• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
اداریہ

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 20, 2026Updated:اگست 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`html


اداریہ

پاکستان سعودی تعلیمی اصلاحات سے سبق سیکھے

مسلمانوں کے تاجدارِ حرم، یعنی ملکِ سعودی عربیہ، نے اپنے نظامِ تعلیم سے سال دو ہزار پچیس اور چھبیس کے لیے یہود دشمنی اور مذہبی انتہاپسندی پر مبنی مواد والی درسی کتابیں ہٹا لی ہیں۔ ایسے دقیانوسی اور خطرناک ماحول میں، جب غزہ سمیت کئی مسلمان ممالک کے تعلیمی سلسلوں سے ایسی درسی کتابیں سماج میں زہرِ ہلاہل کی طرح سرایت کر رہی ہوں، وہاں سعودی عرب جیسے ملک اور سماج میں سعودی حکومت کے یہ انتہائی بنیادی اقدامات اسلامی مسلم دنیا اور سماجوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور مشعلِ راہ ہونے چاہئیں۔

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔

عورتوں کی آزادی اور حقوق سمیت کئی اصلاحات کی شاہراہ پر رواں آج کے سعودی عرب کو اگر مسلم دنیا میں دیکھیں تو وہ تاریک جزیروں پر ایک فانوس گھر کی مانند لگے گا۔ کل تک ملائیت، کاٹھ ملائیت اور مذہبی انتہاپسندی کا منبع سعودی عرب اب زمانۂ ماضی بن چکا ہے۔ ناقابلِ یقین، آنکھوں کو خیرہ کرنے والی اصلاحات اور تبدیلیوں کی روشنیوں سے جگمگاتا ہوا سعودی عرب۔

جیسا کہ خود سعودی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی میدان سے نفرت انگیز اور انتہا پسند درسی کتابوں اور نصاب کا قلع قمع کرنا ان کے سال دو ہزار تیس کے ویژن یا تدبر کا مظہر ہے، جو وہ تعلیم سمیت ترقی کے میدانوں میں ایسی چوٹیاں عبور کرنا چاہتے ہیں۔ کم از کم ایک سو تیس درسی کتابیں تھیں جو یہود نفرت اور انتہا پسندی پر مبنی مواد اور اسباق رکھتی تھیں، جس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں یا سعودی شہریوں کی نہ جانے کتنی نسلیں نفرت انگیز شرانگیزی اور زہر سے پراگندہ ہو چکی تھیں۔

اخبار جیروشلم پوسٹ کے مطابق، اسلامی علوم کی درسی کتابوں میں بھی درست طور پر پیغمبرِ اسلام کی طرف سے جو یہودیوں و دیگر عرب قبائل کے ساتھ معاہدات تھے، ان کی مثالوں کو درست طور پر ان کتابوں میں اجاگر کیا گیا ہے۔ جبکہ ساتویں جماعت میں پڑھائی جانے والی زندگی کے ہنر سے متعلق کتابوں یا ثانوی درسی کتابوں میں بھی پُرامن بقائے باہمی کے اسباق کو شامل کیا گیا ہے۔

تو پس عزیزو، پیارا پاکستان ان مسلمان ممالک یا ایسی خداداد مملکت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سعودی عربیہ کے ارمغانِ حجاز ہونے کی وجہ سے یا پیٹرو طاقت بننے سے بھی سالہا سال قبل اس مقدس سرزمین، حرمین شریفین اور ہاؤس آف سعود کو اپنا کئی حوالوں سے منبعِ قبلہ بنائے ہوئے ہے۔ بلکہ چاند کے ظہور ہونے سے لے کر نظامِ اسلامی کے نفاذ اور ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی تک، خود اپنا اور تمام اسلامی اُمہ کا کعبہ اور قبلہ سعودی عرب کو سمجھتا اور سمجھاتا رہا ہے۔

خاص طور پر پاکستانی قائدین، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں، چاہے جانے والی حکومتیں، خواص اور عوام کا مینٹور و ماڈل سعودی عرب رہا۔ سعودی عرب پاکستانی معاشیات و معاشرت کی پائپ لائن بھی رہا ہے اور ہے۔ خود سعودی ترقی اور دفاع کے ایسے گلستان کی تزئین میں لہو پاکستانیوں کا ہے۔ تازہ دفاعی معاہدہ بھی اس تاج و تخت میں ایک اور ہیرا ہے۔

سعودی عرب ایک طویل عرصے سے ڈی فیکٹو فرمانروا ولی عہد، م ب س، یا محمد بن سلمان کی نوجوان قیادت میں کئی اصلاحات کی شاہراہ پر گامزن ہے، جس میں اب یہود دشمن درسی کتابوں اور انتہاپسند درس و تدریس کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا بھی جا چکا ہے، تو پاکستان، جس کا سادہ لوح عوام ہر عرب کے کفایہ کو دیکھ کر نعت پڑھنا شروع کرتا تھا یا کھجوروں کے کھوکھڑے بھی آنکھوں سے لگایا کرتا تھا، اس ملک اور عوام کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے یہ واجب ہے کہ پاکستانی اربابِ اختیار اور طاقت کے اصلی تے وڈے منبعے فرسودہ تعلیمی نظام کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اب یہود نفرت انگیز اور انتہا پسند اسباق اور درسی کتابوں کو بلیک لسٹ کر کے تعلیمی اصلاحات لائے اور اپنا قبلہ درست کرے۔

اب یہود ، مسیحی، ہندو ،سکھ نفرت انگیز اور انتہا پسند، و فرقہ وارانہ اسباق اور درسی کتابوں کو بلیک لسٹ کر کے تعلیمی اصلاحات لائے اور اپنا قبلہ درست کرے۔

حسن مجتبیٰ
مدیرِ اعلیٰ

"`

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکراچی کا پیرس
Next Article امریکی قومی قرض پہلی بار⁦40⁩ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
نیوز ڈیسک

Related Posts

اداریہ

خواتین کی خاموش جنگ

نومبر 1, 2026
مشرق وسطیٰ

نیوزی لینڈ نے بھی⁦UNRWA⁩کی فنڈنگ روک دی

اکتوبر 31, 2026
فیچرڈ

جب بینائی جرم ٹھہری

اکتوبر 30, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.