• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کراچی کا پیرس
مضمون/کالم

کراچی کا پیرس

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 20, 2026Updated:اگست 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
لیاری⁦|⁩خصوصی رپورٹ

لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ⁦:⁩پیرس بنانے کے خواب سے ترقیاتی بحران تک

اربوں روپے کے منصوبے کی سست روی، مبینہ ناقص منصوبہ بندی اور مقامی نمائندوں کو نظرانداز کرنے پر سوالات؛ شہریوں کو سڑکوں، سیوریج، پانی، ٹریفک اور گرد و غبار کے مسائل کا سامنا
اسحاق بلوچ

تحریر:
اسحاق بلوچ
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے آج سے کئی دہائیاں قبل لیاری کو ’’پیرس‘‘ بنانے کا خواب دکھایا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس تاریخی علاقے کی حالت سنورنے کے بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اب سندھ حکومت کی جانب سے لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے ذریعے علاقے کی بنیادی شہری سہولتوں اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن منصوبے کی رفتار، منصوبہ بندی اور شفافیت کے حوالے سے مقامی سطح پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لیاری پاکستان کے سب سے قدیم، گنجان آباد اور تاریخی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران بنیادی شہری سہولتوں کی زبوں حالی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں، ناقص سیوریج، پانی کی قلت اور بے ہنگم شہری منصوبہ بندی نے یہاں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی گزشتہ کئی برس سے سندھ میں اقتدار میں ہے اور لیاری کو پارٹی کا روایتی سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس علاقے کے لیے ایسے بڑے ترقیاتی منصوبے سامنے نہیں آسکے جو لیاری کی بنیادی شہری ضروریات کو مستقل بنیادوں پر حل کرسکتے۔

لیاری عوامی محاذ اور جمعیت علماء سندھ کا مذاکرہ

لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کی رفتار، منصوبہ بندی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے تناظر میں لیاری عوامی محاذ اور جمعیت علماء سندھ نے ’’روبرو‘‘ پروگرام کے تحت مدرسہ مظہر العلوم، کھڈہ لیاری میں ایک مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا۔

مذاکرے میں لیاری سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی، سماجی اور فکری شخصیات نے شرکت کی۔ جمعیت علماء سندھ کے صدر ڈاکٹر مفتی محمود حسن، لیاری عوامی محاذ کے ایجوکیشن سیکریٹری اے بی راٹھور، پی ٹی آئی ضلع جنوبی کے صدر یاسر بلوچ، لیاری عوامی محاذ کے عیسیٰ بلوچ، عبدالخالق زدران اور دیگر مقررین نے منصوبے کی سست روی اور اس کے مبینہ انتظامی مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔

مقررین کا مؤقف تھا کہ لیاری کی تعمیر و ترقی کے نام پر مختص رقم کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے اور مقامی آبادی کو منصوبے کی نگرانی اور فیصلہ سازی میں حقیقی نمائندگی دی جائے۔

26 ارب روپے کے منصوبے پر سوالات

مذاکرے میں مقررین نے دعویٰ کیا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے لیے تقریباً⁦26⁩ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے اب تک تقریباً⁦10⁩ارب روپے منتقل کیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق منصوبے کو چار سال کے اندر مکمل کیا جانا ہے، تاہم زمینی سطح پر کام کی رفتار انتہائی سست دکھائی دیتی ہے۔

مقررین نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ منصوبے کا سروے کرنے والی فرم لاہور سے تعلق رکھتی ہے اور پروجیکٹ کی انتظامی و تکنیکی سطح پر لیاری سے باہر کے افراد کی موجودگی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مقامی ماہرین اور منتخب نمائندوں کو منصوبہ بندی میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

مذاکرے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ منصوبہ شروع ہوئے تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود ہشت چوک سے چاکیواڑہ سیوریج پمپ تک تقریباً ایک فرلانگ حصے کی تعمیر بھی مکمل نہیں ہوسکی۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور سرکاری وضاحت اس معاملے کی مکمل تصویر سامنے لانے کے لیے ضروری ہے۔

فنڈز کے استعمال اور ٹھیکوں پر اعتراضات

مقررین نے منصوبے کے فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ منصوبے کے فنڈز میں سے⁦80⁩لاکھ روپے فیفا ورلڈ کپ کے فٹبال میچوں کی بڑی اسکرینوں پر خرچ کیے گئے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے روڈ کٹنگ کے لیے فراہم کردہ ایک ارب⁦80⁩کروڑ روپے کے حوالے سے بھی خوردبرد کے الزامات عائد کیے گئے۔

اسی طرح مذاکرے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ منصوبے میں لیاری کے ٹاؤن چیئرمین کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ مقررین نے ٹھیکے کے حوالے سے بھی مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے اور بعض ٹھیکیداروں کے سیاسی شخصیات سے مبینہ خاندانی تعلقات کا ذکر کیا۔

اہم وضاحت: مذکورہ مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکوں اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق نکات مقررین اور شرکاء کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور دعووں پر مبنی ہیں۔ ان کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ سرکاری ریکارڈ، آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار اداروں کی تصدیق سے ہوگا۔

منصوبہ ادھورا چھوڑنے کا خدشہ

مذاکرے کے مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ منصوبے کی موجودہ رفتار اور انتظامی مسائل کے باعث متعلقہ حکام منصوبے کو ادھورا چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری کی بہتری کے لیے کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف بڑے بجٹ پر نہیں بلکہ درست زمینی سروے، مرحلہ وار منصوبہ بندی، مقامی شمولیت اور شفاف نگرانی پر ہے۔

مقررین نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیاری کے نام پر مختص ہونے والی بھاری رقم کا مکمل آڈٹ اور جانچ پڑتال کرائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فنڈز صرف منظور شدہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوں۔

لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ اصل میں کیا ہے؟

دستیاب تفصیلات کے مطابق لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ سندھ حکومت کا ایک بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جس کا مقصد کراچی کے قدیم اور گنجان آباد علاقے لیاری کی بنیادی شہری سہولتوں اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

منصوبے کے دائرہ کار میں مرکزی شاہراہوں کی بحالی، زیرِ زمین سیوریج اور پینے کے پانی کی پائپ لائنز، برساتی نالوں کی تعمیر، بجلی کی لٹکتی تاروں کو زیرِ زمین منتقل کرنا اور واٹر پمپنگ اسٹیشنز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا شامل بتایا جاتا ہے۔

منصوبے کے باقاعدہ آغاز کا مرحلہ⁦2026⁩ء کے اوائل میں سامنے آیا جبکہ اس کی تکمیل کا ہدف⁦2029⁩ء مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے پر محکمہ بلدیات سندھ اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ذریعے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

فیصلہ سازی کا مرکز کون؟

منصوبے کے حوالے سے سیاسی و انتظامی فیصلہ سازی میں تین اہم عہدوں کا کردار نمایاں ہے⁦:⁩پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سندھ کے وزیرِ بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب۔

سیاسی سطح پر بلاول بھٹو زرداری کو منصوبے کی اہمیت اور پیپلز پارٹی کی ترجیحات کے تناظر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ بلدیات اور شہری سطح پر کے ایم سی کے ذریعے منصوبے کی انتظامی و تکنیکی نگرانی کی جارہی ہے۔

تاہم مقامی سطح پر سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ کیا ٹاؤن چیئرمین، یونین کونسل کے نمائندے، مقامی ماہرین اور شہری تنظیمیں فیصلہ سازی میں اتنی مؤثر شمولیت رکھتی ہیں جتنی ایک بڑے شہری منصوبے کے لیے ضروری ہے؟

مقامی نمائندوں کی عدم شمولیت

منصوبے کے ناقدین کے مطابق مقامی بلدیاتی نمائندوں، ٹاؤن چیئرمینوں اور یونین کونسل کے کونسلرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکیداروں اور صوبائی افسر شاہی کے درمیان براہِ راست رابطے کی صورت میں مقامی نمائندوں کا کردار محدود ہوجاتا ہے۔

لیاری جیسے گنجان آباد علاقے میں یہ مسئلہ مزید اہم ہوجاتا ہے کیونکہ مقامی نمائندے اندرونی گلیوں، سیوریج، پانی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق روزمرہ مسائل سے زیادہ براہِ راست واقف ہوتے ہیں۔

ہشت چوک اور چاکیواڑہ کی زمینی صورتحال

لیاری کے شہریوں کی شکایات میں سب سے نمایاں مسئلہ سڑکوں کی کھدائی اور طویل عرصے تک ان کی بحالی نہ ہونا ہے۔ ہشت چوک اور چاکیواڑہ سمیت بعض اہم راستوں پر تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث شہریوں، دکانداروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔

سڑکوں کی کھدائی کے نتیجے میں دھول اور مٹی کے باعث ماحول متاثر ہورہا ہے جبکہ کاروباری علاقوں تک رسائی مشکل ہونے سے دکانداروں کو بھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کے مطابق بعض مقامات پر گیس اور پانی کی پرانی لائنوں کو نقصان پہنچنے سے مزید مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ایک ہی وقت میں مختلف یوٹیلیٹی لائنوں کی کھدائی اور تعمیراتی کام بغیر مربوط نقشے کے کیا جائے تو ایک مسئلے کا حل دوسرے مسئلے کو جنم دے سکتا ہے۔

ٹریفک اور روزمرہ زندگی متاثر

کھدائی سے قبل متبادل راستوں اور ٹریفک مینجمنٹ کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ تنگ گلیوں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے عام گاڑیوں کے ساتھ ایمبولینس، اسکول وینز اور دیگر ہنگامی سروسز بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

ایک بڑے شہری منصوبے میں تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں، دکانداروں، رہائشیوں اور ہنگامی خدمات کے لیے متبادل راستوں اور حفاظتی انتظامات کی فراہمی بنیادی شرط ہونی چاہیے۔

منصوبہ بندی میں مقامی آواز کیوں ضروری ہے؟

سماجی کارکنوں، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اور مقامی تنظیموں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ لیاری کی اندرونی گلیوں اور محلوں کی ضروریات کو منصوبے میں کتنی اہمیت دی گئی ہے۔

ناقدین کے مطابق اگر توجہ صرف مرکزی شاہراہوں، چوراہوں اور نمایاں سڑکوں تک محدود رہی تو لیاری کے اصل شہری مسائل حل نہیں ہوں گے۔ علاقے کی بڑی آبادی تنگ اندرونی گلیوں میں رہتی ہے جہاں سیوریج، پانی، نکاسی آب اور بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔

ترقی صرف سڑکیں کھودنے اور نئی سڑکیں بنانے کا نام نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب لیاری کے ہر محلے، گلی اور گھر تک بنیادی شہری سہولتیں مؤثر انداز میں پہنچیں۔

شفافیت اور عوامی نگرانی کا سوال

منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اعتراض ٹھیکوں، ذیلی ٹھیکوں، بجٹ کی تقسیم اور ٹائم لائنز کی عوامی سطح پر دستیابی سے متعلق ہے۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے لیے معاہدوں، کام کی مدت، ٹھیکیداروں، ادائیگیوں اور پیش رفت کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اگر اربوں روپے کے منصوبے میں معلومات عام شہریوں، منتخب نمائندوں اور سول سوسائٹی کے لیے قابلِ رسائی نہ ہوں تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اس لیے منصوبے کے تمام اہم مالی اور انتظامی پہلوؤں کو عوامی نگرانی کے لیے کھولنا اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ماحولیاتی اثرات اور گرد و غبار

مسلسل کھدائی اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی دھول بھی لیاری کے شہریوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور دیگر حساس افراد کے لیے گرد و غبار ایک سنگین ماحولیاتی خطرہ بن سکتا ہے۔

بڑے شہری منصوبوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، دھول پر قابو پانے کے اقدامات، کھلی خندقوں کی حفاظتی باڑ اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے بنیادی انتظامات کا حصہ ہونے چاہییں۔

بار بار لائنیں ٹوٹنے سے دوہرا نقصان

شہری منصوبہ بندی میں مختلف یوٹیلیٹی اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہو تو سڑک کی تعمیر کے فوراً بعد پانی، گیس یا سیوریج کی لائن کے لیے دوبارہ کھدائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور شہریوں کو بھی بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیاری جیسے گنجان آباد علاقے میں اس نوعیت کی صورتحال سے بچنے کے لیے جامع یوٹیلیٹی میپنگ، مرحلہ وار تعمیر اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔

لیاری کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

مذاکرے میں سامنے آنے والی تجاویز اور شہریوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کو زیادہ شفاف، مقامی ضروریات سے ہم آہنگ اور شہری دوست بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

  • بااختیار نگرانی کا نظام: ایک ایسا نگرانی بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں مقامی ٹاؤن اور یونین کونسل کے نمائندوں، لیاری کے ماہرین و سماجی کارکنوں اور صوبائی حکومت کی متوازن نمائندگی ہو۔
  • عوامی ویب پورٹل: تمام اہم معاہدے، بجٹ، ادائیگیوں کی تفصیلات، ٹھیکیداروں کے نام اور کام مکمل کرنے کی ڈیڈ لائنز ایک عوامی ویب پورٹل پر شائع کی جائیں۔
  • مرحلہ وار کھدائی: تمام اہم چوراہوں اور راستوں کو بیک وقت کھودنے کے بجائے ’’ایک حصہ کھودو، لائن بچھاؤ، سڑک بحال کرو اور پھر آگے بڑھو‘‘ کی پالیسی اپنائی جائے۔
  • اندرونی گلیوں پر توجہ: ترقیاتی بجٹ کا نمایاں حصہ مرکزی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ لیاری کی اندرونی گلیوں کے سیوریج، پانی اور نکاسی آب کے مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جائے۔
  • محفوظ راستے: تعمیراتی مقامات پر روزانہ پانی کا چھڑکاؤ، مناسب حفاظتی رکاوٹیں، کھلی خندقوں کی حفاظت اور پیدل چلنے والوں کے لیے عارضی محفوظ پل یقینی بنائے جائیں۔
  • مقامی نمائندگی: ٹاؤن چیئرمین، یونین کونسل کے نمائندوں، مقامی ماہرین اور شہری تنظیموں کو منصوبے کی نگرانی اور ترجیحات طے کرنے کے عمل میں شامل کیا جائے۔

پیرس کا خواب اور لیاری کا مستقبل

ذوالفقار علی بھٹو کا لیاری کو ’’پیرس‘‘ بنانے کا خواب کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا۔ آج لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ ایک نئے موقع کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ شفافیت، درست منصوبہ بندی، مقامی شمولیت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ مکمل کیا جائے تو لیاری کی شہری زندگی میں حقیقی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

لیکن اگر اربوں روپے کا یہ منصوبہ ناقص منصوبہ بندی، سست روی، سیاسی مداخلت، مبینہ بے ضابطگیوں اور مقامی آبادی کو نظرانداز کرنے کی نذر ہوگیا تو لیاری کے شہریوں کے لیے یہ منصوبہ سہولت کے بجائے مزید مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

لیاری کے عوام کو ایک ایسے منصوبے کی ضرورت ہے جو صرف مرکزی شاہراہوں کی ظاہری خوب صورتی تک محدود نہ ہو بلکہ ہر محلے، ہر گلی اور ہر گھر کی بنیادی ضرورت کو سامنے رکھے۔ ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد لیاری کے شہری اپنی روزمرہ زندگی میں حقیقی بہتری محسوس کریں۔

لیاری کو ’’پیرس‘‘ بنانے کا خواب نعروں سے نہیں، شفاف منصوبہ بندی، جواب دہی، مقامی شمولیت اور زمین پر مکمل ہونے والے کام سے پورا ہوگا۔
تحریر: اسحاق بلوچ
ڈس کلیمر:نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
اسحاق بلوچ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleزندہ ہے ضیاء، زندہ ہے
Next Article یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.