والی اہم تبدیلیاں

امپیکٹ⁦-⁩ایس کی جولائی⁦2026⁩کی رپورٹ میں⁦2024-25⁩اور⁦2025-26⁩کے تعلیمی سالوں کی نصابی کتب کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، صہیونیت اور متعلقہ موضوعات کے بارے میں سعودی نصاب میں مسلسل نسبتاً معتدل رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

نقشوں میں فلسطین کا حوالہ:

سماجی علوم کی بعض نصابی کتب، جن میں پانچویں جماعت کا مواد بھی شامل ہے، میں ان علاقوں کے نقشوں سے ’’فلسطین‘‘ کا واضح نام ہٹا دیا گیا ہے جو اسرائیل کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حدود میں واقع ہیں۔ بعض نقشوں میں یہ علاقہ بغیر کسی نام کے دکھایا گیا ہے، جبکہ سرکاری نقشوں پر اسرائیل کا نام بھی درج نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کے لیے استعمال ہونے والی سخت زبان میں بھی کمی کی گئی ہے۔ گیارہویں جماعت کی تاریخ کی ایک نصابی کتاب میں ایک ایسے اقتباس میں اسرائیل کو ’’صہیونی دشمن‘‘ کہا گیا تھا جس میں شاہ سلمان کی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں اور⁦1973⁩کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سعودی امداد کا ذکر تھا۔ نئی کتاب میں ’’صہیونی دشمن‘‘ کی جگہ ’’اسرائیلی قبضہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

اسی طرح گیارہویں جماعت کی عربی زبان کی ایک نصابی کتاب میں⁦2023-24⁩کے ایڈیشن میں شامل یہ جملہ کہ ’’مسلمان کبھی یروشلم سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ یا اس سے ملتا جلتا مفہوم رکھنے والا جملہ،⁦2024-25⁩سے شائع ہونے والے نئے ایڈیشنز سے مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے۔ امپیکٹ⁦-⁩ایس کے مطابق اس اقدام سے یروشلم سے متعلق ایک سیاسی اور مذہبی طور پر حساس حوالہ ختم ہوا ہے۔

پہلے بھی نصاب میں تبدیلیاں کی جا چکی ہیں

سعودی نصاب میں یہ تبدیلیاں پہلی مرتبہ نہیں ہوئیں۔ امپیکٹ⁦-⁩ایس کی سابقہ رپورٹس میں بھی بتایا گیا تھا کہ ہائی اسکول کی سماجی علوم کی ایک مکمل نصابی کتاب کا استعمال ختم کر دیا گیا، جس میں صہیونیت کو ایک ’’نسل پرستانہ‘‘ یورپی تحریک قرار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ⁦1969⁩میں مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کے واقعے کی ذمہ داری صہیونیوں پر عائد کرنے والے بعض دعوے بھی نصاب سے نکال دیے گئے۔ ایسی عبارتیں بھی حذف کی گئیں جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کا موازنہ ’’معذور جانوروں‘‘ سے کیا گیا تھا یا تاریخی واقعات کی اجتماعی ذمہ داری یہودیوں پر عائد کی گئی تھی۔

وژن⁦2030⁩اور تعلیمی اصلاحات

سعودی تعلیمی حکام گزشتہ کئی برسوں سے وژن⁦2030⁩کے تحت نصاب میں انتہا پسندانہ، عدم برداشت پر مبنی اور کھلے طور پر دشمنانہ مواد کو کم کر رہے ہیں۔ امپیکٹ⁦-⁩ایس کے مطابق سابقہ جائزوں میں سامنے آنے والا یہود مخالف مواد بھی تازہ ترین نصابی کتب میں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مذہبی بقائے باہمی، تنقیدی سوچ اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف کم جارحانہ رویے کو فروغ دینے والا مواد بڑھایا گیا ہے۔

تاہم سعودی نصاب میں اسرائیل کو سرکاری نقشوں پر اب بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ بعض تاریخی حوالوں میں ’’اسرائیلی قبضے‘‘ کی اصطلاح برقرار ہے، جبکہ دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے ہولوکاسٹ کا ذکر بھی نصاب میں موجود نہیں۔ فلسطینی کاز کے لیے سعودی عرب کی سرکاری وابستگی بھی برقرار ہے، تاہم اسے پہلے کے مقابلے میں نسبتاً محتاط اور کم جارحانہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سعودی اسرائیلی تعلقات میں ممکنہ پیش رفت کا پس منظر

نصابی تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان اب تک مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے، تاہم پس پردہ رابطوں، ایران سے متعلق مشترکہ تزویراتی مفادات اور خطے میں بدلتی ہوئی صف بندیوں نے ممکنہ سعودی اسرائیلی مفاہمت کے امکانات کو برقرار رکھا ہے۔

تجزیہ: تجزیہ کاروں کے نزدیک نصاب میں اسرائیل اور یروشلم سے متعلق زبان کو بتدریج نرم کرنا ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہو سکتا ہے جو مستقبل میں قریبی تعلقات کے لیے ملکی سطح پر رائے عامہ کو تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

سعودی نصاب میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسرائیل اور یروشلم کے حوالے سے کئی دہائیوں سے رائج سخت اور مزاحمتی بیانیے میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نصابی اصلاحات سعودی اسرائیلی تعلقات کو باضابطہ طور پر معمول پر لانے کے عمل کو کس حد تک تیز کریں گی۔ البتہ یہ تبدیلیاں سعودی قیادت کے تحت جاری وسیع تر سماجی اور تعلیمی اصلاحات کے ایک مستقل رجحان کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔

اسرائیل اسرائیل سے تعلقات تعلیمی اصلاحات سعودی اسرائیلی تعلقات سعودی عرب سعودی نصاب صہیونیت عرب اسرائیل تعلقات فلسطین محمد بن سلمان مسجد اقصیٰ مشرق وسطیٰ نصابی کتب وژن 2030 یروشلم
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleحماس کے اسلحے سے دستبرداری کا عمل⁦30⁩دن میں شروع ہو سکتا ہے، جیرڈ کُشنر
Next Article کینیڈا کا بحران
نیوز ڈیسک

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
View 1 Comment

1 تبصرہ

  1. ساجد سموں on اگست 22, 2026 12:34 صبح

    پہلے تو آپ سب کو مبارک باد اور خوش آمدید۔ جہاں کہ امریکہ میں اور پہلے بھی اردو کے کئی سارے اخبارات موجود ہیں مگر میرے خیال سے وہ خبریں کم مگر اشتہارات سے زیادہ بھرے ہوتے ہیں؛ نیویارک اردو ایک خوشبودار اضافہ ہے۔
    زیر نظر مضمون نظر سے گزرا۔ ویسے تو جنگ عظیم دوئم کے بعد جہاں دنیا بہت سی تبدیلیوں سے گزری، ایک تبدیلی یہ بھی آئی کے⁦"⁩امت مسلمہ⁦”⁩کی باگ ڈور ترکی کے بجائے سعودی عرب کے ہاتھ میں دی گئی۔ اور سب نے دیکھا کہ چند ہی دہائیوں میں مسلم دنیا میں شدت پسندی کا عنصر بڑھتا گیا۔ بچے کھچے پاکستان جیسے⁦"⁩تیسری دنیا⁦”⁩کے ترسے ہوئے ملک نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں اپنی اہمیت جتانے کے واسطے اسلامی سر براہ کانفرنس کا انعقاد کیا اور ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں زمین آسمان کے قلابے مارے مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب وقت آیا تو انہی⁦"⁩برادر⁦”⁩ملکوں نے بجائے بھٹو صاحب کی بچانے کے، ضیاء جیسے ہٹلر صفت آمر کو ترجیح دی۔ جسے نے پورے ملک کو سعودی عرب اور امریکہ کی فنڈنگ سے، ملک کو دہشت گردی کی نرسری میں تبدیل کردیا جس کا نتیجہ آج تک ہم بھگت ہی رہے ہیں۔
    چونکہ فی الحال تو یہ طے ہے کہ⁦"⁩امت مسلمہ⁦”⁩اپنے قبیلے کا رخ وہیں کرے گی جہاں سعودیوں کا رخ ہوگا، یہ بات باعث اطمینان ضرور ہے کہ بلآخر سعودیوں کے نئے وقتوں کے تقاضوں کا احساس ہوا اور وہ ساری فرسودہ کہانیاں اپنے نصاب سے نکال کر اپنے مستقبل کہ نسلوں کو بہتر سمت دکھانے کا عزم کیا گیا۔ اب چونکہ مسلم دنیا بالعموم اور بالخصوص پاکستان بھی سعودی عرب کی تقلید کرتے ہوئے نفرت برائے نفرت کی پالیسی کو ترک کرے گا۔⁦"⁩پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔ ۔ ۔”

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.