"`html
اداریہ
پاکستان سعودی تعلیمی اصلاحات سے سبق سیکھے
مسلمانوں کے تاجدارِ حرم، یعنی ملکِ سعودی عربیہ، نے اپنے نظامِ تعلیم سے سال دو ہزار پچیس اور چھبیس کے لیے یہود دشمنی اور مذہبی انتہاپسندی پر مبنی مواد والی درسی کتابیں ہٹا لی ہیں۔ ایسے دقیانوسی اور خطرناک ماحول میں، جب غزہ سمیت کئی مسلمان ممالک کے تعلیمی سلسلوں سے ایسی درسی کتابیں سماج میں زہرِ ہلاہل کی طرح سرایت کر رہی ہوں، وہاں سعودی عرب جیسے ملک اور سماج میں سعودی حکومت کے یہ انتہائی بنیادی اقدامات اسلامی مسلم دنیا اور سماجوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور مشعلِ راہ ہونے چاہئیں۔
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔
عورتوں کی آزادی اور حقوق سمیت کئی اصلاحات کی شاہراہ پر رواں آج کے سعودی عرب کو اگر مسلم دنیا میں دیکھیں تو وہ تاریک جزیروں پر ایک فانوس گھر کی مانند لگے گا۔ کل تک ملائیت، کاٹھ ملائیت اور مذہبی انتہاپسندی کا منبع سعودی عرب اب زمانۂ ماضی بن چکا ہے۔ ناقابلِ یقین، آنکھوں کو خیرہ کرنے والی اصلاحات اور تبدیلیوں کی روشنیوں سے جگمگاتا ہوا سعودی عرب۔
جیسا کہ خود سعودی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی میدان سے نفرت انگیز اور انتہا پسند درسی کتابوں اور نصاب کا قلع قمع کرنا ان کے سال دو ہزار تیس کے ویژن یا تدبر کا مظہر ہے، جو وہ تعلیم سمیت ترقی کے میدانوں میں ایسی چوٹیاں عبور کرنا چاہتے ہیں۔ کم از کم ایک سو تیس درسی کتابیں تھیں جو یہود نفرت اور انتہا پسندی پر مبنی مواد اور اسباق رکھتی تھیں، جس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں یا سعودی شہریوں کی نہ جانے کتنی نسلیں نفرت انگیز شرانگیزی اور زہر سے پراگندہ ہو چکی تھیں۔
اخبار جیروشلم پوسٹ کے مطابق، اسلامی علوم کی درسی کتابوں میں بھی درست طور پر پیغمبرِ اسلام کی طرف سے جو یہودیوں و دیگر عرب قبائل کے ساتھ معاہدات تھے، ان کی مثالوں کو درست طور پر ان کتابوں میں اجاگر کیا گیا ہے۔ جبکہ ساتویں جماعت میں پڑھائی جانے والی زندگی کے ہنر سے متعلق کتابوں یا ثانوی درسی کتابوں میں بھی پُرامن بقائے باہمی کے اسباق کو شامل کیا گیا ہے۔
تو پس عزیزو، پیارا پاکستان ان مسلمان ممالک یا ایسی خداداد مملکت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سعودی عربیہ کے ارمغانِ حجاز ہونے کی وجہ سے یا پیٹرو طاقت بننے سے بھی سالہا سال قبل اس مقدس سرزمین، حرمین شریفین اور ہاؤس آف سعود کو اپنا کئی حوالوں سے منبعِ قبلہ بنائے ہوئے ہے۔ بلکہ چاند کے ظہور ہونے سے لے کر نظامِ اسلامی کے نفاذ اور ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی تک، خود اپنا اور تمام اسلامی اُمہ کا کعبہ اور قبلہ سعودی عرب کو سمجھتا اور سمجھاتا رہا ہے۔
خاص طور پر پاکستانی قائدین، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں، چاہے جانے والی حکومتیں، خواص اور عوام کا مینٹور و ماڈل سعودی عرب رہا۔ سعودی عرب پاکستانی معاشیات و معاشرت کی پائپ لائن بھی رہا ہے اور ہے۔ خود سعودی ترقی اور دفاع کے ایسے گلستان کی تزئین میں لہو پاکستانیوں کا ہے۔ تازہ دفاعی معاہدہ بھی اس تاج و تخت میں ایک اور ہیرا ہے۔
سعودی عرب ایک طویل عرصے سے ڈی فیکٹو فرمانروا ولی عہد، م ب س، یا محمد بن سلمان کی نوجوان قیادت میں کئی اصلاحات کی شاہراہ پر گامزن ہے، جس میں اب یہود دشمن درسی کتابوں اور انتہاپسند درس و تدریس کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا بھی جا چکا ہے، تو پاکستان، جس کا سادہ لوح عوام ہر عرب کے کفایہ کو دیکھ کر نعت پڑھنا شروع کرتا تھا یا کھجوروں کے کھوکھڑے بھی آنکھوں سے لگایا کرتا تھا، اس ملک اور عوام کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے یہ واجب ہے کہ پاکستانی اربابِ اختیار اور طاقت کے اصلی تے وڈے منبعے فرسودہ تعلیمی نظام کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اب یہود نفرت انگیز اور انتہا پسند اسباق اور درسی کتابوں کو بلیک لسٹ کر کے تعلیمی اصلاحات لائے اور اپنا قبلہ درست کرے۔
اب یہود ، مسیحی، ہندو ،سکھ نفرت انگیز اور انتہا پسند، و فرقہ وارانہ اسباق اور درسی کتابوں کو بلیک لسٹ کر کے تعلیمی اصلاحات لائے اور اپنا قبلہ درست کرے۔
"`

